اداریہ ؍مضامین

جمہوریت میں ووٹ کی حرمت اور اقتدار کا امتحان

جمہوریت صرف اس بات کا نام نہیں کہ پانچ سال میں ایک مرتبہ عوام کو ووٹ ڈالنے کا موقع دے دیا جائے اور پھر اگلے پانچ سال تک ان کی آواز کو نظرانداز کیا جاتا رہے۔ جمہوریت ایک مسلسل عمل ہے، جس میں عوام کی رائے کا احترام، اداروں کی آزادی، اختلاف کی گنجائش اور اقتدار کا احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک کڑی بھی کمزور پڑ جائے تو جمہوریت کا ظاہری ڈھانچہ تو باقی رہ سکتا ہے، لیکن اس کی روح رفتہ رفتہ دم توڑنے لگتی ہے۔
آج ملک میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کا معاملہ اسی بنیادی سوال کو ہمارے سامنے کھڑا کر رہا ہے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن اسے انتخابی نظام کی اصلاح اور ووٹر لسٹوں کو درست کرنے کی کارروائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے بڑی تعداد میں شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ معاملہ اب سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھ کر جمہوری نظام کی ساکھ کا بن چکا ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ جس معاملے کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے، اسے بھی سیاسی زور آزمائی کا میدان بنا دیا گیا ہے۔راہل گاندھی وزیر اعظم کو عوامی پلیٹ فارم پر بحث کی دعوت دے رہے ہیں تو امیت شاہ راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں بحث کا چیلنج دے رہے ہیں اور اپوزیشن سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے اپنی آواز بلند کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ میں بحث اور سڑکوں پر احتجاج ایک دوسرے کی ضد ہیں؟ کیا جمہوریت میں ان دونوں کی اپنی اپنی اہمیت نہیں ہے؟
اگر حکومت کو یقین ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی پوری شفافیت کے ساتھ ہوئی ہے تو اسے اپوزیشن کے سوالات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں بحث کی پیشکش خوش آئند ہے، لیکن بحث محض سیاسی تقریروں اور ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ حکومت کو اعداد و شمار، حذف کیے گئے ناموں کی تفصیلات، اعتراضات کے ازالے اور متاثرہ ووٹروں کے لیے دستیاب طریقہ کار کی مکمل وضاحت کرنی چاہیے۔
اسی طرح اپوزیشن کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو ٹھوس شواہد کے ساتھ پیش کرے۔ جمہوریت میں محض شبہ کسی کو مجرم ثابت نہیں کرتا، لیکن کسی ادارے کی آئینی حیثیت اسے سوالات سے بالاتر بھی نہیں بناتی۔
سب سے اہم سوال الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری کا ہے۔ الیکشن کمیشن کوئی معمولی سرکاری محکمہ نہیں، بلکہ وہ آئینی ادارہ ہے جس کے اعتماد پر پورے انتخابی نظام کی عمارت کھڑی ہے۔ اس کی غیر جانب داری صرف حقیقت نہیں ہونی چاہیے بلکہ عوام کو اس کا یقین بھی ہونا چاہیے۔ اگر شہریوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہونے لگے کہ ان کے ووٹ کی حیثیت، ان کی سیاسی پسند یا ان کی شناخت کے اعتبار سے طے ہو رہی ہے تو یہ جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ووٹر لسٹ سے کسی ایک مستحق شہری کا نام غلطی سے حذف ہونا محض دفتری غلطی نہیں، بلکہ اس شہری کے ایک بنیادی جمہوری حق پر ضرب ہے۔ انتخاب میں حصہ لینے کا حق اسی وقت بامعنی ہے جب ہر اہل شہری کو ووٹ ڈالنے کا یکساں موقع حاصل ہو۔ کسی غریب مزدور، مہاجر، اقلیتی شہری یا کمزور طبقے کے فرد کے لیے اپنے وجود اور شہریت کے ثبوت بار بار پیش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے انتخابی اصلاحات کے نام پر ایسی کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے جو کمزور طبقات کے لیے حق رائے دہی کو مشکل بنا دے۔ حکومت کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اختلاف کرنے والی ہر آواز کو انتشار، سازش یا ملک دشمنی کے خانے میں ڈال دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مضبوط حکومت وہ نہیں ہوتی جو سوال کرنے والوں کو خاموش کرا دے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو اپنے فیصلوں کا دفاع دلیل اور شواہد کے ساتھ کر سکے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا پورا عمل شفاف بنایا جائے، حذف شدہ ناموں کی جانچ آزادانہ طور پر ہو، متاثرہ شہریوں کو مناسب موقع دیا جائے اور الیکشن کمیشن اپنی کارروائی کے بارے میں عوام کو مطمئن کرے۔ پارلیمنٹ میں بحث ہو تو اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، لیکن احتجاج کے جمہوری حق کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ آخرکار یہ معاملہ نہ راہل گاندھی کی سیاسی فتح و شکست کا ہے اور نہ امیت شاہ کی برتری یا حکومت کی ساکھ کا۔ یہ کروڑوں شہریوں کے اس حق کا معاملہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اقتدار بدل سکتا ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں عروج و زوال سے گزرتی ہیں، لیکن جمہوریت کا بنیادی اصول نہیں بدل سکتا کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں۔
اگر عوام کے ووٹ کی حرمت محفوظ نہیں تو پھر جمہوریت کے بڑے بڑے دعوے محض لفظی بازی گری ہیں۔ ووٹ کی حفاظت دراصل جمہوریت کی حفاظت ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ ملک کے مستقبل سے سمجھوتہ ہوگا۔کمال یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب تو کہیں اور کسی پلیٹ فارم سے نہیں دیا جا رہا ہے لیکن اپوزیشن کے وجود پر ہی سوال اٹھا کر اسے ملک دشمن ،نکسل وادی اور بیرونی طاقتوں کا ایجنٹ بتایا جا رہا ہے ۔
بولنے اور بیان بازی کی آزادی کا اس سے زیادہ غلط استعمال اور وہ بھی برسر اقتدار پارٹی کے لیڈران کریں تو حیرت نہیں افسوس ہوتا ہے ۔