
جالے، محمد رفیع ساگر : مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن دربھنگہ کے زیر اہتمام اکیسویں صدی میں تعلیم، چیلنجز اور مواقع کے موضوع پر قومی سیمینار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ سیمینار میں ملک کےممتاز ماہرین تعلیم کو تعلیم کی عصری چیلنج، تکنیکی ترقی اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نفاذ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمع کیا گیا تھا۔ دوسرے دن کے کلیدی اجلاس کا آغاز بی ایڈ کے طالب علم محمد عبید انجم اور نرگس پروین کےتلاوتِ قرآن اور ترجمے سے ہوا۔ کلیدی اجلاس میں ماہرین تعلیم نے بصیرت افروز مباحثے پیش کیے۔ ڈاکٹر ایرم خان (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)، ڈاکٹر ریاض احمد (پرنسپل، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، نوح، ہریانہ)، ڈاکٹر بختیار احمد (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، آسنسول، مغربی بنگال)، ڈاکٹر اروند ملن (للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ)، ڈاکٹر سید توقیر امام (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، آسنسول، مغربی بنگال)، ڈاکٹر محمد نہال احمد انصاری (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، آسنسول، مغربی بنگال)، ڈاکٹر کفیل احمد (مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدر آباد)، ڈاکٹر شمبھو پرساد (للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ) اور اگنو کے ریجنل ڈایرکٹر دربھنگہ سناتن کمار نے عصری تعلیمی تناظرات، اساتذہ کی تربیت میں درپیش چیلنج اور آموزشی ماحصل کو بڑھانے میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے کردار کے بارے میں اپنے نقطہ نظر واضح کیا۔ پروفیسر بدر عالم خان نے کلیدی اجلاس کی صدارت کی اور کہا کہ ہر نئی پالیسی کو قوانین اور ضوابط کی مدد سے ہی نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لیے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ضوابط اور نصاب تعلیم تیار کرنے کی روشنی میں یہ اہم ہے. کلیدی اجلاس کا اختتام ڈاکٹر آفتاب عالم کے شکریہ کے کلمات پر ہواجبکہ نظامت ڈاکٹر افروز عالم نے کی۔ اس کے بعد بیک وقت متعدد تکنیکی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں محققین، فیکلٹی ممبران اور طلباء نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے۔اختتامی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن سے ہوا، اس کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ نے ترانہ پیش کیا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد میاں، سابق وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے کی۔ خطبہ استقبالیہ پروفیسر محمد فیض احمد (پرنسپل، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، دربھنگہ) نے دیا۔ سیمینار کی رپورٹ ڈاکٹر محمد کلیم اللہ نے پیش کی، جس میں دو روزہ پروگرام کے اہم مباحث اور نتائج کا خلاصہ پیش کیا گیا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر افتخار احمد، سابق ڈائریکٹر، اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے جدید تعلیم میں ڈیجیٹل میڈیا کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے ملازمت سے متعلق تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کے لیے نالج مینجمنٹ، آئی ٹی سکلز، سافٹ سکلز، ٹیم ورک، جذباتی انتظام، علم کے اظہار اور تا عمر آموزش پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تعلیم 4.0 کی مطابقت پر بھی زور دیا۔دیگر ماہرین نے بھی اختتامی اجلاس سے خطاب کیا جس میں ڈاکٹر آفاق ہاشمی (صدر، تعلیم، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ) اور ڈاکٹر جی ایم انصاری (پرنسپل، اورینٹل کالج آف ایجوکیشن، دربھنگہ) نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اس کے کامیاب نفاذ میں اساتذہ کے کردار پر زور دیا۔ پروفیسر ایم وناجا (ڈین، اسکول آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے کہا کہ ٹیکنالوجی کبھی بھی اساتذہ کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان کی جگہ لے لے گی جو اپنی تکنیکی مہارت کو اپ ڈیٹ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود (سینئر پروفیسر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی) نے نئی نسل کو متاثر کرنے والے تناؤ کے مختلف عوامل پر روشنی ڈالی، اس بات پر زور دیا کہ تعمیری، سرگرمی پر مبنی تعلیم ان چیلنجوں کو کم کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔صدارتی کلمات میں پروفیسر محمد میاں (سابق وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے تعلیم اساتذہ کے مستقبل اور درس گاہ میں آئی سی ٹی انضمام پر ایک فکر انگیز خطاب کیا۔ انہوں نے انٹیگریٹڈ ٹیچر ایجوکیشن پروگرام کی اہمیت اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ڈھانچے (بنیادی، تیاری، مڈل اور سیکنڈری لیول) کے مطابق اسکولی تعلیمی نظام کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو طالب علم کا رہنما ہونا چاہیے اور آموزگار کو تعلیم کے مقاصد کو سمجھنا چاہیے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ شخصیت اور انسان کی نشوونما پر توجہ دینی چاہیے۔ا سکول ایجوکیشن سسٹم کو از سر نو ترتیب دیا جائے پھر قومی تعلیمی پالیسی نافذ کیا جائے۔ انہوں نے ایک سالہ ٹیچر ایجوکیشن پروگرام کے نئے مسودے پر بھی روشنی ڈالی جو پہلے بھی چل رہا تھا۔ نظریاتی اور تجرباتی علم کے باہمی ربط کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے نفاذ کے لیے پروگرام آف ایکشن کو اسکولی تعلیم میں بنیادی مرحلے سے سیکنڈری تک یقینی بنایا جائے۔سیشن کا اختتام ڈاکٹر مظفر اسلام کےاظہار تشکر کے ساتھ ہوا، جس میں تمام معززین، شرکاء اور آرگنائزنگ کمیٹی کا شکریہ ادا کیا گیا۔ سیمینار کا باضابطہ طور پر قومی ترانے کے ساتھ اختتام ہوا۔ دو روزہ قومی سیمینار نے ماہرین تعلیم، محققین اور پالیسی سازوں کو جدید تعلیم میں درپیش چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تقریب کے دوران پیش کی گئی مباحثے اور سفارشات اساتذہ کی تعلیم میں پالیسی سازی اور تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔











