بہار نامہ

عدالتوں میں کلینیکل سائیکالوجسٹ کی تقرری اوروکلاء و ججوں کی اسپیشل ٹرینگ کاڈاکٹر رقیب عالم کامطالبہ

پٹنہ، (پریس ریلیز): کشن گنج سے تعلق رکھنے والے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رقیب عالم نےاپنے پریس بیانیہ میں کہا ہے کہ سماج میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل، غیر سماجی رویوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناانصافیوں کے تدارک کے لیے انہوں نے مسلسل حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کراتے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے گذشتہ ماہ وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کو ایک اہم تجویز ارسال کی تھی، جس میں عدالتی نظام کے اندر ذہنی صحت اور نفسیاتی مسائل سے متعلق ماہرین کی خدمات اور تربیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
کشن گنج سے تعلق رکھنے والے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر رقیب عالم نے اپنی تجویز میں کہا تھا کہ معاشرے میں نفسیاتی مسائل اور غیر سماجی رویوں کے مختلف اثرات سامنے آ رہے ہیں، جن کے باعث بعض خاندانوں اور افراد کو شدید ذہنی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے معاملات میں متاثرین کو انصاف دلانے اور حقائق کی درست شناخت کے لیے نفسیاتی ماہرین کی رہنمائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک کی ہر عدالت میں کلینیکل سائیکالوجی اور نفسیاتی تشدد کے معاملات میں تربیت یافتہ ماہرین کی خدمات فراہم کرنے کا نظام قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی ججوں اور وکلاء کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، تاکہ وہ نفسیاتی مسائل، ذہنی استحصال اور غیر سماجی رویوں سے متعلق معاملات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور متاثرین کے ساتھ انصاف کے تقاضوں کے مطابق معاملہ کر سکیں۔
حال ہی میں ڈاکٹر رقیب عالم کی اس تجویز پر انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی جانب سے جواب موصول ہوا ہے۔ موصولہ جواب میں آئی سی ایم آر نے ذہنی صحت سے متعلق خدشات اور تجاویز کا اشتراک کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے شعبے میں تحقیق اور سائنسی شواہد کی تیاری کے ذریعے ذہنی صحت کے مسائل کی بہتر تفہیم کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ادارے نے ذہنی صحت سے متعلق بیداری، پیشہ ورانہ تربیت اور مناسب نفسیاتی خدمات تک رسائی کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا ہے۔
ڈاکٹر رقیب عالم کا کہنا ہے کہ سماج کی بہتری صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ بیدار شہریوں کی مسلسل کوششوں اور تعمیری تجاویز سے بھی ممکن ہے۔ وہ مختلف سماجی مسائل کو حکومتی اداروں کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں، تاکہ متعلقہ محکمے ان پر غور کریں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
ان کا ماننا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھنے، ماہرین کی خدمات کو فروغ دینے اور عدالتی و سماجی اداروں میں مناسب تربیت فراہم کرنے سے ایک زیادہ حساس، منصفانہ اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مدد مل سکتی ہے۔