فروغِ اردو کی جانب سے دربھنگہ میں اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ضلعی شاخ کا قیام
دربھنگہ ، سماج نیوز سروس: جامع مسجد عالم نگر ککورہا (دربھنگہ) سے متصل ’تبارک حسین منزل‘ کے دالان میں الحاج پروفیسر ڈاکٹر ولی محمد کی صدارت میں فروغِ اردو کے سلسلے میں ایک اہم نشست منعقد ہوئی۔ پروگرام کے کنوینر متحرک نوجوان محمد محتشم سرور تھے، جب کہ نظامت کے فرائض الحاج حکیم اعجاز احمد اعجازی دربھنگوی اور مولانا مناظر الاسلام ندوی نے انجام دیے۔نشست کا باضابطہ آغاز مولانا نظام الدّین بدر القاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ریّان احمد نے علّامہ اقباؔلؒ کا معروف کلام پیش کیا اور سدریٰ ناز نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ بعد ازاں الحاج حکیم اعجاز احمد اعجازی دربھنگوی نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ دہلی میں علّامہ ڈاکٹر محمّد اقباؔلؒ کے یومِ پیدائش 9 نومبر کی مناسبت سے پہلی مرتبہ 1997 میں محسنِ طب و اردو عالیجناب ڈاکٹر سیّد احمد خاں کی قیادت میں ’یومِ اردو‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جو تسلسل سے ہر سال تنظیم اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے بینر تلے منعقد کیا جاتا ہے اور یادگاری مجلّہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ 1997 میں جو شمع روشن کی گئی تھی، اس کا پیغام عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ الحمدللّٰہ! آج دنیا بھر میں اردو کے بہی خواہان، محبّان، شیدائیان، پاسبانان اور جان نثاران کی جانب سے 9 نومبر کو ’جشنِ یومِ اردو‘ نہایت تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تنظیم کے قومی صدر عالیجناب ڈاکٹر سیّد احمد خاں کے حسب الحکم یہ ایک تاریخی پہل ہے کہ یہاں اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی شاخ قائم کی جا رہی ہے۔ نسلِ نو میں اردو کے تئیں بیداری اور عملی سرگرمی ناگزیر ہے۔ نوجوانوں، اساتذہ کرام اور اردو دوستوں کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ اردو محض ایک زبان نہیں، بلکہ ہماری ثقافت، تہذیب اور معاشرت کا حصّہ ہے۔ اس کی آبیاری کے لیے ایک لائحہ عمل کے تحت سرگرم ہونے کی ضرورت ہے۔ یقین ہے کہ جو شمع یہاں روشن کی جا رہی ہے، اس کی روشنی دور دراز تک پھیلے گی اور جو گُل و بُوٹے یہاں لگائے جا رہے ہیں، ان کی مہک اور شادابی صوبہ بہار کے طول و عرض تک پہنچے گی، ان شاءاللّٰہ ۔اس موقع پر الحاج محمد قمر الہدیٰ نے ’’طلبہ میں اردو زبان کے تئیں بیداری کیسے پیدا کی جائے‘‘ کے عنوان پر اظہارِ خیال فرمایا۔
الحاج نیاز محمد رضوی نے ’’موجودہ صورتِ حال میں اردو زبان کی اہمیت‘‘ پر روشنی ڈالی۔ ماسٹر محمد عمر عالم نے اردو کی ترقی کے لیے اہم نکات اور قیمتی مشوروں سے نوازا۔ مولانا مناظر الاسلام نے اردو کے موجودہ مسائل اور بچوں میں اردو سے شوق و ذوق اور دلچسپی پیدا کرنے پر اظہارِ خیال کیا۔ فیض محمد رضواں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اردو صرف ہمارے ماضی کی زبان نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی پہچان ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچّوں کے دلوں میں اردو کی محبّت پیدا کریں۔ اگر ہمارا نوجوان اردو سے جڑا رہے گا تو ہماری تہذیب و ثقافت ہمیشہ زندہ رہے گی۔پروگرام کے کنوینر محمد محتشم سرور نے گاؤں کے نوجوانوں سے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت اور ترقی کے لیے جذبۂ خلوص و محبت کے ساتھ منظم طریقے سے باہمی تعاون کی اپیل کی۔خطبۂ صدارت میں الحاج پروفیسر ڈاکٹر ولی محمّد نے اردو کی عظیم تاریخی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے اس زبان کی شیرینی اور عظمت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اپنے عالمانہ خطاب میں فرمایا: ’’ہمیں اندھیروں کا شکوہ نہیں کرنا ہے، بلکہ اپنے حصّے کے چراغ کو روشن کرنا ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو اندھیرے خود بخود زائل ہوتے چلے جائیں گے۔‘‘شرکائے اجلاس میں نمایاں نام: عالیجنــــــــــــــــاب الحاج پروفیسر ڈاکٹر ولی محمد، الحاج حکیم اعجاز احمد اعجازی دربھنگوی، الحاج محمد قمر الہدیٰ، الحاج نیاز محمد رضوی، ماسٹر محمد عمر عالم، مولانا نظام الدین بدر القاسمی، مولانا مناظر الاسلام، مولانا تاج الدین بدر، فیض محمد رضواں، ماسٹر محمد صلاح الدین، ماسٹر محمد محتشم سرور، ماسٹر محمد شفیع، ماسٹر محمد وسیم سرور، ماسٹر امتیاز احمد، محمد اسلم حسین ندوی، مہدی حسن، مفتی حافظ معصوم عالم، ماسٹر محمد شمیم، محمد سرفراز و دیگر۔
الحاج نیاز محمد رضوی نے ’’موجودہ صورتِ حال میں اردو زبان کی اہمیت‘‘ پر روشنی ڈالی۔ ماسٹر محمد عمر عالم نے اردو کی ترقی کے لیے اہم نکات اور قیمتی مشوروں سے نوازا۔ مولانا مناظر الاسلام نے اردو کے موجودہ مسائل اور بچوں میں اردو سے شوق و ذوق اور دلچسپی پیدا کرنے پر اظہارِ خیال کیا۔ فیض محمد رضواں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اردو صرف ہمارے ماضی کی زبان نہیں بلکہ ہمارے مستقبل کی پہچان ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچّوں کے دلوں میں اردو کی محبّت پیدا کریں۔ اگر ہمارا نوجوان اردو سے جڑا رہے گا تو ہماری تہذیب و ثقافت ہمیشہ زندہ رہے گی۔پروگرام کے کنوینر محمد محتشم سرور نے گاؤں کے نوجوانوں سے اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت اور ترقی کے لیے جذبۂ خلوص و محبت کے ساتھ منظم طریقے سے باہمی تعاون کی اپیل کی۔خطبۂ صدارت میں الحاج پروفیسر ڈاکٹر ولی محمّد نے اردو کی عظیم تاریخی شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے اس زبان کی شیرینی اور عظمت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اپنے عالمانہ خطاب میں فرمایا: ’’ہمیں اندھیروں کا شکوہ نہیں کرنا ہے، بلکہ اپنے حصّے کے چراغ کو روشن کرنا ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو اندھیرے خود بخود زائل ہوتے چلے جائیں گے۔‘‘شرکائے اجلاس میں نمایاں نام: عالیجنــــــــــــــــاب الحاج پروفیسر ڈاکٹر ولی محمد، الحاج حکیم اعجاز احمد اعجازی دربھنگوی، الحاج محمد قمر الہدیٰ، الحاج نیاز محمد رضوی، ماسٹر محمد عمر عالم، مولانا نظام الدین بدر القاسمی، مولانا مناظر الاسلام، مولانا تاج الدین بدر، فیض محمد رضواں، ماسٹر محمد صلاح الدین، ماسٹر محمد محتشم سرور، ماسٹر محمد شفیع، ماسٹر محمد وسیم سرور، ماسٹر امتیاز احمد، محمد اسلم حسین ندوی، مہدی حسن، مفتی حافظ معصوم عالم، ماسٹر محمد شمیم، محمد سرفراز و دیگر۔
