دیوالی اور چھٹھ مہاپروکے موقع پر بہار آنے والے لوگوں کو محفوظ، صاف ستھرا اور بہتر ماحول فراہم کرنا حکومت کی ترجیح
پٹنہ، 06 نومبر : وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج لوک سیوک آواس واقع ’سنکلپ‘ آڈیٹوریم میںآئندہ دیوالی، کالی پوجا اور چھٹھ مہا پرو کے پیش نظر ریاست میں امن و قانون، سکیورٹی، صفائی اور دیگر ضروری انتظامات کے سلسلے میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جائزہ میٹنگ کی اور افسران کو کئی اہم ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں کے موقع پربڑی تعداد میں بہار کے لوگ دوسری ریاستوں اور بیرون ملک سے اپنے گھروں کو واپس آتے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انہیں اپنی آبائی ریاست میں واپسی پر خوشی، تحفظ اور مثبت تبدیلی کا احساس ہو۔ تمام اضلاع میں انتظامیہ اور پولیس پوری مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ کام کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیوالی، کالی پوجا اور چھٹھ مہاپَرو کے سلسلے میں سبھی کو چوکس اور مستعد رہنا ہے۔ امن و قانون کے ساتھ تمام ضروری تیاریاں وقت پر مکمل کی جائیں۔ چھٹھ مہاپرو بہار کا وقار اور ہماری ثقافتی شناخت کا ایک اہم تہوار ہے۔ اس موقع پر عقیدت مندوں کی سہولت، سکیورٹی اور صفائی کا خصوصی خیال رکھا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے دھن تیرس، دیوالی اور چھٹھ پوجا کی مبارک باد بھی دی۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ تہواروں کے دوران امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی جائے۔ تمام اضلاع میں کوئیک رسپانس ٹیم (QRT) تشکیل دے کر انہیں پوری طرح فعال اور چوکس رکھا جائے۔ ریلوے اسٹیشنوں اور بس اسٹینڈوں کے آس پاس خصوصی طور پر چوبیس گھنٹے گشت کا انتظام ہو۔ پولیس کی گشت مؤثر ہو اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی یقینی بنائی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے ریلوے اسٹیشنوں، بس اسٹینڈوں، عوامی مقامات اور چھٹھ گھاٹوں پر صفائی کے بہتر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ خود ان انتظامات کی باقاعدگی سے نگرانی کریں۔ چھٹھ گھاٹوں پر مقررہ معیارات کے مطابق سکیورٹی اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ مقامی رضاکاروں کو بھی انتظامات میں شامل کیا جائے۔ دیہی علاقوں کے چھٹھ گھاٹوں پر مقامی تیراکوں کی موجودگی بھی یقینی بنائی جائے۔ بجلی کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے کہیں بھی ننگے تاروں کا استعمال نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ دلت/مہادلت ٹولوں میں عوامی نمائندے اور افسران جائیں اور وہاں کے لوگوں کے درمیان ان کے ساتھ تہوار منائیں۔ تہواروں کو باہمی محبت، ہم آہنگی اور جوش و خروش کے ساتھ منانے کے لیے لوگوں کو ترغیب دیں۔ ڈی ایم عوامی نمائندوں سے باقاعدگی سے ملاقات کریں اور ان کے مسائل و تجاویز کو سنجیدگی سے لیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اہل اور خوش حال لوگوں سے 125 یونٹ بجلی سبسڈی کا فائدہ رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کی اپیل کے سلسلے میں تشہیر کی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کایاکلپ مہم کے تحت اسکیموں کی تعداد دوگنی کر دی گئی ہے۔ ڈی ایم اس کی مسلسل نگرانی کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کوئی بھی گاؤں ترقیاتی کاموں سے محروم نہ رہے۔ کمیونٹی ہال، آنگن باڑی مراکز، پنچایت بھون سمیت تمام ضروری عوامی سہولیات کو اس مہم کے دائرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران تباہ ہونے والی تمام دیہی سڑکوں کی مرمت جلد از جلد کرائی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے گمراہ کن اور فرضی خبروں پر فوری کارروائی کے لیے ہر سطح پر کوئیک رسپانس ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ کسی خبر کے درست ہونے کی صورت میں فوری ضروری کارروائی کرتے ہوئے جواب دیا جائے اور غلط خبر ہونے پر جلد از جلد اس کی تردید کی جائے۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے کے اندر ردعمل یقینی بنایا جائے، تاکہ گمراہ کن اطلاعات سے منفی ماحول پیدا نہ ہو اور عوام تک صحیح معلومات پہنچ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی جن مسائل کو اٹھایا جاتا ہے، ان کے سلسلے میں کی جانے والی کارروائی اور مسائل کے حل سے متعلق معلومات بھی عام کی جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 25 نومبر کے بعد وہ مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے۔ 16 نومبر کے بعد ترقیاتی کاموں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے اسکیموں کے نفاذ کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ ریاست میں صنعتی ترقی کو رفتار دینے کے لیے ڈی ایم اور ایس پی ہر ماہ صنعت کاروں کے ساتھ میٹنگ کریں، تاکہ ان کے مسائل حل ہوں اور سرمایہ کاری و روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ اضلاع میں زمین کے حصول کے کام میں تاخیر نہ ہو، ضلع مجسٹریٹ اس سلسلے میں تیزی سے کام کریں۔ ’ایک ضلع، ایک پروڈکٹ‘ (ODOP) اسکیم پر بھی کام کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے افسران کو ہدایت دی کہ تمام کام پوری سنجیدگی، جواب دہی اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں، تاکہ بہار میں بہتر حکمرانی، سکیورٹی اور ترقی کی رفتار مسلسل تیز ہو۔
میٹنگ کے دوران چیف سکریٹری جناب پرتیہ امرت اور ڈی جی پی مسز پریتا ورما نے امن و قانون کے انتظامات کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ کو تفصیلی معلومات دیں۔ ڈی جی پی مسز پریتا ورما نے بتایا کہ تہواروں کے دوران امن و قانون کو بہتر بنائے رکھنے کے لیے 16,000 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں، 1,500 PTC، ہوم گارڈز اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کی اضافی تعیناتی کی گئی ہے۔
میٹنگ میں چیف سکریٹری مسٹر پرتیے امرت، ڈی جی پی مسزپریتا ورما، محکمہ مالیات کے پرنسپل سکریٹری مسٹر ونئے کمار، ڈی جی پی، اسپیشل سکیورٹی مسٹر کندن کرشنن، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری مسٹر لوکیش کمار سنگھ، محکمہ توانائی کے سکریٹری مسٹر اجے یادو، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری مسٹر سنجے کمار سنگھ، جنرل اڈمنسٹریشن محکمہ کے سکریٹری جناب محمد سہیل اور محکمہ تعمیراتِ عمارت کے سکریٹری مسٹر پرنو کمار موجود تھے، جبکہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے تمام ڈویژنوں کے کمشنر، انسپکٹر جنرل آف پولیس/ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، ڈی ایم ،ایس ایس پی اور دیگر سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔
