قومی خبریں

مسافروں کے ہجوم سے نمٹنے کے لیے 18 ہزار خصوصی ٹرینیں چلیں

نئی دہلی، (یواین آئی) ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے تہواروں کے موقع پر ریل مسافروں کے ہجوم سے نمٹنے کے انتظامات کی مسلسل گہری نگرانی اور جائزے کی بنیاد پر ہفتہ کے روز یہاں کہا کہ ریلوے کی تیاریاں پہلے کے مقابلے میں اب بہتر سطح پر پہنچ چکی ہیں اور مسافروں کی سہولت میں اضافہ ہوا ہے۔ ریلوے نے ہجوم سے نمٹنے کے لیے اس سال کے تہواری سیزن میں 18 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی ہیں۔مسٹر ویشنو نے یہاں ریل بھون میں مسافروں کے ہجوم کے انتظام کے لیے ریلوے وار روم کے نام سے قائم مرکزی ڈیجیٹل نگرانی نظام کا صحافیوں کو مشاہدہ کراتے ہوئے کہا، خصوصی طور پر درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ کا موقع ہندوستانی ریلوے کے لیے انتہائی مصروف وقت ہوتا ہے۔ ہم ہر سال انتظامات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں آج ہماری تیاریاں پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر سطح پر پہنچ چکی ہیں۔گزشتہ سال اسی مدت کے دوران چلائی گئی تقریباً 12 ہزار خصوصی ٹرینوں کے مقابلے میں اس تہواری سیزن میں تقریباً 18 ہزار اضافی خصوصی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں۔ وار روم سے ہجوم کی صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے ہر گھنٹے ہیٹ میپ کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس میں سبز رنگ ہجوم کی معمول کی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اہم اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر سبز پٹی کا پیلا ہونا ہجوم بڑھنے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ مانیٹر پر پٹی کا سرخ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہجوم کی سطح قابو کی حد سے بڑھ گئی ہے۔مسٹر ویشنو نے کہا، ہم ایک لائیو ہیٹ میپ بھی چلاتے ہیں۔ آپ یہاں جو دیکھ رہے ہیں، وہ ہمارا وار روم ہے، جو 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کام کرتا ہے۔ یہاں ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف)، آپریشنز، مکینیکل اور الیکٹریکل مینٹیننس محکموں کی ٹیمیں تعینات رہتی ہیں۔ میں خود سمیت تمام سینئر افسران باقاعدگی سے اس سہولت کا دورہ کرتے ہیں۔ریلوے کے وزیر نے کہا، چاہے ہجوم کے انتظام کی بات ہو، خصوصی ٹرینوں کے آپریشن کی یا مسافروں کے لیے مخصوص ہولڈنگ ایریا (انتظار گاہ) تیار کرنے کی، تمام انتظامات میں کافی بہتری آئی ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں پر ہولڈنگ ایریا تیار کیے گئے ہیں، جہاں مسافر اپنی ٹرین آنے تک آرام سے انتظار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان بہتر انتظامات اور ریکارڈ تعداد میں خصوصی ٹرینوں کے آپریشن کے ذریعے ہندوستانی ریلوے نے مسافروں کو منتقل کرنے کی اپنی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ مالی سال تقریباً 75 ہزار خصوصی ٹرینیں چلائی گئی تھیں، جبکہ رواں مالی سال یہ تعداد 80 ہزار سے تجاوز کرنے والی ہے۔مسافروں کی سہولت کے لیے اہم اسٹیشنوں پر ٹکٹ کاؤنٹروں کو اسٹیشن عمارتوں کے اندر سے ہٹا کر ہولڈنگ ایریا میں منتقل کیا گیا ہے، تاکہ مسافر آسانی سے ٹکٹ خرید سکیں۔ اس کے علاوہ ایک ساتھ زیادہ مسافروں کی اسکریننگ اور طویل قطاروں سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں اسکریننگ کاؤنٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اہم اسٹیشنوں پر تقریباً 700 اے آئی پر مبنی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں۔مسٹر ویشنو نے کہا، چھٹھ ہندوستانی ریلوے کے سب سے مصروف اوقات میں سے ایک ہے اور اس دوران مسافروں کے بھاری ہجوم کو سنبھالنے کے لیے وسیع تیاریاں کی گئی ہیں۔ ان تیاریوں کا آغاز چھ ماہ پہلے ہی کر دیا گیا تھا۔اس کے تحت ریلوے کوچوں کی مناسب دیکھ بھال، ہر ریلوے زون سے کتنی ٹرینیں چلائی جائیں گی اور کن ڈویژنوں کو ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی جائے گی، جیسے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے منصوبہ بندی کی گئی۔
ان تمام معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد انتظامات کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا، ہمارے انتظامات اب پہلے سے کافی بہتر ہو چکے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں کے تجربات اور ان سے حاصل ہونے والے اسباق کی بنیاد پر آنے والے سال میں بھی انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔دہلی میں شکور بستی، حضرت نظام الدین اور آنند وہار ٹرمینل پر خصوصی ٹرینیں تیار رکھی گئی ہیں۔ تہواری سیزن کے دوران مسافروں کے ہجوم کی مسلسل نگرانی اور انتظام کیا جائے گا تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ریلوے کے وزیر نے کہا،عام دنوں میں دہلی میں روزانہ تقریباً پانچ لاکھ مسافروں کی آمد و رفت ہوتی ہے، لیکن تہواری سیزن میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً آٹھ لاکھ ہو جاتی ہے۔ یکم اکتوبر سے 5 نومبر کے درمیان تقریباً دو کروڑ مسافروں نے ریل سفر کیا۔مسٹر ویشنو نے عوام سے اس موقع پر ریلوے کے بارے میں وائرل کیے جا رہے گمراہ کن ویڈیوز سے متاثر نہ ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، میں سب سے یہ اپیل بھی کرنا چاہوں گا کہ اپوزیشن کی جانب سے پھیلائے جا رہے گمراہ کن ویڈیوز سے گمراہ نہ ہوں۔ عوام میں الجھن پیدا کرنے کے مقصد سے تقریباً 78 پرانے ویڈیوز پوسٹ کیے جانے کا الزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ویڈیوز جاری کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ریلوے کے وزیر نے ریل خدمات میں بہتری کے لیے لوگوں سے تجاویز بھی طلب کیں۔ اس تہواری سیزن میں دہلی کے اہم اسٹیشنوں پر روزانہ اوسطاً تقریباً پانچ لاکھ مسافر آتے ہیں، لیکن تہواروں کے اس سیزن میں یہ تعداد بڑھ کر آٹھ لاکھ تک پہنچ گئی۔دریں اثنا، ریلوے کی جانب سے جمعہ کی شام جاری ایک بیان کے مطابق، نئی دہلی (این ڈی ایل ایس)، پرانی دہلی، آنند وہار ٹرمینل (اے این وی ٹی)، حضرت نظام الدین اور سرائے روہیلا سمیت دہلی کے اہم ریلوے اسٹیشنوں پر یکم اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک تقریباً دو کروڑ مسافروں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ اس دوران انتہائی مصروف اوقات میں یہ تعداد بڑھ کر روزانہ اوسطاً تقریباً آٹھ لاکھ ہو گئی۔اسی طرح ممبئی میں باندرہ ٹرمینس، لوکمانیہ تلک ٹرمینس (ایل ٹی ٹی) اور چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس (سی ایس ایم ٹی) سمیت ممبئی خطے کے اہم ریلوے اسٹیشنوں پر یکم اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ مسافروں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ یہاں روزانہ اوسطاً تقریباً چار لاکھ مسافر آتے ہیں، لیکن یکم سے 5 نومبر 2026 کے انتہائی مصروف عرصے کے دوران یہ تعداد بڑھ کر روزانہ اوسطاً تقریباً پانچ لاکھ ہو گئی۔سکندرآباد، کاچی گوڑہ اور چارلا پلی سمیت حیدرآباد خطے کے ریلوے اسٹیشنوں پر یکم اکتوبر سے 5 نومبر 2026 کے درمیان تقریباً 90 لاکھ مسافروں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ یہاں روزانہ اوسطاً تقریباً ڈھائی لاکھ مسافر آتے ہیں، لیکن یکم سے 5 نومبر 2026 کے انتہائی مصروف عرصے کے دوران یہ تعداد بڑھ کر روزانہ اوسطاً تقریباً چار لاکھ ہو گئی۔بنگلورو سٹی، سر ایم وشویشوریا ٹرمینل (ایس ایم وی بی)، یشونت پور اور یلہنکا سمیت بنگلورو خطے کے ریلوے اسٹیشنوں پر یکم اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک مجموعی طور پر تقریباً ایک کروڑ مسافروں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ یہاں روزانہ اوسطاً تقریباً ڈھائی لاکھ مسافر آتے ہیں، لیکن یکم سے 5 نومبر 2026 کے انتہائی مصروف عرصے کے دوران یہ تعداد بڑھ کر روزانہ اوسطاً تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہو گئی۔سورت اور اُدھنا ریلوے اسٹیشنوں پر یکم اکتوبر سے 5 نومبر 2026 تک مجموعی طور پر تقریباً 50 لاکھ مسافروں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ یہاں روزانہ اوسطاً تقریباً ایک لاکھ مسافر آتے ہیں، لیکن یکم سے 5 نومبر 2026 کے انتہائی مصروف عرصے کے دوران یہ تعداد بڑھ کر روزانہ اوسطاً تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار ہو گئی۔