دہلی شہر

بی جے پی حکومت میں غیر قانونی وصولی کے باعث دہلی میں پھر گری تین منزلہ عمارت: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی،05 نومبر،سماج نیوز:ہلی میں ایک اور تین منزلہ عمارت کے منہدم ہونے اور ملبے تلے دب کر کئی لوگوں کی موت ہونے کے واقعے پر عام آدمی پارٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج سمیت دیگر رہنماؤں نے چاوڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب تین منزلہ عمارت کے گرنے کے لیے بی جے پی حکومت میں جاری غیر قانونی وصولی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں حفاظتی آڈٹ کے نام پر صرف غیر قانونی وصولی کی جا رہی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ٹھوس کارروائی کرنے کے بجائے دہلی حکومت کے محکمے رشوت وصول کر رہے ہیں۔ رشوت ملنے پر عمارتوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور رشوت نہ دینے پر انہیں سیل کر دیا جاتا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ چاوڑی بازار میں ایک اور تین منزلہ عمارت منہدم ہو گئی ہے اور خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے کئی لوگ دبے ہوئے ہیں۔ ریکھا گپتا کی حکومت اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) نے دہلی کی تمام عمارتوں کے کئی بار حفاظتی آڈٹ کرائے ہیں، اس کے باوجود عمارتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ حفاظتی آڈٹ کے بار بار احکامات دیے گئے، لیکن ٹھوس کارروائی کرنے کے بجائے کئی محکموں نے متعدد مرتبہ رشوت وصول کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ماہ عمارتیں منہدم ہو رہی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ پہلے صرف دہلی پولیس اور ایم سی ڈی رشوت لیتی تھیں، لیکن ریکھا گپتا کی حکومت آنے کے بعد فائر بریگیڈ محکمہ اور اس کے ماتحت محکمہ محصولات کے ایس ڈی ایم نے بھی عمارتوں سے رشوت وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ جو لوگ رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں، ایم سی ڈی ان کی عمارتوں کو سیل کر دیتی ہے۔
اس سے امتیازی بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ ایک وارڈ میں جی کے-2 مارکیٹ کے دو جم سیل کر دیے گئے، جبکہ اسی ساؤتھ زون میں دیگر جم اور تجارتی عمارتیں اب بھی کھلی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکش نارنگ نے بھی بی جے پی حکومت میں مبینہ بدعنوانی کے باعث آئے دن عمارتیں گرنے کے واقعات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے مشہور چاوڑی بازار میں چاوڑی بازار میٹرو اسٹیشن کے سامنے گلی ستارہ میں زیر تعمیر تین منزلہ عمارت کا اچانک تاش کے پتوں کی طرح ڈھیر ہو جانا انتہائی تشویش ناک اور بدقسمتی کی بات ہے۔ خدشہ ہے کہ ملبے کے نیچے کئی لوگ دبے ہوئے ہیں۔ انکش نارنگ نے کہا کہ دہلی میں آئے دن عمارتیں گر رہی ہیں اور لوگوں کی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں، لیکن بی جے پی حکومت اور بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی دہلی میں صرف بدعنوانی میں مصروف ہیں۔ آخر غیر قانونی تعمیرات اور بدعنوانی پر لگام کون لگائے گا؟ کیا بی جے پی کی چار انجن والی حکومت کی ذمہ داری صرف اقتدار کے مزے لینا اور بدعنوانی کرنا ہے؟ اس حادثے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں، راحت اور بچاؤ کے کاموں میں تیزی لائی جائے اور قصوروار افسران و ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ دہلی کے عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ اب بند ہونا چاہیے!