Featured

اسرائیلی صدر ہرزوگ نے انتخابی نتائج تسلیم کر لیے، نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مشاورت شروع

یروشلم،  (یو این آئی) اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے مصدقہ نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے امیدوار کا انتخاب کرنے کی غرض سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔
بدھ کو صدر کے اس اقدام سے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی کوششوں کو دھچکہ لگا ہے۔ انتخابات میں نیتن یاہو اور ان کے اتحادی 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے، جبکہ عرب قیادت والی جماعتوں نے تاریخی کامیابی حاصل کی۔
ہرزوگ نے کہا، ”انتخابات ختم ہو چکے ہیں۔ اب حقیقت کا سامنا کرنے کا وقت ہے۔”
27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں نہ تو نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی ان کے اہم حریف اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کا اتحاد حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کر سکا۔ نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 جبکہ آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔اس صورت حال میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اتحاد یا آئزن کوٹ کی عرب قیادت والی جماعتوں ‘رعام’ اور ‘جوائنٹ لسٹ’ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکانات موجود ہیں۔ ان دونوں جماعتوں نے مجموعی طور پر ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔
صدر ہرزوگ نے بدھ کی شب سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے پہلے دن کا اختتام کیا اور کہا کہ یہ عمل جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔
صدر کے مطابق انہوں نے بدھ کو ریلیجس صہیونزم، زیہوت، شاس اور اسرائیل بیتینو دھڑوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ ہرزوگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ انہوں نے ان جماعتوں سے اس رکن پارلیمنٹ کے نام کے بارے میں سفارشات حاصل کی ہیں، جسے حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی جانی چاہیے۔
نیتن یاہو کے مذہبی قوم پرست حلقے سے وابستہ تین جماعتوں نے وزیر اعظم کو ایک بار پھر مخلوط حکومت بنانے کا موقع دینے کی سفارش کی، جبکہ چوتھی جماعت نے، جس کی قیادت نیتن یاہو کے سابق اتحادی اور اب حریف رہنما کر رہے ہیں، آئزن کوٹ کی حمایت کی۔
جمعرات کو مزید آٹھ جماعتوں کے رہنماؤں کی صدر سے ملاقات طے ہے، جن میں عرب قیادت والی دونوں جماعتیں بھی شامل ہیں۔ آئزن کوٹ کی جماعت ‘یاشار’ اور نیتن یاہو کی ‘لکڈ’ سب سے آخر میں صدر سے ملاقات کریں گی۔آئزن کوٹ کے حکومت سازی کے امکانات اس وقت بہتر ہوئے جب عرب قیادت والی اہم جماعت رعام نے ان کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیلی خبر رساں ویب سائٹ ‘وائی نیٹ’ کے مطابق اس فیصلے کے بعد آئزن کوٹ کو 56 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے، تاہم یہ تعداد اکثریت سے کم ہے۔
دوسری عرب قیادت والی جماعت جوائنٹ لسٹ نے ابھی تک اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق امکان ہے کہ یہ جماعت آئزن کوٹ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گی اور ان کی درخواست پر حمایت کرے گی یا ان کی ترجیح کے مطابق ووٹنگ سے غیر حاضر رہے گی۔ اس جماعت کی 11 نشستیں آئزن کوٹ کو 61 کے مطلوبہ اعداد و شمار سے آگے پہنچا سکتی ہیں۔اس کے برعکس نیتن یاہو کے 53 رکنی اتحاد کو بھی تمام 53 ارکان کی حمایت ملنے کا امکان نہیں ہے۔