خرطوم (ہ س)۔گیارہ سوڈانی پناہ گزین لیبیا پہنچنے کی کوشش کے دوران صحرائے کبریٰ کی گہرائی میں ان کی گاڑی خراب ہو جانے کے بعد پیاس سے ہلاک ہو گئے۔یہ علاقے میں پناہ گزینوں اور غیر قانونی تارکین وطن کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کو ظاہر کرنے والا ایک نیا المناک واقعہ ہے۔ لیبیا کے مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک انتہائی دشوار گزار صحرائی علاقے میں پیش آیا جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا تھا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ 15 دیگر افراد زندہ بچ گئے جن کی حالت تشویشناک ہے۔ انہیں اس وقت ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔اسی قسم کاایک واقعہ دو ہفتے سے بھی کم عرصے قبل بھی پیش آیا تھا جب الکفرہ شہر کے دو نوجوانوں، محمد اور محمود السکر، نے تقریباً 30 سوڈانی پناہ گزینوں کو بچایا تھا۔ ان میں 10 بچے بھی شامل تھے۔ یہ لوگ پانچ دن تک صحرا میں پانی یا خوراک کے بغیر پھنسے رہے تھے۔دونوں نوجوانوں نے بتایا کہ پناہ گزینوں کی حالت بہت خراب تھی اور انہوں نے انہیں بچانا شروع کیا اور انہیں محفوظ علاقوں میں منتقل کیا۔ انہوں نے گاڑی چھوڑ کر پیدل چلنے والے گمشدہ افراد کی تلاش بھی جاری رکھی اور انہیں آخری لمحات میں ڈھونڈ لیا گیا۔ کفرہ میں ایمبولینس اور ایمرجنسی سروس نے اس واقعے کی تصدیق کی تھی اور جانیں بچانے میں لیبیا کے شہریوں کے کردار کو سراہا۔سوڈان اور لیبیا میں سوشل میڈیا صارفین نے دونوں واقعات کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز شیئر کی ہیں جن میں سوڈانی پناہ گزینوں کو انتہائی خراب انسانی حالات میں دکھایا گیا تھا اور دیگر کو پیاس اور تھکن سے جان سے ہاتھ دھوتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان مناظر نے شدید مذمت اور ہمدردی کی لہر پیدا کردی۔ لوگوں نے اس طرح کے بار بار پیش آنے والی انسانی آفات کو کم کرنے کے لیے سرکاری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔












