لاہور:ترال لوئر کے دور افتادہ علاقے دمیل میں شدید برفباری کے بعد برفانی تودہ رہائشی گھر پر گرنے سے 10 افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہو گئی۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ہونے والی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب مری میں شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، سڑکیں بند کر دی گئیں اور حکومت نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں باچا، ان کی اہلیہ اور آٹھ بچے شامل ہیں۔ جن میں چار بچیاں اور دو بچے بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے میں دبے 10 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ ایک زخمی بچی کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے بعد دروش منتقل کیا جا رہا ہے۔واقعے کے بعد علاقے میں غم کی فضا قائم ہے جبکہ امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خراب موسم کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ہونے والی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعے کو جاری بیان میں جان سے جانے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ ’شدید بارش، برف باری اور اچانک شدید سردی موسمیاتی ہنگامی صورت حال کی واضح نشانیاں ہیں۔ موسمی تبدیلیوں کے مطابق پیشگی تیاری اور نقصانات کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘انہوں نے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اقدامات تیز کریں اور عوام سے مسلسل رابطہ رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے بروقت معلومات کی فراہمی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی چترال میں برفانی تودہ گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ وفاقی ریسکیو و ریلیف اداروں کو صوبائی حکومت کے تعاون سے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے [این ڈی ایم اے] کے چیئرمین کو ملک کے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے بعد کی صورت حال کی نگرانی اور متعلقہ اداروں سے رابطہ رکھنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کسی بھی ممکنہ صورت حال سے نمٹا جا سکے۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں جمعرات سے جاری بارش اور برف باری کے باعث جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہیں سڑکوں کی بندش اور چند ایک مقامات پر حادثات پیش آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ایسے میں محکمہ موسمیات نے اتوار (25 جنوری) کی رات سے منگل (27 جنوری) تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برف باری کی پیشگوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گئی پیشگوئی کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ 25 جنوری (اتوار) کو ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے، جو 26 جنوری کو ملک کے بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔بیان کے مطابق اس موسمی نظام کے زیرِ اثر 25 اور 26 جنوری کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے۔ اسی طرح 26 جنوری کو بالائی سندھ میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔مزید بتایا گیا کہ 26 اور 27 جنوری کے دوران گلگت بلتستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سمیت وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برف باری اور چند مقامات پر شدید برف باری کا بھی امکان ہے۔












