ریاستی خبریں

ایس آئی آر کے بارے میں جھوٹ پھیلا کر الیکشن کمیشن کو بدنام کر رہی ہے کانگریس: منسکھ مانڈویہ

محمد زاہد امینی
نوح،میوات،6نومبر،سماج نیوز سروس: مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اپنی انتخابی شکست تسلیم کرنے کے بجائے کبھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) اور کبھی ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پر سوال اٹھا کر جمہوریت اور آئینی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر ووٹر لسٹ کی درستی کو یقینی بنانے کا ایک باقاعدہ اور آئینی عمل ہے، لیکن کانگریس اس سلسلے میں ملک بھر میں جھوٹ اور غلط فہمیاں پھیلانے میں مصروف ہے۔پانی پت میں واقع بی جے پی دفتر شیام کمل میں ‘جمہوریت بچاؤ، انتشار ختم کرو’ کے موضوع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک آئینی ادارہ ہے اور ووٹر لسٹ کو درست اور تازہ ترین رکھنا نہ صرف اس کا اختیار ہے بلکہ اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ سال 1952 سے ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں روزگار، کاروبار، شادی اور دیگر وجوہات کی بنا پر لوگوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا معمول کی بات ہے۔ کئی ووٹروں کے نام ایک سے زیادہ مقامات پر درج ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ ووٹروں کا انتقال ہو جاتا ہے۔ایسے حالات میں ووٹر لسٹ کی باقاعدہ جانچ اور درستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔کانگریس کی جانب سے 13 کروڑ ووٹوں کی چوری کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 6.3 کروڑ ووٹر، یعنی 48.1 فیصد، مستقل طور پر اپنی رہائش گاہ تبدیل کر چکے تھے، تقریباً 2.8 کروڑ ووٹر، یعنی 21.4 فیصد، فوت ہو چکے تھے اور تقریباً 1 کروڑ نام، یعنی 7.6 فیصد، ڈپلیکیٹ تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً 3 کروڑ ووٹر، یعنی 22.9 فیصد، یا تو غیر حاضر تھے یا مقررہ طریقہ کار کے دوران ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ناموں کی جانچ اور ضابطوں کے مطابق کی جانے والی کارروائی کو ووٹ چوری قرار دینا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔مانڈویہ نے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ کیا غیر ملکی دراندازوں کو بھارت کی ووٹر لسٹ میں شامل ہونے اور ملک کے عوامی نمائندوں کو منتخب کرنے کا حق ملنا چاہیے؟ اگر کسی مشتبہ غیر ملکی شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہے تو اس کی شہریت اور اہلیت کی جانچ کے لیے نوٹس جاری کرنا کیا غلط ہے؟انہوں نے کہا کہ ملک کے جمہوری نظام میں صرف بھارتی شہریوں کو ہی قانون کے مطابق ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ ووٹر لسٹ میں کسی بھی نااہل شخص کا نام برقرار رکھنے کی وکالت کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔مرکزی وزیر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کا عمل الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ضلع انتخابی افسران، انتظامی افسران اور بوتھ لیول افسران (بی ایل او) کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ بی ایل او کسی سیاسی جماعت کا کارکن نہیں بلکہ انتظامی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ اگر ایس آئی آر کے عمل میں کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کی انتظامی مشینری نے اس سلسلے میں کوئی شکایت کیوں نہیں کی؟ کیا کسی بی ایل او یا سرکاری ملازم نے دباؤ میں آکر غلط طریقے سے ووٹروں کے نام حذف کرنے کی شکایت کی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے حقائق اور ثبوتوں کے ساتھ اپنی بات رکھنی چاہیے۔مرکزی وزیر نے راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی سیاست کا محور اب انتخابی شکست کا ذمہ دار کبھی ای وی ایم اور کبھی الیکشن کمیشن کو ٹھہرانا بن گیا ہے۔ جب کانگریس کرناٹک، ہماچل پردیش اور دیگر ریاستوں میں انتخابات جیتتی ہے تو اسے ای وی ایم اور الیکشن کمیشن پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن انتخابات ہارتے ہی ووٹ چوری کا راگ الاپنا شروع کر دیتی ہے۔اس موقع پر رکن اسمبلی پرمود وج، بی جے پی ضلع صدر دشینت بھٹ، میونسپل کارپوریشن کی میئر کومل سینی، سابق میئر اونیت کور، رکن پارلیمنٹ کے نمائندے گجیندر سلوجا، انیتا چاولہ، بھاونا جین، سنجے تیاگی، ضلع جنرل سکریٹری سمیت جاگلان، سنیل کنسل، اوم دت آریہ، ترون پسریجا، رمیش سین اہریہ، شبھم، راہل رانا سمیت کئی دیگر عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔