ندی سنجیونی‘ کے تحت تاریخی معاہدے سے بہار میں قومی شاہراہوں کی تعمیر کو ملے گی نئی رفتار: سمراٹ چودھری
پٹنہ: وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کے وزیر نتن گڈکری کی باوقار موجودگی میں مرکزی حکومت کی وزارت سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ اور بہار حکومت کے درمیان ’ندی سنجیونی‘ پروگرام کے تحت ندیوں اور دیگر آبی ذخائر سے گاد (سلٹ) نکالنے اور اس کے استعمال کے سلسلے میں مفاہمت نامے (MoU) پر دستخط کیے گئے۔’ندی سنجیونی‘ پروگرام کے تحت ہونے والے اس تاریخی معاہدے کا مقصد بہار کی ندیوں اور دیگر آبی ذخائر میں جمع گاد کا سائنسی طریقے سے انتظام کرنا، ندیوں سے گاد نکال کر انہیں دوبارہ زندہ کرنا اور نکالی گئی گاد کو قومی شاہراہوں اور دیگر سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کرنا ہے۔
اس نظام کے تحت ندیوں سے نکالی گئی گاد کو سڑکوں کی تعمیر کے لیے متبادل مواد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جہاں بھی قومی شاہراہ اتھارٹی (NHAI) کو گاد کی ضرورت ہوگی، وہاں بہارحکومت ضابطوں کے مطابق کان کنی کا لائسنس فراہم کرنے میں تعاون کرے گی۔ اس سے ندیوں میں پانی ذخیرہ کرنے اور اس کے بہاؤ کی صلاحیت میں بھی بہتری آئے گی۔
یہ معاہدہ بہار آبی ذرائع کی بحالی اور گاد (سلٹ) مینجمنٹ پالیسی 2026 کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد ’گہری ندیاں، مضبوط سڑکیں اور خوشحال بہار‘ ہے۔ گاد کے استعمال سے قدرتی بالائی زرخیز مٹی (Topsoil) کے بے جا استخراج میں کمی آئے گی اور دریائی ماحولیاتی نظام میں بہتری آئے گی۔بہار میں 58,340 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے این ایچ اے آئی کے 39 پروجیکٹ(کل 1,561 کلومیٹر) زیرِ تعمیر ہیں، جبکہ 1,85,200 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت والے 11 نئے پروجیکٹ( 1,982 کلومیٹر) کی تجویز ہے۔ اس مفاہمت نامے کے تحت 243 لاکھ کیوبک میٹر مفت گاد کا استعمال 16 جاری شاہراہ پروجیکٹوں میں کیا جائے گا۔ علاقائی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف ندیوں پر 29 نئے پل بھی زیرِ تعمیر ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اس تاریخی معاہدے کے لیے وزیراعظم محترم جناب نریندر مودی جی اور سڑک ، ٹرانسپورٹ و شاہراہ کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری جی کا شکریہ ادا کیا۔
’ندی سنجیونی‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے روڈ ،ٹرانسپورٹ اور شاہراہ کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے کہا کہ مہاراشٹر کے کامیاب بلڈھانا ماڈل کی طرز پر بہار کی ندیوں سے گاد نکالنے کا کام کیا جائے گا۔ اس سے ندیوں کی بحالی ہوگی اور آبی تحفظ کو فروغ ملے گا۔ اس پورے منصوبے سے بہار حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا اور مرکزی حکومت ریاست سے ایک بھی پیسہ نہیں لے گی۔ ندیوں سے گاد نکلنے کے بعد پانی ذخیرہ کرنے اور اس کے بہاؤ کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔ کسانوں کو آب پاشی کے لیے پانی فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور بہار میں ہر سال سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کیا جا سکے گا۔ اس سے زرعی شعبے کو مضبوطی ملے گی اور کسانوں کی زندگی میں خوشحالی آئے گی۔
’ندی سنجیونی‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہار ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے اپنی الگ گاد (سلٹ) پالیسی بنائی ہے۔ بہار پانی کے ذرائع کی دوبارہ بحالی اور گاد پالیسی 2026 کے ذریعے ریاست کی ندیوں اور آبی ذخائر میں جمع گاد کا بہتر انتظام کیا جائے گا۔بہار کے دو بڑے چیلنجز، یعنی زیادہ آبادی اور پانی کا بے قابو بہاؤ، اب ترقی کی طاقت بنیں گے۔ ندیوں سے نکلنے والی گاد ریاست کے لیے سنجیونی ثابت ہوگی اور بہار کی معیشت کو مضبوطی فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ نیپال میں ہونے والی شدید بارش اور دیگر ریاستوں سے آنے والے پانی کی وجہ سے بہار کو ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فرکا بیراج کی وجہ سے گنگا ندی میں گاد جمع ہونے کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ ندیوں سے گاد نکالنے اور ان کی بحالی سے سیلاب کے اثرات کم کرنے اور آبی انتظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ندیوں سے نکالی گئی گاد کو قومی شاہراہوں اور دیگر سڑکوں کی تعمیر میں استعمال کیا جائے گا۔ این ایچ اے آئی کو جہاں بھی گاد کی ضرورت ہوگی، وہاں بہار حکومت ضابطوں کے مطابق کان کنی کا لائسنس فراہم کرنے میں تعاون کرے گی۔ اس سے گاد کو ایک مفید وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا اور سڑکوں کی تعمیر کو بھی رفتار ملے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بہار بنگلہ دیش کو پانی دیے جانے کا مخالف نہیں ہے، لیکن بہار کی ضروریات کا بھی مکمل خیال رکھا جانا چاہیے۔ موجودہ نظام میں بہار کو صرف چار ماہ(جولائی، اگست، ستمبر اور اکتوبر) ہی گنگا کے پانی کے استعمال کا موقع ملتا ہے۔ بہار جیسی ریاست کو زراعت، صنعت اور پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہونا چاہیے۔انہوں نے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری جی سے خصوصی طور پر درخواست کی کہ گنگا ندی کے دونوں کناروں پر چار لین والی سڑک تعمیر کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کئی نئی ٹاؤن شپ کی ترقی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ بہتر سڑک رابطہ اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع بہار کی اقتصادی ترقی کو مزید رفتار فراہم کرے گی۔
’ندی سنجیونی‘ پروگرام بہار کے قدرتی چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرنے والی ایک اہم پہل ہے۔ اس سے ماحولیاتی تحفظ، آبی وسائل کا بہتر انتظام، سیلاب پر قابو پانے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے کام ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ندیوں سے گاد نکالے جانے کے بعد تقریباً ایک لاکھ ایکڑ نئی زمین دستیاب ہوگی، جس سے ممبئی اور دہلی کی طرز پر بہار میں ’گنگا فیسنگ‘ کالونیاں اور مکانات تعمیر کیے جا سکیں گے۔ریاست میں کئی ترقیاتی کام کیے جارہے ہیں۔ریاست میں 80 ہزار ایکڑ زمین پر 12 نئی ٹاؤن شپ تیار کی جا رہی ہیں، جن میں پٹنہ میں پاٹلی پتر، گیا میں مگدھ، مونگیر میں انگ، بھاگلپور میں وکرم شیلا، سہرسہ میں کوسی، دربھنگہ میں متھلا، مظفرپور میں ترہت اور ماں سیتا کی جائے پیدائش پر سیتاپورم فروغ دیا جارہا ہے۔ ان تمام بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، 10 نئے ہوائی اڈوں اور 32 نئے میڈیکل کالجوں کی تعمیر میں اس گاد کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے اس تاریخی پہل کے لیے وزیراعظم محترم جناب نریندر مودی جی اور مرکزی وزیر محترم جناب نتن گڈکری جی کا دوبارہ شکریہ اداکرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ مرکزی حکومت کے تعاون سے بہار ترقی کی نئی بلندیوں کو حاصل کرے گا اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اپنا اہم کردار ادا کرے گا۔
اس موقع پر بہار کے چیف سکریٹری مسٹر پرتیے امرت، وزارت سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کے سکریٹری مسٹر وی. امیش شنکر، انڈین قومی شاہراہ اتھارٹی (NHAI) کے چیئرمین جناب سنتوش کمار یادو، محکمہ تعمیرات سڑک، بہار کے سکریٹری مسٹر پنکج کمار پال، وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کے جوائنٹ سکریٹری (شاہراہ) جناب اُدت اگروال، این ایچ اے آئی کے رکن (منصوبہ جات) جناب انیل چودھری سمیت دیگر سینئر افسران موجود تھے۔
