اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے امکانات میں اضافہ
صدر اسحاق ہرزوگ نے نیتن یاہو کے اہم حریف گادی آئزینکوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی پہلی دعوت دی
تل ابیب: اسرائیل میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ پارلیمانی انتخابات میں کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ نے نیتن یاہو کے اہم حریف گادی آئزینکوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی پہلی دعوت دی ہے۔ صدر نے 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں کامیاب جماعتوں سے کئی روز کی مشاورت کے بعد ہفتہ کی شب اس فیصلے کا اعلان کیا۔
یہ فیصلہ نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، جن کے اتحاد کی نشستیں 68 سے گھٹ کر 53 رہ گئی ہیں۔ دوسری جانب آئزینکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملی ہیں، جب کہ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ نیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔
آئزینکوٹ کو حکومت سازی کے لیے 28 دن کا وقت دیا جائے گا، جس میں صدر مزید دو ہفتوں کی توسیع بھی کر سکتے ہیں۔ اس دوران انہیں مختلف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے لیے پیچیدہ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ ان کے سامنے عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے، انتہائی قدامت پسند یہودی جماعتوں سے سمجھوتہ کرنے یا نیتن یاہو کے ساتھ قومی اتحاد کی حکومت بنانے جیسے امکانات موجود ہیں۔
تاہم ان تمام راستوں میں سیاسی رکاوٹیں ہیں۔ آئزینکوٹ کے کئی اتحادی عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کے مخالف ہیں، جب کہ انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتیں اپنے نوجوانوں کو لازمی فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آئزینکوٹ انتخابی مہم کے دوران فوجی خدمات میں مساوات اور مذہبی طبقے کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔
