عبدالغفار صدیقی
9897565066
سائنس کا لفظ زبان پر آتے ہی کسی مشکل اور خشک مضمون کا تصور سامنے آتا ہے۔ایک ایسا مضمون جس سے بچے بھاگتے ہیں ،گھرکے بزرگوں کو کوئی مطلب نہیں ،جسے مذہبی گروہ الحاد و دہریت کا سبب اور منبع سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سائنس پڑھنے والے بچوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے۔لیکن کیا یہ درست ہے کہ یہ مضمون مشکل بھی ہے اور خشک بھی ۔میرا خیال ہے کہ جس طرح ہمارے سماج میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں اسی طرح سائنس کے بارے میں یہ بات عام کردی گئی کہ یہ مضمون بہت مشکل ہے اور خشک ہے ۔ انسان فطرتاً سہولت پسند واقع ہوا ہے اس لیے اس غلط فہمی کا شکار ہوا اور آسان راستوں پر چل پڑا ۔لیکن جو بچے سائنس پڑھتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ اگر شروع میں محنت کرلی جائے اور استاذ اچھے مل جائیں تو یہ مضمون بہت آسان بھی ہے اور دل چسپ بھی ہے ۔مشکل اور خشک کہنے والوں کو سائنس لیب میں طلبہ کی تجرباتی تعلیم کو دیکھنا چاہیے جب وہ کسی مینڈک کا آپریشن کررہے ہوتے ہیں ،مینڈک پکڑنا اسے تولنے سے کم دل چسپ نہیں ،پھر اس کا آپریشن کرتے وقت طلبہ کو جو لطف آتا ہے اتنا لطف شاید مینڈک کا اچار کھانے میں بھی نہیں ۔جسے میں نے بھی کبھی نہیں کھایا۔
سائنس دراصل پڑھنے کا مضمون نہیں ہے ،بلکہ اول دن سے ہی کرنے کا مضمون ہے ۔لیکن ہمارے یہاں ابتدائی تعلیم کے اداروں میں سائنسی آلات نہیں ہوتے اس لیے اساتذہ صرف پڑھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ آج سے پینتالیس سال پہلے کی بات ہے جب میں پرائمری اسکول میں پڑھتا تھا ۔ہماری سائنس کی کتاب کا نام ہی ” سائنس ۔آؤ کرکے سیکھیں“ تھا ۔لیکن اللہ سلامت رکھے ہمارے اس وقت کے سائنس کے استاذ کو کہ انھوں نے کرنے کے بجائے پڑھانے اوررٹانے پر اکتفا کیا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی جماعتوں میںہمارے لیے سائنس کا مضمون مشکل ترین ہوگیا اور ہم نے اپنا راستا بدل لیا۔مجھے اس وقت کے دو لفظ اب بھی یاد ہیں ایک ”تبخیر “ دوسرا ” تقطیر“۔کاش اس وقت ان دونوں الفاظ کو کرکے دکھایا گیاہوتا ۔( اول الذکر کا مطلب پانی اُبالناکے ہیں اور دوسرے کا مطلب پانی چھاننے کے ہیں۔ )اس لیے کہ عملی مشق سے سمجھ میں جلدی آتا ہے اور دل چسپی بھی برقرار رہتی ہے ۔
سائنس کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے ۔سوائے ایک خاص طبقے کہ جو اسے الحاد کا موجب قرار دیتا رہا ہے ۔یہ صرف ہمارے یہاں ہی نہیں ہے بلکہ تمام اہل مذاہب کے مذہبی گروہوں نے سائنس کی مخالفت کی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ جملہ مذاہب کے پیغمبروں اور ان کی آسمانی کتابوں نے آفاق و انفس میں غور کرنے کی تلقین کرکے سائنس کی جانب متوجہ کیا ہے۔مسلمانوں کے بعد جب عیسائی مذہب کے پیروکاروں نے سائنس کی جانب قدم بڑھائے تو انھیں موت کے گھاٹ تک اتار دیا گیا۔یہاں تک کہ اہل مذاہب اور اہل سائنس میں جنگ کا ماحول پیدا ہوگیا ،بالآخر دونوں نے اپنے اپنے دائرے الگ کرلیے اور ایک دوسرے میں دخل اندازی ممنوع قرار پائی۔
مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجیدکا مطالعہ بار بار تدبر اور تفکر کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن عقل کو بار بار اپیل کرتا ہے ،وہ کان ،آنکھ،دل اور عقل کو اللہ کی نعمتیںقرار دیتا ہے۔ ”اللہ نے تم کو تمہاری ما¶ں کے بطن سے(ایسی حالت میں نکالا) کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے، اسی نے تمھارے کان، آنکھیں اور دل بنائے تاکہ تم شکر گزاری کرو“۔ (النَّح±ل: 78)وہ کہتا ہے اللہ کا ذکر کرنے والے وہ ہیں جو آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں۔”جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے“(آل عمران۱۹۱)’۔ قرآن اپنے قاری کو آسمان کی بلنیوں کو چھولینے کی ترغیب دیتا ہے” اور ہم نے ہی آسمان کو محفوظ چھت بنایا لیکن لوگ اس کی نشانیوں سے منھ موڑتے ہیں (الانبیائ32)۔وہ پہاڑوں ،نباتات اور جمادات کی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔”اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ تمہیں لے کر نہ ہلے اور نہریں اور راہیں بنادیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں، تو کیا جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرسکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے۔“ (النحل17-15)۔علم الحیوانات جو سائنس کی اہم شاخ ہے اس کی تعلیم کے لیے ابھارتا ہے۔”پس کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کئے گئے ہیں اور آسمان کو کہ کس طرح اونچا کیا گیا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔“(الغاشیہ21-17)۔تاریخ کے مطالعہ کے بغیرسائنس کا علم ناقص ہے اس لیے قرآن کہتا ہے۔ ”ذرا زمین میں چل کر دیکھو،اللہ کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا“(الانعام 111.)ان آیات کے علاوہ قرآن میں کئی سو آیات ہیں جن کا تعلق براہ راست سائنس سے ہے ۔یہاں ان کی تفصیلات کا موقع نہیں ،لیکن میں نے جن آیات کے حوالے دیے ہیں وہ سائنس کی جملہ شاخوں کا احاطہ کرتی ہیں ۔
قرآنی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چیزیں مفید ہوتی ہیںنظام قدرت کے مطابق ان کا تحفظ کیا جاتا ہے ،ان کی جڑیں گہری ہوتی ہیں ۔ ” اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہرندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔ پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے اور ایسے ہی جھاگ ان دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنھیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔ اسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسان کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔“(الرعد17)
ہم جانتے ہیں کہ امت مسلمہ کی تخلیق کا مقصد عالم انسانیت کی خیر خواہی قرار دیا گیا ۔مسلمان کی تعریف یہ کی گئی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے نہ صرف دوسرے لوگ محفوظ رہیںبلکہ انھیں فائدہ پہنچے ۔فائدہ پہنچانے کی بہترین صورت یہی ہے کہ مسلمان سائنس کے میدان میں آگے آئیں اور انسانیت کے لیے مفید اشیاءکی ایجاد کا سہرا ان کے سر بندھے ۔اس ضمن میں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے عروج کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتے تھے ،اس معاملے میں وہ اپنا ذاتی نقصان بھی برداشت کرلیتے تھے ۔نفع رسانی کا یہ فارمولہ فرد سے لے کر اقوام تک اور گاؤں سے لے کر ممالک تک پر صادق آتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سوسائٹی کو جب کوئی پریشانی آئی تب تب مسلمانوں نے تحقیق و جستجو سے کام لے کر اس پریشانی کو حل کیا ۔بیماریوں کے علاج تلاش کیے،جنگلوں کی خاک چھان کر جڑی بوٹیوں پر تجربات کیے، ،جراحت کے لیے اوزار بنائے ،سفر کے لیے سواریوں اور راستوں کو تیار کیا ،غذائی ضروریات کے لیے غلے کی زراعت اور جانوروں کی فارمنگ کی ، نقل و حمل اورآبپاشی کے ذرائع ایجاد کیے ،کاغذ،قلم ،دوات،کتاب سازی و جلد سازی ،لائبریریاں ،اسپتال ،شفا خانے ،درس و تدریس کے مراکزقائم کیے ،تحقیق و جستجو کے لیے رصد گاہیںبنائیں ۔قوانین صلح و جنگ کے ساتھ آلات حرب و ضرب بھی بنائے ۔تلوار سے لیے کر منجبیق اور توپ انھیں کی ایجاد ہے ۔جب تک مسلمان یہ کام کرتے رہے وہ دنیا کے پیشوا بنے رہے ۔ان کو یہ پیشوائی صرف نماز ،روزے کی وجہ سے بالکل نہیں تھی ،نماز،روزوں ،ایمان،وغیرہ نے تو ان کے عمل افادیت میں مثبت عناصر داخل کیے۔اس لیے اب پھر ضرورت ہے کہ مسلمان اس میدان میں آگے بڑھیں اور سائنس کے شعبے میں ان کی عدم دل چسپی و عدم موجودگی کے باعث دنیا میں جو عدم تواز ن پیدا ہوا ہے اسے توازن عطا کریں۔سائنس کے میدان سے ان کے راہ فرار نے دنیا کو بے حیائی کے سمندر میں غرق کردیا ہے ،جملہ اخلاقی اقدار پامال ہوگئی ہیں اور دنیا شاخ نازک پر ٹک گئی ہے ۔
میری گزارش ہے اہل قلم سے کہ وہ سائنسی موضوعات پر قلم اٹھائیں،تعلیمی اداروں کے ذمہ داران تعلیم گاہوں میں لیبارٹیز قائم کریں،مدارس کے طلبہ کے لیے سائنسی کتابیں ان کی زبان میں تیار کی جائیں،مسلم جماعتیں اور تنظیمیں سائنس کے طلبہ کو اسکالر شپ فراہم کریں،اخبارات و رسائل سائنسی صفحات میں اضافہ کریں اور خدا کے واسطے کاپی پیسٹ سے اجتناب کریں۔ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ،وہ ہر جگہ ہے ،بس ضرورت ہے کہ اسے تلاش کرکے اس کی رہنمائی کی جائے ۔آخر میں سائنس کے اساتذہ سے گزارش کروں گا کہ وہ اس مضمون کا حق ادا کریں ،بچوں کے لیے اسے دل چسپ بنائیں اورخود بھی اپنے علم کو اپ ڈیٹ کرتے رہیںکتنی بدنصیب ہے وہ قوم جوقرآن جیسی کتاب کی حامل ہے ،وہ کتاب جو ساری انسانیت کی موجب فلاح ہونے کا دعویٰ کرتی ہے وہی قوم انسانیت کے لیے غیر مفید ہوکر رہ جائے۔
فرصت کہاں تھی اتنی کہ ہم کھولتے کتاب
ورنہ تمام علم تو قرآن ہی میں تھا












