
بہار کی سیاست ہمیشہ ایک دلچسپ، پیچیدہ اور تغیر پذیر منظرنامہ رہی ہے۔ یہاں کے عوام نے بارہا اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی ہوش رکھتے ہیں بلکہ وقت آنے پر اپنی رائے کا اظہار بڑے زور و شور سے کرتے ہیں۔ ایسے میں جب وزیراعلیٰ نیتیش کمار نے عین انتخاب کی تاریخ کا اعلان ہونے سے قبل یہ بیان دیا کہ
“کارکنان گھر-گھر جائیں، عوام کو ترقی اور سرکاری اسکیموں کی جانکاری دیں، اور براہ راست رابطے کو انتخابی کامیابی کی کلید سمجھیں”
تو یہ بات سیاسی مبصرین کے لیے بھی باعث توجہ بن گئی۔ سوال یہ ہے کہ یہ بیان محض ایک رسمی انتخابی اپیل ہے یا پھر بدلتے حالات میں ایک سنجیدہ حکمتِ عملی؟ بہار میں اگلے اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ گرمی ابھی سے بڑھنے لگی ہے، جلسے جلوسوں کی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے، اور سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ترکش کے تیروں کو آزمانے میں لگی ہیں۔ ایسے ماحول میں نیتیش کمار کا یہ کہنا کہ عوام تک پہنچنا سب کامیابی کی شاہ کلید ہے ۔بظاہر ایک سیدھی سی بات لگتی ہے، مگر حقیقت میں اس کے کئی پہلو ہیں۔
پچھلے دو دہائیوں سے بہار کی سیاست میں نتیش کمار کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔ انہوں نے اپنی شبیہ ایک ’وکاس پوروش‘ (مرد ترقی) کے طور پر بنائی۔ سڑکیں ہوں، بجلی کی فراہمی ہو یا تعلیمی اداروں کا جال، انہوں نے بہار کے ڈھانچے میں قابل ذکر تبدیلیاں لانے کی کوشش کی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، لوگوں کی توقعات بھی بدلتی ہیں۔ جو عوام کبھی بنیادی سہولتوں کے منتظر تھے، آج بہتر روزگار، معیاری تعلیم اور پائیدار ترقی چاہتے ہیں۔
اگر بہار کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو عوامی رابطہ ہمیشہ انتخابی کامیابی کی بنیاد رہا ہے۔ چاہے وہ جے پرکاش نارائن کی تحریک ہو، لالو پرساد یادو کا زمین سے جڑا ہوا انداز، یا پھر نیتیش کمار کا ترقیاتی بیانیہ ۔ سب نے عوام تک براہ راست رسائی کو ہتھیار بنایا۔مگر آج کے دور میں یہ کام محض جلسوں یا ریلیوں سے ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے عوامی رابطے کے دائرے کو بدل ڈالا ہے۔ ایسے میں جب نتیش کمار اپنے کارکنان کو گھر-گھر جانے کی تاکید کرتے ہیں، تو یہ دراصل انتخابی ریاضی کے اس نکتہ کو سمجھنے کا نتیجہ ہے کہ ہر ووٹر سے براہ راست بات کرنا اب بھی سب سے زیادہ مؤثر ہے۔نیتیش کمار نے اپنے دور حکومت میں کئی فلاحی اسکیمیں نافذ کیں۔ مثلاً سائیکل یوجنا، لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اسکالرشپ، پنچایتی راج میں خواتین کو ریزرویشن، شراب بندی قانون وغیرہ۔ ان اقدامات نے ان کی شبیہ کو خاصا مضبوط کیا۔ لیکن دوسری طرف، زمینی حقیقت ہمیشہ وہ نہیں رہی جو کاغذوں پر دکھائی جاتی ہے۔دیہی علاقوں میں آج بھی بجلی کی کٹوتی اور روزگار کی قلت بڑے مسائل ہیں۔شراب بندی کے باوجود غیر قانونی شراب کا کاروبار جاری ہے۔تعلیم کے معیار پر سوالیہ نشان ہیں، خاص کر اساتذہ کی کمی اور اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کی وجہ سے۔ایسے میں جب کارکن گھر-گھر جائیں گے اور عوام سے بات کریں گے، تو انہیں نہ صرف حکومتی کامیابیاں گنوانی ہوں گی بلکہ عوام کے سوالوں کے جواب بھی دینا ہوں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اصل امتحان ہوگا۔بہار کے عوام کا سیاسی رویہ ہمیشہ جذبات اور زمینی حقیقتوں کے درمیان جھولتا رہا ہے۔ کبھی ذات پات کی سیاست ان پر غالب رہی، تو کبھی ترقیاتی نعروں نے اثر ڈالا۔ نیتیش کمار نے اپنی سیاست کو ان دونوں محوروں پر بیلنس کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لالو پرساد یادو کے سماجی انصاف کے نعرے کو پوری طرح چھوڑ بھی نہیں سکتے اور صرف ترقی پر کھڑے رہ کر بھی انتخاب نہیں جیت سکتے۔ اس لیے ان کا کارکنوں کو براہ راست عوام تک پہنچنے کا کہنا دراصل دونوں ہی بیانیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی کوشش ہے۔اس بار بہار کا انتخاب محض ریاستی نہیں بلکہ قومی سیاست سے بھی جڑا ہوا ہے۔ این ڈی اے اور انڈیا اتحاد کے درمیان ٹکر نے ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ نیتیش کمار این ڈی اے کے پرانے اتحادی رہے ہیں، مگر ان کی سیاسی قلابازیاں سب کو معلوم ہیں۔ عوام بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ سیاست میں ان کی وفاداری اکثر بدلتی رہتی ہے۔ اس پس منظر میں جب وہ کارکنوں کو گھر-گھر جانے کی بات کرتے ہیں تو ان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام کو یہ یقین دلائیں کہ ان کی باتوں پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔
الیکشن اسٹڈیز یہ بتاتی ہیں کہ اگر کارکن براہ راست ووٹر کے گھر جائیں، تو ووٹر کے ووٹ ڈالنے کی شرح میں کم از کم 7-10 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ’ڈور-ٹو-ڈور کیمپین‘ کو سب سے زیادہ مؤثر مانا جاتا ہے۔ نیتیش کمار کا یہ قدم دراصل انتخابی سوشیالوجی کی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔یہاں سوال یہ ہے کہ کیا محض ترقی اور اسکیموں کا ذکر کافی ہوگا؟ جواب ہے نہیں۔ بہار کی سیاست میں آج کے دور میں تین اور چیزیں بے بے حد اہم ہیں ۔
ذات پات کا توازن ،یوتھ کی توقعات ، قومی سیاست کا اثر ۔یہ وہ چیزیں ہیں جس کو سمجھے بغیر اگر انتخابی نیریشن بنانے کی کوشش کی گئی تو پھر ناکامی کا سامنا کرنا نا گزیر ہوگا ۔
نیتیش کمار کا کارکنوں کو گھر-گھر جانے کا مشورہ بظاہر ایک سادہ انتخابی حکمت عملی ہے، مگر دراصل یہ ان کے سیاسی سفر کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بھاری بھرکم جلسے اور بڑے بڑے وعدے آج کے ووٹر کو مطمئن نہیں کر پاتے۔ اصل لڑائی زمینی سطح پر ہے، جہاں ووٹر اپنے مسائل کے جواب چاہتے ہیں۔یہ اداریہ بہار کے عوام کو بھی یاد دلانا چاہتا ہے کہ انتخابات صرف وعدوں پر نہیں جیتے جاتے اور نہ ہی صرف بیانیے پر۔ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ اگر عوام سوال پوچھنے اور جواب مانگنے کا حوصلہ رکھیں تو کوئی بھی حکومت ان کی ضرورتوں کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔
حالانکہ نیتیش کمار نے اپنے کارکنوں کو ایک نسخہ دیا ہے، مگر کیا یہ نسخہ صرف نتیش کمار کے کارکنوں کے لئے مفید ہے ؟ ہرگز نہیں ! یہی تو وہ مول منتر ہے جو بہار کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے ۔کیونکہ بی جے پی گھر گھر جاکر بھی زیادہ سے زیادہ مذہبی نعروں کا گردان کر سکتی ہے ۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا نتیش کمار کے لیڈر نتیش کمار کے اس منتر کو گھر گھر لے کر جائینگے ؟مجھے تو اس میں بھی شک ہے کہ نتیش کمار کے اکثر لیڈر ان کے اس نسخہ کی اہمیت کو بھی سمجھ پائے ہونگے یا نہیں ۔لیکن کوئی سمجھے یا نہیں سمجھے وقت کا پہیہ تو چلتا ہی رہیگا اور یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں عوامی عدالت کرے گی کہ کس نے کس کی بات مانی ۔











