چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی کا حکم، حتمی فہرست 21 جنوری کو
نئی دہلی (یواین آئی) الیکشن کمیشن نے چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی سَمری نظرثانی (ایس ایس آر) کا حکم جاری کیا ہے۔ اس کے لیے یکم جنوری 2027 کو اہلیت کی تاریخ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 21 جنوری کو شائع کی جائے گی۔اس عمل کے دائرے میں اروناچل پردیش، چندی گڑھ، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو، میزورم، اڈیشہ اور سکم شامل ہیں۔ یہ قدم ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع اور اپوزیشن کی جانب سے بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات کے درمیان اٹھایا گیا ہے۔کمیشن نے بدھ کو جاری حکم نامے میں چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکشن افسران (سی ای او) کو عوامی نمائندگی قانون 1950 کی دفعہ 21 کے تحت نظرثانی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس میں خاص طور پر ایسے اہل شہریوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے، جن کے نام اب تک درج نہیں ہیں۔ ان میں نوجوان اور پہلی بار ووٹ دینے والے افراد نمایاں طور پر شامل ہیں۔کمیشن کے چار نومبر کے خط کے مطابق، پولنگ مراکز کی معقول تنظیم نو اور ازسرنو ترتیب کا کام 20 نومبر تک مکمل کیا جائے گا۔ ووٹر لسٹ کا یکجا مسودہ 30 نومبر کو شائع ہوگا۔ دعوے اور اعتراضات درج کرانے کی مدت 30 نومبر سے 30 دسمبر تک ہوگی۔ انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر او) کو 16 جنوری تک تمام دعووں اور اعتراضات کا تصفیہ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد 21 جنوری کو حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔ووٹر رجسٹریشن کے عمل کو مزید مسلسل بنانے کے مقصد سے کمیشن نے ایک اہم انتظام کے تحت ایسے افراد سے پیشگی درخواستیں قبول کرنے کی اجازت بھی دی ہے، جو یکم اپریل، یکم جولائی اور یکم اکتوبر 2027 کو 18 سال کی عمر مکمل کریں گے۔ ان درخواستوں پر متعلقہ سہ ماہی میں ہی کارروائی کی جائے گی، جب درخواست گزار ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) جاری ہے یا حال ہی میں مکمل ہوئی ہے، وہاں ایس ایس آر کا عمل فوری طور پر شروع نہیں کیا جائے گا۔ ان میں آندھرا پردیش، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مہاراشٹر، میگھالیہ، ناگالینڈ، دہلی، تریپورہ اور تلنگانہ شامل ہیں۔ کمیشن نے کہا ہے کہ ان علاقوں کے لیے الگ سے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔ ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور لداخ میں بھی نظرثانی کا پروگرام بعد میں جاری ہوگا، جہاں ایس آئی آر ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔ ان علاقوں میں موسمی حالات کو مدنظر رکھا جائے گا۔کمیشن نے واضح کیا ہے کہ نظرثانی کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ سے باہر نہ رہے اور کسی نااہل شخص کا نام فہرست میں شامل نہ ہو۔ انتخابی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان تمام اہل شہریوں سے درخواستیں وصول کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کریں، جن کا اب تک اندراج نہیں ہوا ہے۔ اس میں یکم جنوری 2027 تک 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے افراد اور سال کے دوران بعد کی تین اہلیت کی تاریخوں پر اہل ہونے والے ممکنہ ووٹر بھی شامل ہیں۔موجودہ ووٹر اندراجات کو حذف کرنے کے سلسلے میں کمیشن نے تفصیلی حفاظتی انتظامات مقرر کیے ہیں، تاکہ کسی کا نام من مانے طریقے سے نہ ہٹایا جا سکے۔ مبینہ طور پر دوہرے اندراج، فوت شدہ ووٹروں اور مستقل طور پر رہائش تبدیل کر چکے افراد کے معاملات میں موقع پر تصدیق لازمی ہوگی۔ کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کی تجویز پیش کیے جانے پر متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسر کو سماعت کا موقع دینے کے بعد وجوہات کے ساتھ حکم جاری کرنا ہوگا۔ یہ کارروائی نافذ قانونی دفعات کے تحت کی جائے گی۔ ایسے احکامات ای سی آئی نیٹ پلیٹ فارم پر بھی اپ لوڈ کرنا ہوں گے۔کمیشن نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ موت کے معاملات کو چھوڑ کر نام حذف کرنے کی ہر تجویز پر متعلقہ ووٹر کو ذاتی طور پر نوٹس دیا جائے۔ دعووں اور اعتراضات کی فہرستیں چیف الیکشن افسر کی ویب سائٹ، انتخابی رجسٹریشن افسر کے دفتر اور پولنگ مراکز کے نوٹس بورڈ پر شائع کرنے اور تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو فراہم کرنے کے بعد کم از کم سات دن کا واضح وقفہ رکھا جائے گا۔ اس کے بعد ہی کسی معاملے میں فیصلہ کیا جا سکے گا۔اگر کسی پولنگ مرکز پر نام حذف کرنے کی مجوزہ تعداد کل ووٹروں کے دو فیصد سے زیادہ ہو یا کوئی ایک شخص پانچ سے زیادہ معاملات میں اعتراضات درج کراتا ہے تو ایسے معاملات کی انتخابی رجسٹریشن افسر کو ذاتی طور پر دوبارہ جانچ کرنی ہوگی۔یہ حفاظتی اقدامات ایس آئی آر کے معاملے پر جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان اہمیت رکھتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں مسلسل نام حذف کرنے کے پیمانے اور طریقہ کار پر سوال اٹھاتی رہی ہیں اور الزام لگاتی رہی ہیں کہ حقیقی ووٹروں کے نام بھی فہرست سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ کمیشن کی تازہ ہدایات کا مقصد نظرثانی کے عمل میں جواب دہی بڑھانا اور اہل شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم ہونے سے بچانا ہے۔کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آدھار نمبر دستیاب نہ ہونا ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کی درخواست مسترد کرنے یا پہلے سے موجود اندراج حذف کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ فارم 6 اور فارم 8 میں آدھار کی تفصیلات فراہم کرنا رضاکارانہ ہوگا اور محض آدھار نمبر نہ دینے کی وجہ سے کسی ووٹر کی رجسٹریشن روکی نہیں جا سکے گی۔مقررہ طریقہ کار کے مطابق ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے فارم 6 استعمال کیا جائے گا، جبکہ بیرون ملک مقیم ہندوستانی ووٹروں کو فارم 6 اے کے ذریعے درخواست دینی ہوگی۔ کسی نئے نام کے اندراج پر اعتراض یا نام حذف کرنے کی درخواست کے لیے فارم 7، جبکہ رہائش تبدیل کرنے، تفصیلات میں اصلاح، ووٹر فوٹو شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) تبدیل کرنے اور معذور ووٹروں کی نشاندہی کے لیے فارم 8 استعمال کیا جائے گا۔ درخواستیں ووٹر سروس پورٹل یا ای سی آئی نیٹ ایپ کے ذریعے آن لائن بھی جمع کرائی جا سکیں گی۔کمیشن نے ووٹروں کی سہولت اور پولنگ مراکز تک رسائی آسان بنانے کے لیے ان کی وسیع پیمانے پر معقول تنظیم نو کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ عمومی اصول کے تحت کسی پولنگ مرکز پر کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر 1,200 سے زیادہ ووٹر نہیں ہونے چاہئیں۔ کثیر منزلہ رہائشی عمارتوں، گروپ ہاؤسنگ سوسائٹیوں، شہری کچی آبادیوں اور گنجان آباد علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کو کہا گیا ہے، جہاں اضافی پولنگ مراکز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انتخابی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، ایک ہی خاندان کے افراد کو ایک ہی سیکشن اور پولنگ مرکز میں رکھا جائے، اسی طرح ایک ہی عمارت یا علاقے کے رہائشیوں کو بھی ایک ساتھ درج کیا جائے۔اس عمل کے تحت ووٹر لسٹوں کا تفصیلی شماریاتی جائزہ بھی لیا جائے گا، تاکہ رجسٹریشن میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ اس دوران خاص طور پر خواتین اور 18 سے 19 سال کی عمر کے نوجوان ووٹروں پر توجہ دی جائے گی۔ انتخابی رجسٹریشن افسران اور ضلع انتخابی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صنفی تناسب، عمر کے زمروں، ووٹروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے یا کمی اور پولنگ مرکز کی سطح پر موجود بے ضابطگیوں کا جائزہ لیں۔ اس کے بعد چیف الیکشن افسر ریاستی سطح پر جائزہ لے کر سامنے آنے والی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک عملی منصوبہ تیار کریں گے۔مقررہ وقت کے اندر یہ عمل مکمل کرنے کے لیے کمیشن نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو مناسب تعداد میں عملہ اور ضروری وسائل فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف سکریٹریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نظرثانی کے دوران ضلع انتخابی افسر، انتخابی رجسٹریشن افسر اور معاون انتخابی رجسٹریشن افسر کے عہدے خالی نہ رہیں۔ مسودہ ووٹر لسٹ کی اشاعت سے لے کر حتمی فہرست کے باضابطہ اعلان تک اس عمل میں مصروف افسران کے تبادلے کے لیے بھی کمیشن کی پیشگی اجازت ضروری ہوگی۔اس عمل کے مختلف مراحل میں تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
چیف الیکشن افسران اور ضلع انتخابی افسران کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ باقاعدگی سے میٹنگیں کرنے اور انتخابی رجسٹریشن افسران کو دعووں اور اعتراضات کی مطبوعہ فہرستیں ہفتہ وار فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مقرر کردہ بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) روزانہ فارم 6، فارم 7 اور فارم 8 کی زیادہ سے زیادہ 10 درخواستیں بوتھ لیول افسر کے پاس جمع کرا سکیں گے۔ متعلقہ افسران ان درخواستوں کی تصدیق کریں گے۔کمیشن نے نقل مکانی کرنے والوں ، بے گھر افراد، رین بسیروں میں رہنے والوں، مزدور بستیوں اور دیگر کمزور طبقات کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم اور کیمپ لگانے کی بھی ہدایت دی ہے۔ خواتین، خواجہ سراؤں، درج فہرست قبائل، خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں، بزرگ شہریوں اور معذور افراد کی رجسٹریشن بڑھانے کے لیے بھی خصوصی اقدامات مقرر کیے گئے ہیں۔یہ ہدایات کمیشن کی جانب سے 29 ستمبر کو جاری ان احکامات کے بعد سامنے آئی ہیں، جن میں اہل شہریوں، خاص طور پر ووٹر لسٹ سے چھوٹ جانے والے افراد اور نوجوانوں نیز پہلی بار ووٹ دینے والوں کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی مہم چلانے کو کہا گیا تھا۔ سال 2027 کی تین اضافی اہلیت کی تاریخوں کے لیے پیشگی درخواست کی سہولت فراہم کرکے کمیشن نے ووٹر رجسٹریشن کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ تصدیق کے عمل اور غلط طریقے سے نام شامل کرنے یا حذف کرنے کے خلاف حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ ان چھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں یہ عمل 21 جنوری کو حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے ساتھ مکمل ہوگا۔
