نینی تال، (یو این آئی) اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں کچھ عرصہ قبل بحث کا مرکز بننے والے محمد دیپک کے خلاف درج مقدمے کو منسوخ کرنے اور ملزمان کے خلاف کارروائی کے معاملے میں ہائی کورٹ نے حکومت سے صورتحال واضح کرنے کو کہا ہے۔ دیپک کمار جو محمد دیپک کے نام سے بھی مشہور ہیں، کی درخواست پر جسٹس راکیش تھپلیال کی بنچ میں سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کی جانب سے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے اور دیگر ملزم نوجوانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ محمد دیپک کا موقف ہے کہ ان کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر غلط ہے اور پولیس اصل ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی، یہاں تک کہ ان کی شکایت پر مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس نے کچھ ملزمان کی نشاندہی کر لی ہے اور کارروائی جاری ہے۔ فی الحال عدالت نے حکومت کو پورے معاملے پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔واضح رہے کہ محمد دیپک رواں سال جنوری میں اس وقت منظرِ عام پر آئے تھے جب کچھ نوجوانوں نے ایک مخصوص کمیونٹی کے دکاندار کی دکان کا نامبابارکھنے پر اعتراض کیا تھا اور اسے بدلنے کا مطالبہ کیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پڑوس میں جم ٹرینر کے طور پر کام کرنے والے دیپک کمار نے نوجوانوں کی اس حرکت کی مخالفت کی تھی۔
