انتہائی پسماندہ طبقے کے لیے 15 فی صد ریزرویشن سمیت کانگریس نے پانچ نکاتی مطالبات پیش کیے
وارانسی (یو این آئی) اتر پردیش میں انتہائی پسماندہ طبقے کو انصاف، حقوق اور عزت دلانے کے لیے کانگریس نے پانچ نکاتی مطالبات پیش کیے ہیں۔ پارٹی نے سرکاری ملازمتوں میں 15 فیصد ریزرویشن اور پنچایت و بلدیاتی انتخابات میں آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے انتہائی پسماندہ طبقہ کے مبصر راکیش چندرونشی نے جمعرات کے روز کہا کہ منڈل کمیشن کے نفاذ کے 33 سال گزر جانے کے باوجود انتہائی پسماندہ سماج کی سماجی، تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی صورت حال میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں انتہائی پسماندہ طبقے کی آبادی تقریباً 35 فی صد ہونے کے باوجود اسے آبادی کے تناسب سے سیاسی نمائندگی نہیں ملی ہے۔
انہوں نے اتر پردیش ‘ریاستی کمیشن برائے انتہائی پسماندہ طبقات’ اور ایک ‘فنانس اینڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن’ کے قیام کے ساتھ ساتھ مظالم کی روک تھام کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
شہری کانگریس کے صدر راگھویندر چوبے نے کہا کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں انتہائی پسماندہ سماج کو باعزت سیاسی نمائندگی ملنی چاہیے۔ او بی سی کے ریاستی جنرل سکریٹری اروند راج بھر نے پنچایت انتخابات میں اس طبقے کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو امیدوار بنانے کی اپیل کی۔
مقررین نے عوامی رہنما کرپوری ٹھاکر کے سماجی انصاف کے نظریات کو آگے بڑھانے اور انتہائی پسماندہ طبقے کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
