اداریہ ؍مضامین

جمہوریت کی جیت اور ٹرمپ کا امتحان -انتخابی شکست تسلیم کرنا ہی جمہوری سیاست کا پہلا سبق ہے

جمہوریت کی خوب صورتی صرف اس بات میں نہیں کہ عوام کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا حق حاصل ہے، بلکہ اس کی اصل طاقت اس بات میں بھی پوشیدہ ہے کہ اقتدار پر بیٹھے ہوئے لوگ عوام کے فیصلے کو کس حد تک تسلیم کرتے ہیں۔ انتخابی شکست کو قبول کرنا، مخالفین کی کامیابی کا اعتراف کرنا اور سیاسی اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ مکالمے کے لیے آمادہ ہونا جمہوری نظام کی وہ بنیادی قدریں ہیں جن کے بغیر انتخابات محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتے ہیں۔ امریکہ میں حالیہ سیاسی پیش رفت اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا براہ راست ٹیلی ویژن پروگرام میں فون پر شامل ہوکر انتخابی شکست اور ڈیموکریٹس کے ساتھ ممکنہ تعاون پر گفتگو کرنا اسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی غیر معمولی کامیابی اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس کی برتری نے صدر ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ یہ محض چند نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ عوام کی جانب سے حکمرانوں کو دیا گیا ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ اقتدار کسی فرد کی جاگیر نہیں اور نہ ہی حکومت کو عوامی احتساب سے بالاتر ہونے کا حق حاصل ہے۔ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ایران جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتیں اور حکومتی ترجیحات اس انتخابی فیصلے پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل رہے ہیں۔ لیکن اس پورے واقعے کا سب سے قابل توجہ پہلو ٹرمپ کا انتخابی نتائج کے بعد کا رویہ ہے۔ وہی ٹرمپ جن کی سیاست کا ایک بڑا حصہ مخالفین پر حملوں، سیاسی محاذ آرائی اور اپنی کامیابی کے دعووں کے گرد گھومتا رہا ہے، انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد براہ راست ٹیلی ویژن پروگرام میں فون پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو مبارک باد دیتے ہیں اور ملک کے مفاد میں ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سیاسی بیان ہے، لیکن امریکی جمہوریت کے موجودہ پس منظر میں اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت میں سیاسی مقابلہ انتخابات تک محدود رہنا چاہیے، انتخابی نتائج آنے کے بعد ملک اور عوام کے مفادات کو پارٹی مفادات پر ترجیح دینا ہی جمہوری بلوغت کی علامت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے سیاسی حریف ضرور ہوتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے دشمن نہیں۔ عوام جسے اقتدار سونپتے ہیں اسے حکومت کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے اور جسے اپوزیشن میں بٹھاتے ہیں اسے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے، اختلاف کرنے اور متبادل پیش کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہی توازن جمہوریت کو آمریت میں تبدیل ہونے سے بچاتا ہے۔امریکی انتخابات نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عوام کے پاس اقتدار کے ایوانوں کو جھنجھوڑنے کی طاقت موجود ہے۔ کوئی صدر کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، اس کی مقبولیت کے دعوے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں اور اس کے سیاسی حامیوں کا حلقہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو، عوامی فیصلے کے سامنے اسے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ ٹرمپ نے انتخابی شکست کی ذمہ داری پوری طرح اپنی پالیسیوں پر قبول نہیں کی اور یہ وضاحت بھی پیش کی کہ اگر وہ خود انتخابی میدان میں ہوتے تو ری پبلکن پارٹی کو شکست نہ ہوتی۔ اس سے ان کے سیاسی مزاج اور شکست کے تجزیے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ لیکن کم از کم انہوں نے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو مبارک باد دینے اور نتائج کو تسلیم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
ہندوستان سمیت دنیا کی ان تمام جمہوریتوں کو اس واقعے سے سبق لینا چاہیے جہاں اقتدار اور اختلاف کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات کرانا، ووٹ گننا اور حکومت تشکیل دینا نہیں ہے۔ اس کا مطلب اختلاف رائے کا احترام، اداروں کی آزادی، اپوزیشن کی اہمیت اور عوامی فیصلے کی بالادستی کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ جس ملک میں یہ قدریں محفوظ رہتی ہیں وہاں سیاسی تبدیلی نظام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کی زندگی کی علامت بن جاتی ہے۔
ٹرمپ کا لائیو ٹیلی ویژن پروگرام میں آکر مخالف جماعت کو مبارک باد دینا بذات خود امریکی جمہوریت کی فتح کا مکمل پیمانہ نہیں، لیکن یہ ایک ایسا جمہوری منظر ضرور ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اصل جیت اس عوامی طاقت کی ہے جس نے دنیا کے طاقت ور ترین عہدے پر فائز شخص کو یہ احساس دلایا کہ اقتدار کا آخری فیصلہ اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ یہاں کوئی بھی شخص ناقابل شکست نہیں، کوئی بھی اقتدار دائمی نہیں اور عوام کا فیصلہ سب سے بالاتر ہے۔