نئی دہلی،سماج نیوز سروس:کیجریوال حکومت نے جنوبی دہلی کے ریزرو فاریسٹ ایریا میں ڈی ڈی اے کے ذریعہ 1100 درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر سخت موقف اپنایا ہے۔ اس سلسلے میں ہفتہ کو تمام حکومتی وزراء کا اجلاس ہوا۔ خرابی صحت کی وجہ سے کابینی وزیر آتشی نے آن لائن شرکت کی۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی جانکاری دیتے ہوئے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے کہا کہ ان درختوں کو کاٹنے کا حکم کس نے دیا اس کی حقیقت جاننے کے لیے وزراء کی تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی میں کابینہ کے وزراء سوربھ بھردواج، آتشی اور عمران حسین شامل ہیں۔ بغیر اجازت درخت کاٹنے کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ عدالت جاننا چاہتی ہے کہ یہ درخت کس کے حکم پر کاٹے گئے۔ یہ کمیٹی حقیقت معلوم کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے گی، جسے ہم عدالت میں پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی اے کے کچھ انجینئروں کی ای میلز سے پتہ چلتا ہے کہ ایل جی نے رج ایریا کا دورہ کیا تھا اور ان کے زبانی حکم پر درخت کاٹے تھے۔ اس سلسلے میں ہم نے متعدد بار محکمہ جنگلات کو نوٹس دے کر سٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے لیکن تاحال موصول نہیں ہوئی۔ کابینی وزراء سوربھ بھاردواج اور عمران حسین کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات کے وزیر گوپال رائے نے کہا کہ اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی کی حکومت دہلی کے لوگوں کو آلودگی اور گرمی کی لہر جیسی قدرتی آفات سے بچانے میں بہت سنجیدہ ہے۔ اس کے لیے دہلی میں گرین بیلٹ کو بڑھانا ہے۔ کام تسلسل کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی کے لوگوں کو 10 ضمانتیں دی تھیں۔ ان میں سے ایک گارنٹی یہ تھی کہ 5 سال کے اندر 2 کروڑ پودے لگا کر دہلی میں گرین ایریا کو بڑھایا جائے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ 4 سالوں میں تمام متعلقہ ایجنسیوں کے تعاون سے ہم نے2 کروڑ پودے لگانے کا ہدف حاصل کیا گیا۔ اس سال گرمی کی لہر کے بعد لوگوں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت نے تمام ایجنسیوں کے ساتھ مل کر آئندہ مالی سال میں 64 لاکھ پودے لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔گوپال رائے نے کہا کہ دہلی کے چھتر پور، ستباری سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے کہ فروری کے مہینے میں ڈی ڈی اے نے تمام قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی ایجنسی یا حکومت کی اجازت کے 1100 درخت کاٹ دیئے۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت جاری ہے۔ عدالت بار بار ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین سے پوچھ رہی ہے۔کس کے حکم پر دارالحکومت دہلی میں 1100 درخت غیر قانونی طور پر کاٹے گئے؟ عدالت پوچھ رہی ہے کہ کیا یہ احکامات ایل جی نے دیے تھے، کیوں کہ ڈی ڈی اے کے کچھ انجینئرز کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ ایل جی نے چھتر پور کے فاریسٹ ریزرو ایریا کا دورہ کیا تھا اور ان کے زبانی حکم پر یہ درخت کاٹے گئے تھے۔ سپریم کورٹ اپنیحقیقت جاننا چاہتا ہے۔ عدالت نے ڈی ڈی اے کے وائس چیئرمین کو اگلی سماعت تک جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ 26 جون کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے محکمہ جنگلات سے اپنی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کو کہا تھا۔ گوپال رائے نے کہا کہ تمام معلومات حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 26 جون کو شام 4:30 بجے دہلی سکریٹریٹ میں محکمہ جنگلات کے ایک سینئر افسر کے ساتھ میٹنگ کی۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے دہلی کے دو مختلف علاقوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے سلسلے میں ڈی ڈی اے کو 5 اور 22 مارچ کو دو نوٹس بھیجے، لیکن ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میں نے انہیں فروری سے اب تک ہونے والے تمام واقعات کی تحریری رپورٹ 27 جون کی صبح 11 بجے تک پیش کرنے کی ہدایت کی۔ لیکن جب 11 بجے تک رپورٹ ہم تک نہیں پہنچی تو ہمارے دفتر نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں سے رابطہ کیا۔ جس پر انہوں نے کہا کہ آپ پہلے ہمیں تحریری طور پر بتائیں۔ہدایات دینے کے بعد ہم تمام رپورٹ پیش کریں گے۔ اس کے بعد ہم نے میٹنگ کے منٹس کے ساتھ محکمہ جنگلات کو تحریری ہدایات دی کہ 28 جون کی صبح 11 بجے تک تمام حقائق کی رپورٹ ہمیں بھجوائی جائے۔












