• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مئی 19, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

سیدنا ابراہیم ؑ کی زندگی آزمائش،صبر اور استقامت کا مرقع ہے

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 19, 2026
0 0
A A
سیدنا ابراہیم ؑ کی زندگی آزمائش،صبر اور استقامت کا مرقع ہے
Share on FacebookShare on Twitter

ذی الحج کا مہینہ انسانی تاریخ میں بہت اہمیت کاحامل ہے۔یہ مہینہ جس پیغمبر کے نام اور کارناموں سے وابستہ ہے اسے آج بھی دنیا کے تین بڑے مذاہب احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مسلمانوں کے لیے ان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمان ہر نماز میں اس پیغمبر پر درودو سلام بھیجتے ہیں۔ان کا نام نامی ہے ’’سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام‘‘۔آپ کو عیسائی،یہودی اور مسلمان پیغمبر تسلیم کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم ؑ وہ جلیل القدر پیغمبر ہیں جن کو اللہ نے ساری دنیا کا امام بنایا،ان کو خلیل کے لقب سے نوازا ۔ان کی زندگی کو امت محمدیہ کے لیے اسوہ قرار دیا گیا۔ فرمایا گیا ’’تمہارے لیے ابراہیم کی زندگی ایک اسوہ (نمونہ) ہے‘‘ (ممتحنہ ۔2)حضرت ابراہیم ؑ کو یہ اعزا ز اور مقام اس لیے حاصل ہوا کہ انھوں نے اللہ کے لیے مخلص ہوکر، ایثار و قربانی کی محیرالعقول مثالیں پیش کیں۔خدا کی محبت میں آگ میں جلنا منظور کیا،گھر سے نکلنا گوارہ کیا،بیوی بچوں کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنا برداشت کیا،ننھے اسماعیل کی گردن پر چھری چلانے کی ہمت دکھائی۔ان میں سے ہر امتحان اتنا سخت ہے کہ ’’فرشتے مبتلائے آزمائش ہوں تو چینخ اٹھیں‘‘۔ حضرت ابراہیم ؑ ایک ذی حیثیت گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کا باپ حکومت میں اثر و رسوخ رکھتا تھا۔مگرحضرت ابراہیم ؑ نے تلاش حق اور حق مل جانے کے بعد حفاظت حق اور اشاعت حق کی خاطر ہر طرح کے مصائب برداشت کیے ۔
سیدنا ابراہیم ؑ کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ترقی ،بلندی اورکامیابی امتحان و آزمائش سے گزرنے کے بعد ملتی ہے۔حضرت ابراہیم ؑ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان امتحانات میں وہ تنہا کامیاب نہیں ہوئے بلکہ ان کی بیوی حضرت ہاجرہ ؑ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ بھی کامیاب ہوئے۔اللہ نے ان دونوں کو بھی تا قیامت فضیلت عطا فرمائی۔اس کا مطلب ہے کہ اگر امتحان میں اہل و عیال بھی ساتھ دیں تو امتحان دینا آسان ہوجاتا ہے اور اللہ انھیں بھی سربلندی عطا فرماتا ہے۔
ذی الحج کا مہینہ ایک طرح سے حضرت ابراہیم ؑ کا مہینہ ہے ۔اس مہینہ میں حج کا فریضہ ادا کیا جاتا ہے۔حج کی ایک ایک ادا خاندان براہیمی کی اولو العزمی،جاں نثاری اور استقامت کی علامت ہے۔احرام ،تلبیہ ، سعی، طواف، منیٰ، مزدلفہ، سنگ باری اور قربانی میں سے ہر چیز ہر سال یہ یاد دلاتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا طریقہ کیا ہے؟ان کا اسوہ کیا ہے؟ان کا راستا کیا ہے؟مگر امت کی بدنصیبی ہے کہ ہر سال لاکھوں لوگ حج کا فریضہ اداکرتے ہیں ،کروڑوں جانوروں کے گردن پر چھری چلائی جاتی ہے مگر ہرسال امت ایک قدم آگے بڑھنے کے بجائے دوقدم پیچھے ہٹ جاتی ہے۔تمام ارکان وہی اداکیے جاتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ نے ادا کیے تھے،انھیں مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جہاں حضرت ابراہیم ؑ نے ادا کیے تھے،مگر بے شعوری کے ساتھ ادا ہونے والے ارکان کا انجام پسپائی اورجگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
اس وقت ملت اسلامیہ جن حالات سے دوچار ہے اوراس پر ہر طرف سے جس قسم کی یلغار ہے،ملکی و عالمی سطح پراس کی بربادی کے جو مشورے ہورہے ہیں ،ان کا مقابلہ حضرت ابراہیم ؑ کے نقش قدم پرہی چل کر کیا جاسکتا ہے ۔اسی ایمانی جذبہ کے ساتھ کیا جاسکتا ہے جو سیدنا ابراہیم ؑ کا تھا۔اسی اعلان کے ساتھ کیا جاسکتاہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے کیا تھا کہ’’میں نے ہر طرف سے منھ موڑ کر کامل یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ زمین و آسمان کے خالق کی جانب کرلیا۔ میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں، (الانعام ۔79)بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا اللہ ہی کے لئے ہے، جو سارے جہان کاپالنے والا ہے۔(الانعام ۔162)‘‘
لیکن قدم قدم پر شرک کرنے والی امت خدائے واحد کی علم برداری کا حق کس طرح ادا کرسکتی ہے۔اپنے معاملات میںخدا سے منھ موڑنے والی قوم ،خدا کی آقائی کا دم کس طرح بھرسکتی ہے؟فرقہ بندیوں میں جکڑی ہوئی ملت کو کسی دشمن کی کیا ضرورت ہے ؟جس کی نمازیں ریاکارانہ ہوں ،جس کے روزے جسم کو فربہی عطا کر تے ہوں،جس کا حج ایک پکنک ہو،جس کا جینا پیسے کے لیے ہو اور جو مرنے کے نام سے گھبراتی ہو اس قوم کو رسوائی سے کون بچا سکتا ہے؟
ملت کے قائدین ہمیں یہ کہہ کہہ کے تسلی دے رہے ہیں کہ یہ حالات اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں ۔ ہم حضرت ابراہیم ؑ کی طرح آزمائے جارہے ہیں ،ہمارے واعظین چینخ چینخ کر کہہ رہے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کا امتحان ہے؟مگریہ ہماری غلط فہمی اور بھول ہے۔اس لیے کہ آزمائش اور امتحان تو ان طلبہ کا ہوتا ہے جنھوں نے اسکول جوائن کیاہو ،تعلیم حاصل کی ہو ،ہوم ورک مکمل کیا ہو،ان کی حاضری کی شرح بھی بہتر ہو۔رہے وہ طالب علم جنھوں نے اسکول میں نام ہی نہ لکھایا ہو ،یا نام لکھا کر اسکول کا منھ تک نہ دیکھا ہو۔جنھیں اپنی کتاب کا ایک صفحہ یاد ہونا تو دور کتاب کا نام تک نہ جانتے ہوں،انھیں کون امتحان میں بیٹھا سکتا ہے۔؟امتحان تو ان لوگوں کا ہوگا جو اللہ پر ایمان لائے،جو اللہ سے کیے ہوئے عہد پر قائم رہے۔جنھوں نے اپنے مال اور جان کا سودا جنت کے بدلے کردیا ہو۔سچ بات یہ ہے کہ ہم عذاب دیے جارہے ہیں۔ہم سزا بھگت رہے ہیں۔ہمیں توبہ کرنی چاہئے اورخود کو امتحان میں بیٹھنے کے لائق بنانا چاہئے۔
ذی الحج کے اس مہینے میں ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے۔اپنے ایمان کا بھی اور عمل کا بھی ۔مجھے ساری دنیا کا حال تو نہیں معلوم لیکن اپنے گرد و پیش اوراپنے ملک کے بارے میں عرض کردوں کہ ہم مسلمانوں کو اللہ پر جتنا ایمان ہے ،غیر مسلموں کو اس سے زیادہ اپنے معبودوں پر ہے۔ہم زبان سے کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا خالق،مالک ،رب اوررازق ہے مگر عملی طور پر اسے رازق اور رب نہیں مانتے۔اگر اسے پالنہار اور رازق مانتے تو اپنے کاروبار اور حصول رزق کی سرگرمیوں میں دھوکا،فریب،بے ایمانی کیوں کرتے؟ کم کیوں تولتے ، کم کیوں ناپتے؟ ملاوٹ کیوں کرتے؟اگر ہم اسے خالق مانتے تو اولاد کی تمنا میں غیر اللہ کے آستانوں پر سر کیوں جھکاتے،علاج کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔مگر ٹونے ٹوٹکوں کا سہارا کیوں لیتے؟ اللہ سے محبت ہے تو موت سے خو ف کیوں ہے ،موت تو محبوب سے ملاقات کا وسیلہ ہے۔جانور کی قربانی اگر جذبۂ ایثار کی افزائش کے لیے ہے تو ہماری عملی زندگی میں ایثار کہاں ہے؟ ایثار یہ نہیں کہ باسی روٹی سالن،پھٹے پرانے کپڑے کسی بھوکے ننگے کو دے دیے ۔ایثار یہ ہے کہ اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی ضرورتیں پوری کی جائیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کا سب سے روشن پہلو ان کا ایمان ہے اورہمارا سب سے تاریک پہلو اگر کوئی ہے تو وہ ایمان ہے ۔ جسے بھی دیکھیے اپنی دنیا کو لے کر فکرمند ہے ،کسی کو اولاد کا غم ،کسی کو کاروبار کا غم۔ہر فرد کو ٹینشن کی بیماری ہے ۔حالانکہ ایک مومن کو ٹینشن اور ڈپریشن کی بیماری نہیں ہوسکتی ،ایمان اور ٹینشن ایک ساتھ نہیں رہ سکتے،پیارے نبی ؐ نے کتنی پیاری بات فرمائی۔’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے آسودہ حالی ملتی ہے اور اس پر وہ شکر کرتا ہے تو یہ شکر کرنا اس کے لیے باعث خیر ہے اور اگر اسے کوئی تنگی لاحق ہوتی ہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے باعث خیر ہے‘‘۔ (مسلم)۔اللہ پر ایمان رکھنے والے کے چہرے پر مایوسی کے آ ثار کبھی نہیں دکھائی دیتے،انھیں تقدیر اور قسمت سے کبھی شکایت نہیں ہوتی،پست ہمتی،کم ہمتی ان کے پاس سے نہیں گزرتیں ۔انھیں کوئی خوف زدہ نہیں کرسکتا ۔کیوں کہ وہ اس ذات پر ایمان رکھتے ہیں جس کے ہاتھوں میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
Hamara Samaj

© Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance

© Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

ADVERTISEMENT