دہلی سمیت سات ریاستوں میں مسودہ ووٹر لسٹ سے خارج ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرانے کا الیکشن کمیشن نے آخری موقع دیا
نئی دہلی، (یو این آئی) الیکشن کمیشن نے دہلی سمیت سات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایسے ووٹروں کو ووٹر لسٹ میں اپنے نام شامل کرانے کا ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے تحت ووٹر گنتی کے فارم جاری کیے گئے تھے، لیکن غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا دوہرے اندراج کے طور پر نشان زد کیے جانے کے سبب ان کے نام نئی مسودہ فہرست میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔کمیشن کی جانب سے ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران کو جمعہ کو بھیجے گئے خط میں اس سلسلے میں ضروری کارروائی کرنے اور کمیشن کو جلد از جلد مطلع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔کمیشن کے سکریٹری پون دیوان کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے، ایسے تمام ووٹروں کی بوتھ وار فہرستیں، جنہیں اے ایس ڈی ڈی (غیر حاضر، منتقل شدہ، فوت شدہ یا دوہرے اندراج) کے زمرے میں نشان زد کیا گیا تھا اور جن کے گنتی کے فارم واپس موصول نہیں ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مسودہ انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہو سکے، انہیں ایک بار پھر متعلقہ پولنگ مراکز کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا جائے گا، جہاں سے ان کے نام حذف کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ یہ فہرستیں پنچایت بھونوں، شہری مقامی اداروں کے دفاتر اور بلاک ڈیولپمنٹ افسران، پنچایت افسران اور شہری مقامی اداروں کے افسران کے دفاتر میں بھی آویزاں کی جائیں گی۔ انہیں چیف الیکٹورل افسر کی ویب سائٹ پر قابل مطالعہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں بھی اپ لوڈ کیا جائے گا۔ ان فہرستوں میں متعلقہ ووٹروں کے نام شامل نہ کیے جانے کی ممکنہ وجوہات کا بھی ذکر ہوگا، جیسا کہ 14 مئی 2026 کے ایس آئی آر سے متعلق حکم کے پیراگراف 2 (اے) کے تحت پہلے کیا گیا تھا۔ایسے تمام ووٹر اپنے موجودہ عام رہائشی مقام کے دائرہ اختیار میں آنے والے متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ای آر او) یا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسر (اے ای آر او) کے پاس مکمل طور پر بھرا ہوا گنتی کا فارم (ضمیمہ-اے) جمع کرا سکیں گے۔ایسے ووٹروں کے لیے جزوی طور پر بھرے ہوئے گنتی کے فارم ای سی آئی نیٹ پر ای آر او کے ڈیش بورڈ میں نئے سرے سے تیار کیے جائیں گے۔ضلعی الیکشن افسر (ڈی ای او) اور ای آر او کی جانب سے متعلقہ بوتھ لیول افسران کے ذریعے ایسے ووٹروں سے رابطہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان تک گنتی کے فارم براہ راست یا الیکٹرانک ذرائع، مثلاً واٹس ایپ، ای میل یا ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جائیں گے۔ ووٹر پہلے سے مختص اپنے اسی ای پی آئی سی نمبر کو درج کرکے ای سی آئی نیٹ ایپ کے ذریعے بھی اپنا گنتی کا فارم ڈاؤن لوڈ اور پُر کر سکیں گے۔کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ بوتھ لیول افسران (بی ایل او) مختلف سیاسی جماعتوں کے متعلقہ بوتھ لیول ایجنٹوں (بی ایل اے) کے ساتھ تال میل قائم کرکے ایسے ووٹروں سے رابطہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔اگر متعلقہ ووٹر نے اپنا رہائشی مقام تبدیل نہیں کیا ہے تو وہ اپنے مکمل طور پر بھرے ہوئے اور دستخط شدہ گنتی کے فارم کے ساتھ ضمیمہ-بی میں دیے گئے اعلانیہ اور تفصیلات کو متعلقہ ای آر او، اے ای آر او یا بی ایل او کے پاس خود یا اپنے اہل خانہ کے ذریعے جمع کرا سکتا ہے۔ووٹروں کو ای سی آئی نیٹ پر ای سائن کے ذریعے آن لائن گنتی کا فارم جمع کرانے کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ایسے معاملات میں جہاں اے ایس ڈی ڈی کے زمرے میں نشان زد کسی ووٹر نے اسی ریاست کے اندر کسی دوسری جگہ اپنا رہائشی مقام منتقل کر لیا ہے اور اسی وجہ سے اس کا نام مسودہ انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہو سکا ہے، تو اسے اپنا نیا پتہ اور اسمبلی حلقہ درج کرتے ہوئے ضمیمہ-سی میں دی گئی تفصیلات کے ساتھ گنتی کا فارم جمع کرانا ہوگا۔ ایسے معاملے میں ووٹر کو فارم-8 جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ایسے ووٹروں سے موصول ہونے والے تمام گنتی کے فارم (مقررہ تفصیلات اور اعلانیہ سمیت) متعلقہ ای آر او کے ذریعے انتخابی اندراج کے ضابطہ، 1960 کے ضابطہ 21 (1) کے مطابق نمٹائے جائیں گے۔ اس عمل میں تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا، جس میں درخواست گزار کی اہلیت، عام رہائش اور دیگر متعلقہ تفصیلات کی تصدیق کے ساتھ ضرورت پڑنے پر موقع پر جاکر تصدیق بھی شامل ہوگی۔ای آر او کی جانب سے قبول کیے گئے گنتی کے فارم موجودہ ایس آئی آر کی حتمی انتخابی فہرست میں شامل کرنے کے لیے مقررہ طریقہ کار کے مطابق الگ محفوظ رکھے جائیں گے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ ووٹر کو ایس آئی آر سے پہلے مختص کیا گیا وہی ای پی آئی سی (ووٹ شناختی کارڈ) نمبر دوبارہ الاٹ کیا جائے گا۔جن ووٹروں نے ایس آئی آر کے دوران نئے سرے سے نام درج کرانے کے لیے پہلے ہی فارم-6 جمع کرا دیا ہے، انہیں دوبارہ گنتی کا فارم اور اس کے ساتھ تفصیلات یا اعلانیہ جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔متعلقہ چیف الیکٹورل افسران کو اس حکم کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام متعلقہ ووٹروں کو اس موقع کی مناسب معلومات حاصل ہوں اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
