بھاگلپور(قمر امان) بھاگلپور کے حسین آباد میں عرسِ شمسِ ملت کی روح پرور اور پرکیف محفل دو روز تک عقیدت و محبت کے چراغ روشن کرتی رہی۔اس مبارک موقع پر حضرت شمسِ ملت کے آشیانہ شکراللہ چک میں چادر کی دیدار رسم ادا کی گئی،جہاں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بعد ازاں حضرت مولانا فاروق اعظم رضوی نے متقدین و متوسلین کو موئے مبارک کی زیارت کرائی، جس سے فضا میں روحانیت کی خوشبو پھیل گئی۔اسی دوران ذکر و اذکار میں محو قافلہ بعد مغرب حضرت الحاج علامہ مولانا الشفاء محمد شمس الضحی اشرفی(خلیفۂ سرکارِ کلاں)کے مزارِ اقدس پر پہنچا،جہاں چادر پوشی اور فاتحہ خوانی کا روح پرور منظر دیکھنے کو ملا۔ان لمحات میں شرکت کرنے والے تمام افراد روحانی تجلیات سے سرشار ہو گئے۔عرس کے پہلے دن حضرت مولانا فاروق اعظم رضوی نے ایک نورانی و اصلاحی محفل کا انعقاد کیا،جس میں ملک کے نامور علما و شعراء کو مدعو کیے گیے۔ انہوں نے سامعین کو عصری و روحانی موضوعات پر روشناس کرایا اور کئی اہم پیغامات دینے کی کامیاب سعی کی۔اس محفل میں درج ذیل عنوانات پر تقاریر کی گئیں:قرآن اور ہمارا معاشرہ، حضرت شہباز محمد بھاگلپوری کی ولایت،مخدوم جہاں حضرت یحییٰ منیری کا تعارف،حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی حیاتِ طیبہ،اعلیٰ حضرت اور عشقِ رسول ﷺ،حیاتِ شمسِ ملت:ایک اجمالی خاکہ،عالمی مسائل کا حل:سنتِ طیبہ کی روشنی میں،مروجہ دینی جلسے:کتنا مفید؟،جہیز:ایک غیر اسلامی رسم،اصلاح:تنقید کی زبان میں کیوں؟،حقوق والدین و حقوق اولاد،نامور علما کی شرکت،اس پر نور محفل میں ہندوستان کے مایہ ناز علما شریک ہوئے،جن میں قابل ذکر نام یہ ہیں:علامہ مولانا مفتی محمد فاروق عالم اشرفی (استاذ جامعہ شہبازیہ ملا چک شریف)علامہ مولانا محمد آصف رضا سیفی،علامہ مولانا طاہر حسین مصباحی،علامہ مولانا سید شاہ شہباز عالم مخدومی،علامہ مولانا طارق انور،علامہ مولانا سید شاہ شاہد رضا (سجادہ نشین خانقاہ رحمانیہ،کیری شریف بانکا)ان عظیم شخصیات نے اپنے وعظ و نصیحت سے محفل کو ایک نیا روحانی رنگ عطا کیا۔عرس کے دوسرے دن آل انڈیا نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا،جس میں نامور شعرائے کرام نے اپنی نعتیہ اور منقبتی شاعری سے سامعین کے قلوب کو عشقِ رسول ﷺ سے منور کیا۔مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرائے کرام میں سے یہ ہیں:قاسم ندیم،محمد حبیب اللہ فیضی،ضیاء یزدانی،محمد نسیم سحر،غلام غوث غزالی،شکیل رہبر،محمد قیصر ترنم،محمد شفیع رضا،محمد شہباز رضا،محمد عسجد رضا،محمد مزمل حسین،محمد ذاکر حسین،محمد طارق،محمد فیض، الحق مصباحی،محمد زین العابدین،محمد طارق جمیل،محمد کاظم رضا،محمد سہراب عالم،محمد جہانگیر عالم،محمد مطیع المصطفی،محمد حثمت رضا سبحانی،محمد خورشید انور،محمد طفیل احمد مصباحی،محمد مجیب الرحمن،محمد احمد رضا،محمد معراج وارثی،محمد اکمل رضا،محمد ریاض الدین،محمد نوشاد عالم،محمد شمشاد،محمد سلمان رضا،محمد شارب رضا،محمد راشد،محمد جامی بسمل،محمد طالب رضا،محمد عرش اعظم،وغیرہ ان شعرائے کرام کے نعتیہ کلام اور منقبتی اشعار نے سامعین کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کردی اور محفل کو ایک خاص روحانی تقدس عطا کیا۔محفل کی صدارت و نظامتاس دو روزہ روحانی و ادبی تقریب کی صدارت علامہ مولانا محمد رفیق عالم خاکی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض سید محمد وارث چشتی (یوپی) اور کفیل عنبر نے بحسن و خوبی انجام دیے۔ ان دونوں کی شائستہ اور معیاری نظامت نے محفل کو مزید پروقار اور اردو زبان کو جِلا بخشی۔حضرت مولانا فاروق اعظم رضوی کی شبانہ روز کاوشوں سے بھاگلپور کی یہ علمی و روحانی محفل عالمی سطح پر شہرت حاصل کر رہی ہے۔ان کی خدماتِ دینیہ و اصلاحی جد و جہد کو اہلِ علم و عقیدت انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔یہ تقریب نہ صرف روحانی فیوض و برکات سے لبریز تھی بلکہ علم و ادب کا حسین امتزاج بھی پیش کر رہی تھی۔اس قسم کے معیاری اور اصلاحی پروگرام معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تقریباب کو منظم و مکرم بنانے میں محمد منور عالم اشرفی گران قدر خدمات انجام دئے۔












