Featured

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی، بھارت امریکہ تعلقات میں بہتری کی امید

نئی دہلی، ۔ ایم این این۔ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی کے بعد بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ سیاسی اور تجارتی ماہرین کے مطابق انتخابی نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی، خارجہ اور امیگریشن پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ڈیموکریٹس نے امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جس سے صدر ٹرمپ کے بعض فیصلوں پر پارلیمانی نگرانی اور سیاسی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔گزشتہ دو برسوں کے دوران بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں تجارتی محصولات، روس سے تیل کی خریداری، ایچ ون بی ویزا پابندیوں اور علاقائی خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔بھارتی مصنوعات پر امریکی محصولات ایک مرحلے پر 50 فیصد تک پہنچ گئے تھے، جنہیں بعد میں بیشتر مصنوعات کے لیے 18 فیصد تک کم کیا گیا۔ تاہم تجارتی معاہدے سے متعلق کئی معاملات اب بھی زیرِ بحث ہیں۔سابق بھارتی سفارت کار انیل تریگنایت کے مطابق بھارت کو روایتی طور پر امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے صدر ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں پر نگرانی بڑھ سکتی ہے اور بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون پر دو جماعتی اتفاقِ رائے کو تقویت مل سکتی ہے۔ایچ ون بی ویزا رکھنے والے بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے بھی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کرنے والے ہزاروں بھارتی شہریوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق انتخابی نتائج سے ویزا پابندیاں فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔دوسری جانب تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود امریکی تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی ضروری نہیں، کیونکہ دونوں جماعتیں ملکی صنعتوں اور روزگار کے تحفظ کو اہمیت دیتی ہیں۔انتخابات میں کئی بھارتی نژاد امریکی امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی۔ سہاس سبرامنیم، رو کھنہ اور پرمیلا جے پال دوبارہ ایوانِ نمائندگان کے لیے منتخب ہوئے، جبکہ ارونا ملر میری لینڈ کی لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے کامیاب رہیں۔بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے امریکی انتخابی نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں جمہوری اداروں کے احتساب کی اہم مثال قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں امریکی کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان طاقت کا نیا توازن بھارت کے ساتھ تجارتی مذاکرات، امیگریشن قوانین اور دفاعی تعاون کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔