مدرسہ نوریہ صوفیہ میں جشن تکمیل قرآن مع کنزالایمان کا شاندار انعقاد
پٹنہ: مورخہ 31 اکتوبر، بروز ہفتہ، مدرسہ نوریہ صوفیہ، باقر گنج، گاندھی میدان، پٹنہ میں جشن تکمیل قرآن مجید مع ترجمۂ کنزالایمان کی ایک روح پرور اور بامقصد تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس بابرکت محفل کا اہتمام مدرسہ کے بانی ڈاکٹر مفتی عارف حسین صاحب نے کیا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے استاذ مرکزی ادارۂ شرعیہ پٹنہ، خطیب و امام قدیمی جامع مسجد، محمدپور شاہ گنج، مولانا مفتی غلام رسول اسماعیلی نے شرکت فرمائی۔ اس موقع پر لان جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا ندیم اختر بھی بطور مہمان شریک ہوئے۔تقریب کے آغاز میں بانی مدرسہ ڈاکٹر مفتی عارف حسین صاحب نے معزز مہمانوں کا گلدستہ پیش کرکے پرتپاک استقبال کیااور قرآن پاک کی تلاوت سے محفل کی ابتدا ہوئی۔ بعد ازاں مدرسہ کے طلبہ و طالبات نے قرآن مجید مع اردو ترجمۂ کنزالایمان کا اختتامی سبق پڑھ کر اپنی تکمیل قرآن کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر طلبہ و طالبات نے اردو، ہندی، انگریزی اور سنسکرت زبانوں میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں کی پیش کش کے ذریعے اپنی لسانی استعداد اور علمی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔تقریب کا ایک اہم اور قابل مسرت مرحلہ ان طلبہ و طالبات کی پذیرائی کا تھا جنہوں نے قرآن مجید مع ترجمۂ کنزالایمان کی تکمیل کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر عزیزہ نوریہ عارف اور محمد ازرق نعیم کو اسناد، شیلڈ اور انعامات سے نوازا گیا۔ ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اساتذہ کی تعلیمی و تربیتی کاوشوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔اس موقع پر مدرسہ کے بانی ڈاکٹر مفتی عارف حسین صاحب نے مدرسہ کے قیام کے بنیادی مقاصد اور تعلیمی و تربیتی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ علم دین کا چراغ گھر گھر روشن ہو، ہماری نسلیں دین و شریعت سے واقف ہوں اور عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت سے بھی بہرہ ور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مدرسہ نوریہ صوفیہ کا مقصد محض تعلیم فراہم کرنا نہیں، بلکہ نئی نسل کے اندر دینی شعور، اخلاقی اقدار اور صالح کردار کی بنیاد مستحکم کرنا بھی ہےتاکہ مستقبل میں ایک باکردار اور صالح معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔مہمان خصوصی مولانا مفتی غلام رسول اسماعیلی نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں علم دین کی فضیلت، قرآن مجید کی عظمت اور نئی نسل کی دینی تربیت کی اہمیت پر نہایت جامع انداز میں گفتگو کی۔ انہوں نے مدرسہ نوریہ صوفیہ میں تشریف آوری پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آکر قلبی خوشی حاصل ہوئی۔ کم سن طلبہ و طالبات میں جس علمی استعداد، دینی ذوق اور تعلیمی صلاحیت کے آثار نمایاں ہیں، وہ نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ موجودہ حالات میں ایسے تعلیمی اداروں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے، جہاں بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ان کی ہمہ جہت نشوونما کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ علم دین ایک ایسا گراں قدر سرمایہ اور لازوال دولت ہے جس کا دنیا کی کسی مادی نعمت سے تقابل نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام نے علم اور اہل علم کو غیر معمولی فضیلت و عظمت عطا فرمائی ہے اور احادیث مبارکہ میں طلب علم کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو شخص حصول علم کی غرض سے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ اسی طرح طالب علم کی جدوجہد کو اللہ کی راہ میں جہاد قرار دیا گیا ہے۔مفتی غلام رسول اسماعیلی نے کہا کہ علم دین انسان کو اپنے خالق و مالک کی معرفت عطا کرتا، عقائد و افکار کی اصلاح کرتا اور زندگی کے شب و روز کو احکام شریعت کے مطابق گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہی وہ علم ہے جو انسان کو محض معلومات کا حامل نہیں بناتا بلکہ اس کے کردار، عمل اور فکر کو بھی سنوارتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح دیں اور انہیں قرآن و سنت کی تعلیمات سے مضبوط وابستگی عطا کریں۔انہوں نے بانی مدرسہ ڈاکٹر مفتی عارف حسین صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مدرسہ نوریہ صوفیہ میں جو کام ہورہا ہے، وہ محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں، بلکہ مستقبل کی نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر کا ایک قابل قدر عملی قدم ہے۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے قرآن مجید، ترجمۂ قرآن،بنیادی اسلامی تعلیم اور مختلف زبانوں سے روشناس کرانا ایک قابل تحسین کاوش ہے۔ اس کے لیے بانی مدرسہ کے ساتھ ساتھ تمام اساتذہ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں، جو اخلاص، محنت اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ اس علمی و تربیتی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے مزید کامیابیوں کی دعا بھی کی۔اسی سلسلے میں لان جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا ندیم اختر نے بھی علم دین کی اہمیت و افادیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے جس علم کو فرض اور بنیادی ضرورت قرار دیا ہے، وہ علم دین ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے رب کی معرفت حاصل کرتا اور زندگی کے صحیح مقصد سے آشنا ہوتا ہے۔ دنیاوی علوم و فنون میں مہارت اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، لیکن اگر انسان دینی شعور اور اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہو تو اس کی علمی ترقی ادھوری رہ جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علم دین ہی انسان کے عقائد کی درستی، فکر کی پاکیزگی اور اعمال کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی کی تعلیم انسان کو حلال و حرام، جائز و ناجائز اور حقوق و فرائض کی پہچان عطا کرتی ہے۔ اسی علم کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کو رضائے الٰہی کے مطابق ڈھال سکتا ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔ اس لیے والدین اور سرپرستوں کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی توجہ دیں۔تقریب کے اختتام پر بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں صلوٰۃ و سلام پیش کیا گیا، جبکہ دعا و فاتحہ کے بعد عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس طرح ایک روح پرور، علمی اور تربیتی پیغام سے معمور یہ تقریب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔
