تل ابیب، (یو این آئی) اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی موت کی افواہوں کے دوران ان کی جاری کردہ مشکوک ویڈیوز معاملے کو مزید مزید مشکوک بنا رہی ہیں۔ایران کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایک حملے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا اور نیتن یاہو کے اس دوران منظر عام سے غائب رہنے نے اس خبر کو مزید تقویت دی۔اسرائیل کی سکیورٹی میٹنگ اور اس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم نظر نہیں آئے جس پر افواہوں نے مزید زور پکڑلیا۔ جس پر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان میں تمام افواہوں کو غلط قرار دیا گیا۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم کی ہلاکت کی تیزی سے پھیلتی خبروں کے درمیان 12 مارچ کو نیتن یاہو کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کو دھمکیوں بھرا ایک ویڈیو بیان جاری کیا۔ تاہم اس ویڈیو میں ان کی ایک ہاتھ میں چھ انگلیاں نظر آئیں، جس کو لوگوں نے فوری نوٹ کیا اور اس ویڈیو کو اے آئی سے بنائی گئی ایک جعلی ویڈیو قرار دیا۔مذکورہ ویڈیو کے صارفین کی جانب سے جعلی قرار دے کر مسترد کیے جانے کے بعد گزشتہ روز نیتن یاہو نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ویڈیو جاری کی نیتن یاہو کی ایک اور ویڈیو جاری کی گئی، مگر وہ بھی مشکوک قرار دی جا رہی ہے۔اس ویڈیو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک کیفے شاپ کے کاؤنٹر سے کافی لیتے ہوئے نظر آئے۔ وہ عبرانی زبان میں اپنے مرنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں کافی پر مر گیا ہوں‘‘۔ اس دوران وہ اپنے دونوں ہاتھ بھی اٹھا کر دکھاتے ہیں کہ ان کی کُل 10 انگلیاں ہیں۔تاہم اس ویڈیو میں سب سے زیادہ اچھنبے کی بات ہے، وہ کافی سے لبالب بھرا کپ۔نیتن یاہو جب اس کپ کو اٹھاتے اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں لیتے ہیں تو یہ حیران کن طور پر چھلکتا نہیں ہے بلکہ کافی کی سطح ہلنے کے بجائے منجمد دکھائی دیتی ہے۔
