Featured

پیراگوئے میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ- سینیٹ میں سینٹیاگو پیناکے خلاف مواخذے کی تحریک منظور

پیراگوئے کی سینیٹ نے صدر  سینٹیاگو پینا کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یواینو بینک گھوٹالے کے الزامات میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی چل رہی تھی، جس کے بعد سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی۔ اس ووٹنگ میں موجود تمام 44 سینیٹرز نے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق استغاثہ نے ’یواینو بینک‘ کے دیوالیہ ہونے سے متعلق خیانت اور دیگر جرائم کے الزامات میں معزول صدر کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔پیراگوئے کی سینیٹ نے صدر  سینٹیاگو پینا کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یواینو بینک گھوٹالے کے الزامات میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی چل رہی تھی، جس کے بعد سینیٹ میں ووٹنگ ہوئی۔ اس ووٹنگ میں موجود تمام 44 سینیٹرز نے صدر کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق استغاثہ نے ’یواینو بینک‘ کے دیوالیہ ہونے سے متعلق خیانت اور دیگر جرائم کے الزامات میں معزول صدر کو حراست میں لینے کا حکم دیا ہے۔

مقامی اخبار ’اے بی سی کلر‘ کے مطابق یہ حکم بینکنگ گھوٹالے کی جانچ کر رہی 4 استغاثہ افسران کی ایک ٹیم نے جاری کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے قومی پولیس کو بھیج دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق پینا پر پرائیویٹ بینک سے وابستہ مفادات کے ٹکراؤ، قواعد میں ردوبدل اور پنشن فنڈ کے غلط استعمال کے الزامات ہیں۔

’یواینو بینک‘ معاملے میں افسران کی مداخلت کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے درمیان پینا نے جمعرات کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے مواخذے سے بچنے کے لیے ایسا کیا۔ سینیٹ نے ان کے استعفیٰ کے خلاف 24-20 سے ووٹ دیا، لیکن کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں یہ کارروائی مکمل نہیں ہو سکی، کیونکہ اراکین کے ایوان سے باہر چلے جانے کے باعث کورم (کارروائی کے لیے ضروری کم از کم تعداد) پورا نہیں ہو پایا۔