شعیب رضا فاطمی
سیاسی ہنگامہ خیزی کے درمیان میڈیا نے خاص طور پر اور سیاسی مبصرین نے عام طور پر ستیہ پال ملک کو نظر انداز کر دیا ہے جو نریندر مودی اور ان کی پارٹی پر نہایت اہم سوالات اٹھا رہے ہیں ۔ستیہ پال ملک نے کرن تھاپر کو دیئے انٹرویو کے بعد منظر عام پر آئے تھے ،لیکن نیشنل چینل نے ان کو یکسر نظر انداز کیا جبکہ سوشل میڈیا نے اس کے بعد ان سے کئی انٹرویو لئے جس میں وہ بیباکی سے اپنے موقف کی تائید کرتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ امت شاہ کو بھی ان کے اٹھائے سوالات پر وضاحت دینی پڑی لیکن وہ بھی بس اتنا ہی کہہ پائے کہ ستیہ پال ملک جو سوالات اٹھا رہے ہیں وہ اس وقت اٹھا رہے ہیں جب اپنے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں لہٰذا ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں ۔اور ٹھیک یہ جملہ اسد الدین اویسی نے بھی دہرایا ۔اب حال ہی میں بی بی سی نے بھی ان سے ایک انٹرویو کیا ہے جس میں ستیہ پال ملک نے امت شاہ اور اویسی کے سوالات کے جواب بھی دئے ہیں اور کچھ نئے انکشافات بھی کئے ہیں ۔ستیہ پال ملک کو اگر نیشنل میڈیا نظر انداز کرتی ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن حزب اختلاف کا ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہ لینا سمجھ سے پرے ہے ۔ایک بات اور کہ ستیہ پال ملک بھلے ہی اپنی آخری سیاسی پاری بی جے پی کے ساتھ کھیلی ہو لیکن ان کی تربیت آر ایس ایس کے زیر سایہ نہیں ہوئی ہے ۔بغاوت ان کی سرشت میں ہے اور وہ کبھی بھی بی جے پی کے نفرت والے ایجنڈے کے ساتھ نہیں رہے۔ ان کے سیاسی پس منظر پر نظر ڈالیں تو انہیں لوہیا وادی لیڈر کہنے میں کو ئی تردد نہیں ہوگا۔ جس کا وہ خود اعتراف کرتے ہیں ۔1974میں وہ چودھری چرن سنگھ کی پارٹی بھارتیہ کرانتی دل کے ٹکٹ پر ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ 1980 میں راجیہ سبھا کے رکن بنے، لیکن 1984 میں کانگریس میں شامل ہوئے اور 1986 میں دوبارہ راجیہ سبھا کے رکن بن گئے۔
بوفورس گھوٹالے کے منظر عام پر آنے کے بعد، انہوں نے اپنی ایم پی کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی کانگریس چھوڑ دی۔پھر 1989 میں وہ جنتا دل کے ٹکٹ پر لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد وہ سماج وادی پارٹی میں بھی رہے اور 2004 میں بی جے پی میں شامل ہوئے۔ 2012 میں انہیں بی جے پی کا قومی نائب صدر بھی بنایا گیا۔
2017 میں انہیں بہار کا گورنر بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے جموں و کشمیر، اور پھر گوا کے گورنر کا عہدہ سنبھالا اور اکتوبر 2022 میں میگھالیہ کے گورنر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔یعنی انہوں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے اور اب ایسے وقت میں انہوں نے بی جے پی کے خلاف بیان دینا شروع کیا ہے جب بی جے پی اپنے عروج کا دور گذار رہی ہے ۔بی بی سی کو دئے اپنے انٹرویو میں ستیہ پال ملک نے AIMIMکے صدر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسد الدین اویسی کو معلوم نہیں ہے، اس وقت بھی میں نے پلوامہ کا معاملہ پی ایم کے سامنے اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ ہمارے لوگوں کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے، میں چاہتا تھا کہ اس کی تحقیقات ہو اور میں نے سوچا کہ اس کی جانچ ہوگی۔ اس لیے اس وقت میرے لیے استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پلوامہ کیس کی ذمہ داری وزارت داخلہ کی تھی۔اور میں نے سب کچھ ان کے سامنے رکھ دیا تھا، اس کے بعد وزیر داخلہ کو کچھ کرنا چاہیے تھا۔ اس کے ذمہ داروں کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن الٹے مجھ پر اعتراض کیا جار ہا ہے کہ میں نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا ۔واضح ہو کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو میں یہی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو پوچھنا چاہیے کہ ‘یہ سب چیزیں ہم سے جدا ہونے کے بعد ہی وہ کیوں کہہ رہے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا’’جس دن پلوامہ ہوا، میں نے پہلے دن یہ مسئلہ اٹھایا،لیکن مجھے چپ رہنے کو کہا گیا، پھر مجھے معلوم ہوا کہ وہ اس کو پاکستان کی سمت لے جا رہے ہیں اور اس وقت ان کی مخالفت کرنا ایک خطرناک کام تھا، کیونکہ تب مجھے غدار قرار دے دیا جاتا۔ کسان تحریک کے دوران بھی جب میں نے دیکھا کہ یہ لوگ کسانوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، تب ہی میں نے یہ مسئلہ اٹھایا‘‘۔
’’پی ایم نریندر مودی کو بدعنوانی سے کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے‘‘پر بولتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب کشمیر کی دو فائلوں کا ذکر میں نے کیا تو وزیر اعظم نے مجھے کہا تو یہی کہ بد عنوانی سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا لیکن مجھے کشمیر سے نکال دیا۔
انہوں نے اس انٹر ویو میں ایک اور انکشاف کیا کہ ’’مجھے یقین ہےکہ الیکشن سے پہلے اروند کجریوال کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ سو فیصد‘‘ فی الحال ستیہ پال ملک اپوزیشن اتحاد کے حامی ہیں اور 2024 میں "عوام بنام مودی”کو ہی بہتر فارمولہ قرار دے رہے ہیں جس سے مودی کو شکست دیا جا سکتا ہے کہ نریندر مودی کی مقبولیت کا انتظام کیا گیا ہے،یہ تخلیقی مقبولیت ہے جس کی بنیاد میں ہندو مسلم منافرت ہے ۔لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ سب 2024 میں نہیں چلے گا۔ لوگ اس کھیل کو سمجھ چکے ہیں۔ ملک کے لوگ اب بے روزگاری، مہنگائی سے پریشان ہیں، بی بی سی کو دئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ جیل جانے سے نہیں ڈرتے ۔’’میں پہلے بھی کئی بار جیل جا چکا ہوں اور میرا اعتماد میرے اس یقین سے آتا ہے کہ میں صحیح سوال پر کھڑا ہوں۔












