حیدرآباد ،پریس ریلیز،ہماراسماج: فارسی میں عصری ادب کے محرک مختلف سیاسی تحریکیں، معاہدے اور عہدنامے ہیں۔ جدید فارسی ادب کے آغاز ، ارتقاءو تشکیل میں مرد و زن دونوں کا برابر حصہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن وائس چانسلر ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ آج شعبۂ فارسی و مطالعاتِ وسط ایشیائ، مانو اور قونصل خانہ جمہوریہ اسلامی ایران، حیدرآباد کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی سمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سمینار کا عنوان ”روندھا و ابعاد ادبیات جدید فارسی“ ہے۔ پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ فارسی کے عصری ادب میں مرد و خواتین کی مساوی حصہ داری ہے ۔ اس حوالے سے بطور خاص پروین اعتصامی اور فروغ فروخداد جیسے شعراءنمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ یہ انہی کی احتجاجی آواز کا نتیجہ ہے کہ آج ایران میں نہ صرف ادب بلکہ ہر شعبۂ حیات میں مرد و زن برابر شریک ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے پہلے کلاسیکی شاعروں، فردوسی، طوسی، نظامی گنجومی، رودکی سمرقندی، جامی، حافظ، شیرازی کا ذکر کیا اور کہا کہ ہندوستان میں امیر خسرو کلاسیکی ادب کا اہم ستون ہیں۔ اور ان کے اثرات بعد کے ادوار میں بھی نظر آتے ہیں۔افتتاحی اجلاس میں آقائی حمید احمدیہ، قونصل جنرل، جمہوریہ اسلامی ایران متعینہ حیدرآباد نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ فارسی ادب کا شمار دنیا کے ان چند ادبی میراث میں ہوتا ہے جو آج بھی پوری آب و تاب اور تخلیقی تازگی کے ساتھ جاری ہے۔ ان کے مطابق فارسی صرف ایک قومی سرمایہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اور بین الاذہانی ورثہ ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے صدیوں تک ایران، ہندوستان، وسط ایشیاءاور اسلامی دنیا کے وسیع و عریض خطوں میں علم و عرفان، شاعری، تاریخ اور تہذیبی شعور کو پروان چڑھایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید فارسی ادب کے تعلق سے بعض لوگ اسے فکر و خیال سے پرے سمجھتے ہیں لیکن یہ روایت سے منقطع نہیں ہے۔ یہ دراصل روایت کی تخلیق ، توسیع اور عصر حاضر کے تناظر میں فکر کی نئی تعبیر ہے۔ اگر فردوسی، سعدی اور حافظ اس تہذیبی عمارت کے قدیم ستون ہیں تو نیما، فروغ، شاملو، صادق ہدایت اور گلشیری وہ روشن دریچے ہیں جو آج کی دنیا سے ہم آہنگ ہیں۔افتتاحی اجلاس کو مخاطب کرنے والوں میں آقائی قھرمان سلیمان بھی شامل ہیں۔ جو پرشین ریسرچ سنٹر، نئی دہلی کے ڈائرکٹر ہیں۔ انہوں نے اپناکلیدی خطبہ آن لائن پیش کیا۔ جبکہ پروفیسر انور خیری ، ساتاد دانشگاہ کابل اور پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار ، مانو نے بحیثیت مہمانانِ اعزازی شرکت کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر افتخار احمد، صدر شعبۂ فارسی و مطالعاتِ وسط ایشیاءو ڈائرکٹر سمینار نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر سید عصمت جہاں، اسوسیئٹ پروفیسر نے نظامت کے فرائض انجام دیئے جبکہ پروفیسر عزیز بانو نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔9 اور10 فروری کو منعقد ہو رہے اس بین الاقوامی سمینار میں مختلف ملکوں سے تقریباً 60 مقالے پیش کیے جائیں گے۔افتتاحی اجلاس میں پروفیسر صادق حسین، صدر شعبۂ فارسی، پٹنہ یونیورسٹی کی مرتبہ کتاب ”ریاض الحروف از میر وزیر علی (عبرتی عظیم آبادی)“ کی رسم اجراءپروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر مانو کے ہاتھوں عمل میں اائی۔ اس موقع پر اساتذہ، مہمانان اور طالب علموں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
