انقرہ،( یو این آئی)ترک صدر نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے۔ ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔ اردگان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے۔ رجب ارگان نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے۔ اردگان کا کہنا تھا کہ جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ تیکھے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان امریکہ و ایران کے درمیان جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر دفتر نے گزشتہ سال غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا” پر مسلح حملے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت 35 مشتبہ افراد کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی ہے۔ فردِ جرم میں ہر مشتبہ شخص کے لئے عمر قید با مشّقت اور 4,596 سال تک سزائے قید طلب کی گئی ہے۔ الزامات میں "انسانیت سوز جرائم”، "نسل کشی” اور تشدد” شامل ہیں۔ ستمبر 2025 میں جب گلوبل صمود فلوٹیلا کےرضاکار غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، تو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں ان پر حملہ کیا تھا۔ ترکیہ نے یہ تحقیقات اقوام متحدہ کے بحری قانون اور ترک تعزیری قوانین کی رُو سے اور عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق دفعات کے فریم ورک کے تحت شروع کی ہیں۔ ترکیہ صدارتی محکمہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا ہے کہ ” نیتن یاہو کی نہ تو کوئی اخلاقی قدر ہے اور نہ ہی کوئی قانونی حیثیت کہ وہ کسی کو سبق سکھا سکیں۔
