
ارریہ، ( مشتاق احمد صدیقی ) ارریہ ضلع ہیڈ کوارٹر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے اور قومی شاہراہ این ایچ 27 / پر واقع تعلیمی وتربیتی ادارہ پارہ ڈائز پبلک اسکول جہانگیر نگر کے طلبہ اور طالبات نے گزشتہ کل سائنس دے کے موقع پر سائنس ڈے بڑے جوش و خروس کے ساتھ منایا اس موقع پر بچوں نے مختلف سائنس ایگزیبیشن ( سائنس کی نمائش ) کے ذریعہ اپنی سائنسی معلومات کا مظاہرہ کیا اور پورے جوش وخروش کے ساتھ اپنی سائنسی نمائش کے سامنے کھڑے ہوکر آنے والے تمام مہمانانوں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں سائنسی نمائشوں کی جانکاریاں دیں، جسے مہمان نے بے حد پسند کیا اور بچوں کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے اسے لائق تحسین اور قابل ستائش بتایا۔ اس موقع پر سائنسی نمائش میلے کے مہمانِ خصوصی اور ہندی صحافی قمر عالم نے سائنس کے فوائد پر بولتے ہوئے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی انسانوں کی ترقی کی بنیاد رہی ہیں، جنہوں نے معاشروں کو جدید بنایا اور زندگی کے معیار کو بہتر کیاہے، سائنس کی جدتوں سے حاصل ہونے والے فوائد طبی دریافتوں سے لے کر گلوبل ولیج کو جوڑنے والی ٹیکنالوجیز تک گہرے اور دور رس ہیں۔ تاہم یہی جدتیں جو انسانی صلاحیتوں کو اُٹھا سکتی ہیں، کبھی کبھار غير متوقع نتائج بھی پیدا کر سکتی ہیں، جیسے کہ ہیروشیما کے واقعات نے دکھایا ہے۔آپ نے مزید کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی وجود کے جوہر کو تبدیل کر دیا ہے۔ طبی سائنس میں ترقیوں نے ویکسینز اینٹی بایوٹکس اور علاج فراہم کیے ہیں جنہوں نے لاکھوں کی جان بچائی۔ زرعی جدتوں نے خوراک کی سکیورٹی کو بہتر بنایا ہے اور پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔ تکنیکی ترقیات نے رابطے کو تبدیل کر دیا ہے، جو اب پلک جھپکتے میں پوری دنیا تک پہنچ سکتا ہے جبکہ اسکول کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ محمد پرویزعالم نے سب سے پہلے تمام مہمانوں اور گارجین حضرات کا کا شاندار خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور پھر انہیں اور موجود تمام طلبہ اور طالبات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس روئے زمیں میں آلودگی پیدا کرنے والے عوامل قدرتی بھی ہو تے ہیں اور انسان کے اپنے پیدا کردہ بھی۔ اگر ہم قدرتی عوامل کی بات کریں، تو اس کی بڑی مثال آتش فشاں پہاڑ ہیں، جن کے پھٹنے پر دھواں اور راکھ ماحول آلودہ کردیتے ہیں،جب کہ انسان کے پیدا کردہ محرکات کی تو ایک طویل فہرست ہے آپ نے آگے کہا کہ یہ ماحولیاتی آلودگی نہ صرف امراض میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، بلکہ جسم کا دفاعی نظام بھی بُری طرح متاثر کررہی ہے۔ آلودگی کی کئی اقسام ہیں،جو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر ہماری زندگیوں میں منفی کردار ادا کرتی ہیں۔ فضائی آلودگی کی تمام اقسام میں سب سے خطرناک فضائی آلودگی ہے،جس نےہر جان دار کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دُنیا بَھر میں روزانہ لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہوکر مختلف امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ ان عوراض میں سانس کی نالیوں کی سوزش، دَمہ، سینے کا انفیکشن، دِل کے امراض ،بلیڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، انجائنا اور فالج کا حملہ وغیرہ شامل ہیں۔ آپ نے مزید بتایاکہ فضائی آلودگی کےکئی اسباب ہیں۔ مثلاً کوئلہ، لکڑی، تیل یا قدرتی گیس جلانے سے نکلنے والا دھواں، جنگلات میں آگ لگنا ، صنعتی شعبہ جات میں استعمال ہونے والے مختلف فوسل فیولز(Fossil fuels)، اینٹوں کے بھٹّے، چمنیوں اور راکھ پیدا کرنے والی فیکٹریوں سے اُٹھتا دھواں، ردّی، ناکارہ اشیاء جلانے، پُرانی عمارتیں گرانے اور نئی تعمیرات کا عمل وغیرہ شامل ہیں۔ آخر میں ڈائریکٹر ایڈوکیٹ محمد پرویزعالم نے تمام مہمانوں، گارجین حضرات اور تمام اساتذۂ کرام اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اسکو کے تمام اساتذہ اور معلمات موجود تھے۔











