
بھا گل پور،پریس ریلیز: انجمن باغ و بہار، برہ پورہ،بھاگل پور کے زیر اہتمام گذشتہ شام ڈاکٹر نغمہ بیگم کی رہائش گاہ پر جوثر ایاغ کی صدارت میں پروفیسر سید اعجاز حسین کے یوم وفات پر ایک ادبی تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ اس موقع پر انجمن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد پرویز نے کہا کہ سید اعجاز حسین اردو ادب کی تاریخ کا ایک بڑا ہی معتبر نام ہے۔ وہ بیک وقت تنقید نگار، محقق،ترجمہ نگار، شاعر ،افسانہ نگار اور مدیر تھے۔ مختصر تاریخ ادب اردو انکا ایک اہم کارنامہ ہے۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری میں نظم سے کیا اور نثر میں افسانہ اختر و فیروزہ کے عنوان سے۔ 15اگست 1898ء محلہ راجا پور،الہٰ آباد میں پیدا ہوئے اور 23فروری1975ء مظفرپور،بہار میں وفات۔والد کا نام سید محمد شفیع تھا اور نانا کا نام سید حسن اور تخلص فوق کرتے تھے اور خواجہ حیدر علی آتش کے شاگر د تھے۔ انہوں کلکتہ سے انٹر کیا ، 1924ء میں بی۔اے کیا اور 1928ء میں الہٰ آباد سے ایم ۔اے کیا۔ 1929ء میں الہٰ آباد یونیورسٹی میں لکچرر ہو ئے اور پروفیسر ہوکر سکبدوش ہوئے۔۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز آٹھویں جمایت سے نظم سے کیا ، پھر افسانہ لکھا جس کا عنوان اختر و فیروزہ تھا ،پھر بعد میں انہوں نام بدل کر افسانے لکھے۔ غزل کی طرف بعد میں مائل ہوئے۔ انہوں نے شاعری میں شیخ مہدی ناصری سے اصلاح لی۔ وہ انجمن ترقی مصنیفین الہٰ آباد کے جنرل سکریٹری رہے۔مذہب و شاعری کے عنوان سے ڈی۔لٹ کا مقالہ تیار کیا۔ ہندوستان کے تمام یونیورسٹیوں میں ڈی ۔لٹ پر پہلی سند تھی۔انہیں کرکٹ، ہاکی اور فٹ بال سے کافی دلچسپی تھی۔انکی تصانیف میںاْردو شاعری میں تصوف،مذہب و شاعری،اردو شاعری کا سماجی منظر، آئینہ معرفت،مختصر تاریخ ادب اردو، ادب اور ادیب،حیات سیدنا،میری دنیا(سوانح عمری)، اردو ادب آزادی کے بعد،ادبی ڈرامے،یاد وطن،نئے ادبی رحجانات ، ملک ادب کے شہزادے وغیرہ اہم۔ انکی مرتب کردہ تصانیف میں کلام آتش ،میر غزلوں کے بادشاہ وغیرہ۔ وہ شب خون کے مدیر ، ماہنامہ کارواں اور شعاع اردو کے بھی مدیر تھے۔نشست میں شامل محمد شاداب عالم، ٖڈاکٹر محمدصدیق، ڈاکٹر نغمہ بیگم،ٖٖڈاکٹرخالدہ نازنے سید اعجاز حسین کے فن سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔











