وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے 1,06,063 دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کے بینک کھاتوں میں 68.51 کروڑ روپے کی رقم براہ راست منتقل کی
پٹنہ، یکم نومبر : وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے آج کامفیڈ، پٹنہIntegrated Command and Control Centre (ICCC) کا نام کی تختی کی نقاب کشائی کرکے افتتاح کیا۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ نے ڈائریکٹ اکاؤنٹ ٹرانسفر کے تحت 5,832 دودھ پیدا کرنے والی کوآپریٹو کمیٹیوں (DCS) کے توسط سے 1,06,063 مستفیدین کے بینک کھاتوں میں 68,51,27,060 روپے ((68.51کروڑ روپے) براہِ راست منتقل کیااور نو تعمیر شدہ کال سینٹر(سدھا سمپرک) کا افتتاح کیا۔ یہ ادائیگی 1,46,66,061 لیٹر دودھ کی فراہمی کے عوض کی گئی ہے۔ مویشی پالنے والوں اور دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی سمت میں یہ ایک اہم پہل ہے۔پروگرام کے دوران محکمہ ڈیری، ماہی و مویشی پروری وسائل کے سکریٹری مسٹر شرشت کپل اشوک نے پریزنٹیشن کے ذریعے کامفیڈ کے تحت انجام دیے جا رہے کاموں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سدھا کی بہار سے باہر بھی توسیع کی جا رہی ہے۔ آسام کے تیزپور میں یومیہ 20 ہزار لیٹر صلاحیت کی یونٹ شروع ہو چکی ہے۔ آسام میں یومیہ 50 ہزار لیٹر صلاحیت کی ایک اور یونٹ قائم کرنے کے ساتھ کولکاتا میں بھی یومیہ 10 ہزار لیٹر صلاحیت کی یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ریاست کے ہر گاؤں میں دودھ پیدا کرنے والی کوآپریٹو کمیٹی تشکیل دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اپریل سے ستمبر 2026 کے درمیان 4,804 نئی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور ریاست میں مجموعی طور پر 33,897 کمیٹیاں فعال ہیں۔ فی الحال روزانہ تقریباً 23.90 لاکھ کلوگرام دودھ جمع کیا جا رہا ہے۔ مالی سال 2026-27 میں اسے بڑھا کر یومیہ 50 لاکھ لیٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔دودھ جمع کرنے اور اس کی نقل و حمل کے نظام کی ریئل ٹائم نگرانی کے لیے انٹیگریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ مویشی پالنے والوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے ٹول فری نمبر 18003456199 پر ’سدھا سمپرک‘ کال سینٹر بھی چلایا جا رہا ہے۔ 3,200 ’سدھا سکھی‘ تیار کرنے کا ہدف ہے۔ جیویکا کے تعاون سے 31 مارچ 2027 تک ریاست کی تمام 8,053 پنچایتوں میں ’جیویکا-سدھا سیل سنٹر‘ قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خواتین کو مویشیوں کی ادویات کے فروخت مراکز چلانے کے لیے بھی ترغیب دی جا رہی ہے۔ریاست میں مویشیوں کی نسل میں بہتری، بہتر غذائیت اور دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے نیشنل گوکل مشن کے تحت سیکس سارٹڈ سیمین کے استعمال، ڈمراوں میں بچھیا پرورش مرکز، مونگیر میں سیمین اسٹیشن اور 12 ٹوٹل مکسڈ راشن (TMR) پلانٹ قائم کرنے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔
