قومی خبریں

مودی پر دیوالی کے خطاب کے ذریعے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا الزام

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جئے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک اہم قومی موقع کو سیاسی حریفوں کی توہین کرنے کا موقع بنا دیا

نئی دہلی، (یو این آئی) کانگریس نے اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے چھتیس گڑھ کے بستر میں سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے کے موقع کو اپنے سیاسی مخالفین پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جئے رام رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے ایک اہم قومی موقع کو سیاسی حریفوں کی توہین کرنے کا موقع بنا دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رمیش نے کہا کہ مودی نے دیوالی کے دن بھی ملک کو اپنی مخصوص توہین آمیز زبان سے نہیں بخشا۔مسٹر رمیش نے خاص طور پر وزیر اعظم کی جانب سے ”دماغی نکسل” کی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا، ”وزیر اعظم نے دیوالی کے دن بھی ملک کو اپنی مخصوص توہین آمیز زبان سے نہیں بخشا۔”مسٹررمیش نے الزام لگایا کہ مودی نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے کے ایک اہم موقع کو، ان کی وردی پہن کر، اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔انہوں نے وزیر اعظم کے ان بیانات کو ”تمام ادارہ جاتی اصولوں پر کھلا حملہ” قرار دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، ”لیکن آخر اس شخص کو کبھی کسی چیز نے ایسا کرنے سے روکا بھی ہے؟”
وزیر اعظم کی سیاسی بیان بازی میں ایک خاص طرزِ عمل کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کانگریس رہنما نے ایسے دو سابقہ مواقع کا ذکر کیا، جب مودی نے مبینہ طور پر حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے گروہوں کو نکسلزم سے جوڑنے والی اصطلاحات سے تعبیر کیا تھا، لیکن بعد میں ان کے بعض مطالبات تسلیم کر لیے تھے یا متعلقہ پالیسیوں کو واپس لے لیا تھا۔ مسٹررمیش نے سب سے پہلے 28 اپریل 2024 کا حوالہ دیا، جب مبینہ طور پر مودی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کرنے والوں کو ”شہری نکسل” قرار دیا تھا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ 30 اپریل 2025 کو وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ مردم شماری 2027 کے ایک حصے کے طور پر ذات پر مبنی مردم شماری بھی کرائی جائے گی۔
انہوں نے تین زرعی قوانین سے متعلق تنازع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ستمبر 2020 میں مودی نے ان قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو نکسل نظریے کا حامی قرار دیا تھا۔ 19 نومبر 2021 کو وزیر اعظم نے کسانوں کی ایک سال تک جاری رہنے والی تحریک کے بعد تین متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس تحریک میں خاص طور پر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں نے حصہ لیا تھا۔کانگریس مسلسل بی جے پی کی قیادت والی حکومت پر الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کے خلاف اختلافِ رائے اور مخالفت کو بے اعتبار کرنے کے لیے سیاسی طور پر متنازع اصطلاحات کا استعمال کرتی ہے۔
تاہم، بی جے پی کا موقف رہا ہے کہ بعض احتجاجی تحریکوں اور نظریاتی رجحانات پر اس کی تنقید کی بنیاد ان کے سیاسی کردار اور قومی سلامتی پر پڑنے والے اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔ان دونوں واقعات کی بنیاد پر سیاسی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے رمیش نے اشارہ دیا کہ وزیر اعظم کے تازہ ترین بیانات ان کی سیاسی بے چینی اور مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”وزیر اعظم واضح طور پر پریشان، بے چین اور مایوس ہیں۔” اپنی پوسٹ کے اختتام پر انہوں نے طنزیہ سیاسی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”جھولا اٹھانے کا وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے۔”یہ اشارہ بظاہر مودی کے اس سابقہ بیان کی طرف تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں کبھی محسوس ہوا کہ عوامی زندگی میں اب ان کی ضرورت نہیں رہی تو وہ اپنا سامان ایک جھولے میں ڈال کر وہاں سے چلے جائیں گے۔
یہ سخت تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مودی نے چھتیس گڑھ کے بستر میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منائی اور ملک کے لیے ان کی قربانیوں، عزم اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس علاقے کے دورے کا مقصد، جہاں کئی دہائیوں سے ماؤنواز شورش جاری رہی ہے، سلامتی، ترقی اور بائیں بازو کی انتہا پسندی کے خاتمے پر حکومت کی توجہ کو بھی اجاگر کرنا تھا۔
کانگریس کی اس تنقید نے وزیر اعظم کے سکیورٹی فورسز کے ساتھ دیوالی منانے کے پروگرام کو سیاسی رنگ دے دیا ہے۔ رمیش نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی قومی موقع اور ملک کے سکیورٹی نظام سے وابستہ وردی کا استعمال سیاسی طور پر متنازع بیانات دینے کے لیے کرنا مناسب ہے۔