قومی خبریں

بھارت میں 12 سال کے دوران 49 کروڑ 60 لاکھ افراد غربت سے باہر-  عالمی بینک کی رپورٹ میں تاریخی پیش رفت کا اعتراف

نئی دہلی۔ ایم این این۔ بھارت نے غربت کے خاتمے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 2011 سے 2023 کے درمیان تقریباً 49 کروڑ 60 لاکھ افراد کو غربت کی سطح سے اوپر پہنچایا ہے۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ دنیا میں غربت میں کمی کی تیز ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔اکتوبر 2026 میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت میں یومیہ تین ڈالر سے کم پر زندگی گزارنے والے افراد کی شرح 2011 میں 27.1 فیصد تھی، جو 2023 میں گھٹ کر محض 2.6 فیصد رہ گئی۔اسی دوران یومیہ 4.20 ڈالر کی بین الاقوامی خطِ غربت کے مطابق غریب آبادی کا تناسب 57.7 فیصد سے کم ہو کر 16.1 فیصد رہ گیا۔ اس طرح تقریباً 49 کروڑ 60 لاکھ افراد اس خطِ غربت سے اوپر آگئے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں غربت میں کمی کی بڑی وجوہات میں گھریلو کھپت میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع، خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں بڑھتی ہوئی شرکت اور سرکاری فلاحی پروگرام شامل ہیں۔2017 سے 2023 کے درمیان ملک میں تقریباً 13 کروڑ 40 لاکھ افراد کے روزگار میں اضافہ ہوا۔ اس پیش رفت میں دیہی خواتین کی ملازمتوں اور معاشی سرگرمیوں میں شمولیت نے اہم کردار ادا کیا۔غذائی امداد، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے پروگراموں سے بھی کم آمدنی والے خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد ملی۔عالمی بینک کے مطابق دیہی بھارت میں غربت کی شرح شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کم ہوئی، جس سے دونوں کے درمیان معاشی فرق گھٹا ہے۔تاہم اتر پردیش سے مغربی بنگال تک پھیلے خطے میں اب بھی ملک کی تقریباً 57 فیصد غریب آبادی رہتی ہے۔ روزگار کے معیار، نوجوانوں کی بے روزگاری اور آمدنی میں عدم مساوات جیسے مسائل بھی برقرار ہیں۔رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یومیہ 4.20 ڈالر کے معیار کے مطابق بھارت میں غربت کی شرح 2026 کے 14.2 فیصد سے مزید کم ہو کر 2028 تک 12.1 فیصد رہ سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار بھارت کی معاشی ترقی اور سماجی بہبود کے اقدامات کے اثرات کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم غربت کے مکمل خاتمے کے لیے بہتر روزگار، تعلیم اور آمدنی میں اضافے پر مزید توجہ دینا ضروری ہوگا۔