ووٹ عربوں نے ڈالا، اقتدار یہودیوں کا حق کیسے بن گیا؟
نیتن یاہو کی شکستِ اکثریت اور اسرائیلی جمہوریت کا سب سے بڑا سوال
اسرائیل میں انتخابات ہوئے۔ ووٹ پڑے۔ ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔ نتائج سامنے آنے لگے تو ایک عجیب منظر نمودار ہوا۔ عرب شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں نے تاریخی کامیابی حاصل کی، نیتن یاہو کی لیکوڈ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، ان کا اتحاد بھی دوسرے اتحادوں سے آگے رہا، لیکن اقتدار کے لیے ضروری اکثریت پھر بھی ہاتھ نہیں آئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے اسرائیل کی جمہوریت کے چہرے پر ایک ایسا سوال ثبت کردیا ہے جسے محض انتخابی دھاندلی کے الزام سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
نیتن یاہو کی جماعت نے الزام لگایا کہ عرب جماعتوں نے انتخابات ’’چرا لیے‘‘۔ الزام صرف زبانی نہیں تھا ، پولیس، داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت اور مرکزی انتخابی کمیٹی سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ رشوت، دھمکی، تشدد، جعلی دستاویزات، ووٹوں میں بے ضابطگی اور ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے غیر قانونی سافٹ ویئر کے استعمال جیسے دعوے کیے گئے۔ لیکوڈ نے سینکڑوں گواہیاں اور شواہد پیش کرنے کی بات بھی کہی۔ انتخابی کمیٹی نے تمام شکایات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا، لیکن ان کے سیاسی مفہوم کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر انتخابی دھاندلی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات ہوں، قصورواروں کو سزا ملے، مگر اگر عرب شہریوں نے بڑی تعداد میں نکل کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے تو اسے چوری کیوں کہا جا رہا ہے؟ کیا کسی مخصوص طبقے کی سیاسی بیداری اس وقت تک جمہوری حق ہے جب تک اس کے ووٹ مطلوبہ نتیجہ پیدا کریں، اور نتیجہ بدلنے لگے تو وہی حق جرم بن جاتا ہے؟
یہ سوال تو ہے کہ عرب اچانک اتنے طاقت ور کیسے ہوگئے؟
اس سوال کا جواب جذبات میں نہیں، انتخابی ریاضی میں پوشیدہ ہے۔ اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ فلسطینی النسل عرب شہریوں پر مشتمل ہے۔ یہ کوئی باہر سے آنے والی آبادی نہیں، بلکہ اسرائیلی شہری ہیں، جنہیں کنیسٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے اور اپنے نمائندے منتخب کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ لیکن اس حق کا عملی فائدہ ہمیشہ ان کی عددی آبادی کے تناسب سے نہیں نکلتا۔ عرب ووٹروں کی کم شرکت، سیاسی اختلافات اور عرب جماعتوں کے درمیان تقسیم نے ماضی میں ان کی نمائندگی کو محدود رکھا ہے۔
اس مرتبہ صورت حال مختلف دکھائی دی۔ عرب شہریوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا اور دو بڑی عرب قیادت والی جماعتوں، جوائنٹ لسٹ اور رعام، نے مجموعی طور پر 19 نشستوں تک پہنچنے کی پوزیشن حاصل کی۔ یہ عدد تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ 2020 میں جب بڑی عرب جماعتیں ایک مشترکہ فہرست کے تحت میدان میں اتری تھیں تو انہوں نے 15 نشستیں حاصل کی تھیں، موجودہ انتخاب میں 19 نشستوں کا امکان اس سے بھی آگے کی پیش رفت ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، عرب ووٹروں کی شرکت تقریباً 80 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا، جس کے پیچھے نیتن یاہو کی حکومت اور اس کے انتہائی قوم پرست وزرا کے خلاف شدید ناراضگی ایک اہم سبب تھی۔ غزہ کی جنگ، عرب آبادی کے علاقوں کے مسائل اور حکومت کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی بے اطمینانی نے بھی اس سیاسی ردعمل کو تقویت دی۔ لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ انیس نشستیں حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ عرب جماعتوں نے یہودی ووٹروں کو انتخابی میدان میں شکست دے کر ان کی نشستیں چھین لی ہیں۔ اسرائیل میں کنیسٹ کے انتخابات متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹ ان کی نشستوں میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اس نظام میں کسی جماعت کا فائدہ دوسری جماعت کے ووٹوں کی چوری کا ثبوت نہیں ہوتا۔ یہودی ووٹروں کی اکثریت اپنے مختلف سیاسی، مذہبی اور نظریاتی رجحانات کے مطابق متعدد جماعتوں میں تقسیم ہے۔ دایاں بازو، انتہاپسند دایاں بازو، مذہبی جماعتوں، لبرل اور دیگر مخالف گروہوں کے درمیان اختلافات نے کسی ایک اتحاد کے لیے اکثریت حاصل کرنا مشکل بنایا ہے۔ عرب جماعتوں کی بڑھتی ہوئی شرکت اور یہودی جماعتوں میں تقسیم، دونوں نے مل کر موجودہ صورت حال پیدا کی ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ عرب جماعتوں کو اتنی نشستیں کیسے مل گئیں ،اصل سوال یہ ہے کہ ان کے ووٹوں کو عام انتخابی کامیابی کے بجائے ایک مشتبہ سیاسی واقعہ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
اسرائیل کی کنیسٹ میں کل 120 نشستیں ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ تازہ انتخابی رجحانات میں نیتن یاہو کی لیکوڈ اور اس کے اتحادیوں کا مجموعی عدد اکثریت سے کم رہا ہے۔ دوسری طرف، سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں نیتن یاہو مخالف جماعتیں بھی اپنے بل پر مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عرب جماعتوں کی سیاسی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ اگر نیتن یاہو مخالف جماعتیں عرب نمائندوں کی حمایت حاصل کر لیں تو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ عدد پورا ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف اعداد کا نہیں، اسرائیلی سیاست کے اس نظریاتی حصار کا بھی ہے جس میں عرب نمائندوں کے ساتھ اقتدار میں شراکت کو اب تک بہت سے یہودی سیاسی حلقے ناقابل قبول سمجھتے رہے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ عرب ووٹوں کے بغیر حکومت سازی کا راستہ دشوار ہے، لیکن عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کا اعلان کرنا بھی کئی سیاسی رہنماؤں کے لیے انتخابی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یوں عرب شہریوں کے ووٹ پارلیمنٹ میں اپنی جگہ تو بنا لیتے ہیں، مگر حکومت کے دروازے پر پہنچ کر انہیں ایک نئی سیاسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسرائیل میں 2021 کی مثال بھی موجود ہے، جب منصور عباس کی رعام نے نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپید کی حکومت کی تشکیل میں حصہ لیا تھا۔ اس تجربے نے ثابت کیا تھا کہ عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی تعاون محض نظریاتی بحث نہیں، بلکہ اسرائیلی پارلیمانی نظام میں ایک عملی امکان بھی ہے۔ اس مرتبہ یہی سوال پھر سامنے ہے کہ کیا نیتن یاہو کے مخالف رہنما عرب نمائندوں کی حمایت قبول کریں گے، یا اپنے سیاسی وعدوں اور ووٹروں کی ناراضگی کے خوف سے اس امکان کو مسترد کر دیں گے؟