
موتیہاری (عزیر سالم)مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسٹی آف بہار موتیہاری میں شعبہ اردو کے قیام کا راہ ہموار ہوتا نظر اہم رہا ہے۔ جمعرات کو ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور کی قیادت میں ایک وفد نے وائس چانسلر ڈاکٹر سنجے شریواستو سے ملاقات کر شعبہ اردو کے قیام کا مطالبہ کیا۔ جس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے وی سی ڈاکٹر شریواستو نے فوری طور پر جے این یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے یو جی اور پی جی کا سلیبس منگانے کا حکم صادر کیا۔ وفد کو یقین دہانی کرتے ہوئے وی سی نے کہا کہ فی الحال بیس سے زائد کورسیز کی تعلیم یونیورسٹی میں ہو رہی ہے۔ وسائل کی کمی کیوجہ سے شعبہ اردو شروع کرنے میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے جلد ہی شعبہ اردو قائم کرنے کی یقین دھانی کراتے ہوئے کہا کہ اُردو خالص ہندستانی زبان ہے۔ اسکی ترویج و اشاعت تعلیمی اداروں سے ہی ممکن ہے۔ جناب شریواستو نے کہا کہ اُن کے گھر آنگن میں بھی اُردو کا بسیرا رہا ہے۔ موقع پر ایم ایل سی ڈاکٹر انور نے کہا کہ اُردو زبان ہندستان کی گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہی نہیں ہے بلکہ ہندستان کی مشترکہ ثقافت کی امین بھی ہے۔ لیکن حال کے دنوں میں اسے ایک خاص کمیونیٹی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ جس کیوجہ سے اُردو اپنے وطن میں ہی تعصب کا شکار ہے۔ جناب انور نے کہا کہ بہار میں اُردو پڑھنے اور بولنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ خاص کر چمپارن کی ایک چوتھائی آبادی اُردو کا استعمال کرتی ہے۔ ایسے میں سینٹرل یونیورسٹی جیسے ادارے میں شعبہ اردو کا قیام وقت کا ڈیمانڈ ہے۔ اس سے قبل جناب انور نے وی سی کو گلدستہ پیش کر گاندھی کی سرزمین چمپارن میں انکا والہانہ استقبال کیا۔ موقع پر آل بہار اُردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے ریاستی کنوینر ڈاکٹر عقیل احمد نےبھی اُردو کے فروغ اور اہل چمپارن کے لئے سینٹرل یونیورسٹی میں شعبہ اردو قیام کی ضرورت کی طرف وی سی کی توجہ مبذول کرائی۔ واضح ہو کہ مہاتما گاندھی سینٹرل یونیورسٹی آف بہار موتیہاری میں شعبہ اردو کے شروع کرنے کا مطالبہ گزشتہ ایک دہائی سے اُردو آبادی کی طرف سے کی جاتی رہی ہے۔ موقع پر بطخ میاں انصاری میموریل کتب خانہ و میوزیم کے صدر رضاءالرحمن انصاری، نورشید عالم، سیف اللہ خان، مشتاق عالم غیرھم موجود تھے۔











