جنگ کا جنون، امن کی پسپائی اور دنیا کا مستقبل
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب محض دو ملکوں کی طاقت آزمائی نہیں رہ گئی ہے، بلکہ اس نے پورے مشرق وسطیٰ کے امن، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری دنیا کو سنگین بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔ جنگ کے آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود نہ امریکہ اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور نہ ایران نے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ اس کے باوجود جنگ کے شعلے بجھنے کے بجائے وقفے وقفے سے دوبارہ بھڑک رہے ہیں۔
تازہ صورت حال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک طرف یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکہ جنگ میں کامیابی حاصل کر رہا ہے اور ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر تازہ محدود حملے کیے ہیں۔ امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے دو کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔ دوسری طرف تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی شرائط پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوجی برتری مستقل سیایہ صورت حال امریکی پالیسی کے بنیادی تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر ایران واقعی معاہدے کے لیے تیار ہے تو پھر فوجی کارروائیوں اور نئی دھمکیوں کی ضرورت کیوں ہے؟ اور اگر امریکہ جنگ کو اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے تو پھر مذاکرات کی میز پر آنے کی باتیں کس لیے کی جا رہی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن ایران کو مذاکرات کی میز پر ایک برابر کے فریق کے طور پر دیکھنے کے بجائے فوجی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے۔ لیکن ایران نے اب تک یہ ثابت کیا ہے کہ محض دھمکیوں سے اسے جھکانا آسان نہیں۔ ایران کا سب سے بڑا مؤثر ہتھیار اس وقت آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کی تیل کی تجارت کے لیے یہ گزرگاہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی بندش یا وہاں جہاز رانی میں رکاوٹ کا مطلب صرف ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم نہیں، بلکہ عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور توانائی کے بحران کا خطرہ بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچنے، بارودی سرنگوں اور امریکی فوجی کارروائیوں کی اطلاعات نے صورت حال کو مزید دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔ دوسری طرف قطر کی ثالثی میں مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں۔ مجوزہ سمجھوتے میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثے آزاد کرنے اور جوہری تنصیبات کے معائنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات زیر بحث ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکہ پابندیاں ختم کرے، بحری ناکہ بندی اٹھائے اور منجمد اثاثے واپس کرے، جبکہ امریکہ ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قابل قبول ضمانتیں چاہتا ہے۔اس تنازعے کا ایک اہم پہلو امریکہ کی داخلی سیاست بھی ہے۔ حالیہ وسط مدتی انتخابات میں حکمراں ریپبلکن پارٹی کو بڑے سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں امریکی عوام کی ناراضگی کا سبب بنی ہیں۔ اس صورت حال میں ٹرمپ کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ جنگ کو مزید وسعت دے کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے یا پھر مذاکرات کے ذریعے کسی ایسے سمجھوتے تک پہنچیں جس سے انہیں سیاسی طور پر بھی کامیابی کا دعویٰ کرنے کا موقع مل سکے۔ لیکن خدشہ یہ ہے کہ داخلی سیاسی دباؤ انہیں کسی ایسے غیر محتاط فیصلے کی طرف نہ لے جائے جس کی قیمت صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا ادا کرے ۔یہاں اسرائیل کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی عزائم اور اس کی سلامتی کے نام پر اختیار کی جانے والی جارحانہ پالیسیوں نے خطے کے حالات کو پہلے ہی غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ اگر امریکہ نے اسرائیل کے دباؤ یا اپنی بالادستی کے اظہار کے لیے ایران کے خلاف ایک نئی بڑی فوجی مہم شروع کی تو اس کے اثرات کسی ایک محاذ تک محدود نہیں رہیں گے۔ عراق، شام، لبنان، یمن اور خلیجی ممالک اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ بحیرہ احمر سے لے کر خلیج فارس تک عالمی تجارت اور توانائی کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایران کی پالیسیوں سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی ملک کو محض اس لیے فوجی طاقت کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی کہ وہ امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ عالمی امن کا تقاضا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ ایران کو بھی اپنی علاقائی پالیسیوں اور جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی برادری کے خدشات دور کرنے چاہئیں، لیکن امریکہ کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی فوجی برتری کو بین الاقوامی قانون سے بالاتر سمجھنے لگے۔ ہندوستان کے لیے یہ صورت حال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے تاریخی، تجارتی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔ چابہار بندرگاہ ہندوستان کے لیے وسطی ایشیا اور افغانستان تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دوسری طرف خلیجی ممالک میں لاکھوں ہندوستانی شہری روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور ان کی ترسیلات زر ہندوستانی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہندوستان کے درآمدی بل، مہنگائی اور عام آدمی کی زندگی کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے سامنے ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے خطے میں امن کی کوششوں کو کس طرح مضبوط بناتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ امریکہ اور ایران میں کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس تصادم کا انجام کیا ہوگا اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنے والے اکثر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ان جنگوں میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، غریبوں اور بے قصور انسانوں کا ہوتا ہے۔ عراق اور افغانستان کی مثالیں ابھی دنیا کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ہیں۔امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ فوجی برتری مستقل سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی اور ایران کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ مزاحمت کی طاقت کا اصل مقصد اپنے عوام اور ملک کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ پورے خطے کو ایک مستقل جنگ کے خطرے میں مبتلا رکھنا۔
دنیا کو اس وقت کسی نئے محاذ، کسی نئی تباہی اور کسی نئے انسانی المیے کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران اپنی انا، ضد اور بالادستی کی سیاست سے باہر نکلیں۔ مذاکرات کو محض جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ بنانے کے بجائے امن کا حقیقی راستہ بنائیں۔ کیونکہ اگر طاقت کے نشے میں امن کے امکانات کو کچل دیا گیا تو آنے والی تباہی کا ملبہ صرف امریکہ اور ایران پر نہیں گرے گا، اس کی زد میں پوری انسانیت آئے گی۔
دنیا کو ایک اور جنگ نہیں، جنگوں سے نجات کا راستہ چاہیے۔
