قومی خبریں

مغربی بنگال میں 31 دسمبر تک سی اے اے کی کارروائی مکمل کرنے کا ہدف ، ٹھاکرباڑی میں خوشی کی لہر

کولکاتا (یو این آئی) مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع کے ٹھاکر نگر میں واقع ‘ٹھاکرباڑی’ میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے تحت 31 دسمبر 2026 تک 2.5 لاکھ درخواست گزاروں کو شہریت کے سرٹیفکیٹ دینے کے اعلان کے بعد برادری میں خوشی کا ماحول ہے۔انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس کے 12 زیر تربیت افسران کی تعیناتی سے درخواستوں کی کارروائی اور ان سے متعلق سماعتوں میں تیزی آنے کی امید ہے۔ اس قدم سے شہریت کے منتظر درخواست گزاروں میں نئی امید پیدا ہوئی ہے، جبکہ دوسری جانب سی اے اے کے نفاذ کو لے کر سیاسی اختلافات بھی ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے مغربی بنگال میں تقریباً 2.5 لاکھ درخواست گزاروں کے لیے 31 دسمبر تک سی اے اے کی کارروائی مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے پیر کے روز اس سلسلے میں ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ مسٹر ادھیکاری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جن متوا درخواست گزاروں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں، انہیں شہریت کا سرٹیفکیٹ ملنے کے بعد دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کے لیے انتظامیہ ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔

اس اعلان کے بعد ٹھاکرباڑی میں جشن شروع ہوگیا۔ ریاست کے مختلف علاقوں سے عقیدت مند روایتی ڈھول، جھانجھ اور سرخ و سفید مذہبی جھنڈے لے کر وہاں پہنچے۔ پورا احاطہ ‘ہری بول’ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ عقیدت مندوں نے ‘ہری نام سنکیرتن’ اور روایتی مذہبی رقص میں حصہ لیا۔ کچھ عقیدت مند اپنی مذہبی عقیدت کے اظہار کے طور پر زمین پر لوٹتے ہوئے بھی نظر آئے۔

تاہم اس جشن کے ساتھ ہی شہریت کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درمیان سیاسی بیان بازی بھی شروع ہوگئی۔ ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ ممتا بالا ٹھاکر نے اس اعلان کی سچائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ماضی میں بھی کئی بار اس طرح کے وعدے کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا، ”جب تک لوگوں کو حقیقت میں اس کا فائدہ نہیں مل جاتا، تب تک ایسے اعلانات کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔”

وہ مسلسل سی اے اے کے عمل کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متوا برادری کے لوگ پہلے ہی ہندوستانی شہری ہیں، کیونکہ ان کے پاس آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ موجود ہیں اور وہ اپنے حق رائے دہی کا استعمال بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ نئے سرے سے شہریت کی درخواست دینے پر درخواست گزاروں سے دستاویزات طلب کیے جا سکتے ہیں، جس سے ان لوگوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی جن کے دستاویزات گم ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی صورت حال میں انہیں پناہ گزین یا غیر ملکی قرار دیے جانے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جگن ناتھ سرکار نے حکومت کے اس قدم کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ٹی ایم سی پر الزام لگایا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے سی اے اے کے معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ قانون متوا برادری کے طویل عرصے سے جاری مطالبے کو پورا کرے گا اور ان کے وقار اور شناخت کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اضافی افسران کی تعیناتی سے سماعت کا عمل مکمل کرنے میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں اہل درخواست گزار سال ختم ہونے سے پہلے شہریت کے سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔یکم نومبر سے ہی 39ویں بین الاقوامی متوا دھرم مہاسمیلن اور بین الاقوامی متوا گوسائیں سمیلن کے سلسلے میں ٹھاکرباڑی میں عقیدت مندوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ شہریت سے متعلق حالیہ اعلان کے بعد اس مذہبی تقریب نے وہاں جشن کے ماحول کو مزید خوشگوار بنا دیا ہے۔