فی الوقت ملک کی سیاست کا سب سے بڑا ایجنڈا بس ایک ہے اور وہ ہے اقتدار پر قبضہ کرنا۔اس میں بس یہ تبدیلی ہے کہ برسر اقتدارجماعت کی ساری کوشش یہ ہے کہ وہ اپنے قبضہ کو برقرار رکھے جبکہ باقی کی تمام حزب اختلاف میں بیٹھی سیاسی پارٹیاں خود مرکزی حکومت پر قابض ہونا چاہتی ہیں۔جہاں تک سوال ہے 2024 کے عام انتخاب میں مقبول لیڈر کے نام کا تو اس سلسلے میں حزب اختلاف کےلئے سب سے اہم نام نتیش کمار کا ہے جبکہ برسر اقتدار جماعت کے پاس ان کا سب سے مقبول لیڈر نریندر مودی ہے جو آزمایا ہوا بھی ہے اور جس کو پروجیکٹ کرنے میں بی جے پی اور آر ایس نے ہزاروں کروڑ خرچ بھی کئے ہیں۔ جبکہ نتیش کمار 2005 کے بعد سے بہار کا سب سے بڑا سیاسی چہرہ ہیں۔ نتیش کمار بھلے ہی وزیر اعظم نہ ہوں لیکن بطور وزیر اعلیٰ ان سے شفاف اور مقبول چہرہ نریندر مودی کا کبھی نہیں رہا۔حالانکہ ابھی تک نتیش کمار نے یہ تو نہیں کہا ہے کہ وہ نریندر مودی کی جگہ خود لینا چاہتے ہیں لیکن میڈیا میں یہ گفتگو عام ہو چکی ہے کہ 2024 کے عام انتخاب میں نتیش کمار نریندر مودی کو براہ راست چیلنج کرنے کے اہل ہیں جبکہ نتیش کمار نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے اس مشن میں شامل ہیں جس مشن پر تمام حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیاں کام کر رہی ہیں۔انہوں نے گزشتہ 18 فروری کو بھی پٹنہ میں سی پی آئی-ایم ایل کے قومی کنونشن میں کہا کہ اگر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں متحد ہوکر2024 کے انتخاب میں اتریں تو بی جے پی کو 100سیٹوں کے دائرے میں سمیٹا جا سکتا ہے۔نتیش کمار نے اس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان جوڑو سفر کے بعد اب کانگریس کو آگے آنا چاہئے اور وفاق کی ایک سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔سی ایم نیتیش کمار کا کہنا ہے کہ’ہم صرف مرکز میں بیٹھی سرکار کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں‘۔اس محاذ کا لیڈر وہی ہوگا جو ساری پارٹیوں کو قابل قبول ہو۔
یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ حزب اختلاف کی تمام پارٹیوں سے ان دنوں جس شدو مد کے ساتھ نتیش کمار مل رہے ہیں اتنا سرگرم دوسرا کوئی لیڈر نہیں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ این ڈی اے کا حصہ رہ چکے نتیش کمار بی جے پی کے چال چرتر اور چہرے سے جس حد تک واقف ہیں دوسرا کوئی لیڈر ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ویسے بھی مایا وتی کے سیاسی موقف پر اعتماد کرنا کسی بھی سیاست دان کے لئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔اکھلیش کمار یادو ابھی اس سلسلے میں نا تجربہ کار ہیں۔اروند کجریوال کو کانگریس سے اللہ واسطے کا بیر ہی نہیں بلکہ خاص دشمنی بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ’ آپ‘ نے دہلی میں کانگریس کی سیاست کو پوری طرح ختم کر کے ہی اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی ’آ’پ‘ کاسیدھا نشانہ کانگریس پر ہوتا ہے۔ممتا بنرجی کی پرورش و پرداخت ہی کانگریس میں ہوئی ہے اور وہ کانگریس سے علیحدہ ہونے کے بعد ہی وزیر اعلیٰ بنی ہیں۔ لہٰذا وہ بھی کانگریس کی اندرونی سیاست سے خوب واقف ہیں ،اور یہ کبھی نہیں چاہیںگی کہ کانگریس کے ساتھ وفاق کرکے وہ کسی اور کو وزیراعظم بننے کا موقع دیں۔
ویسے شرد پوار کا یہ فارمولہ بھی برا نہیں ہے کہ 2024میں تمام ریاستی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر اپنی اپنی ریاست میں بی جے پی کو شکست دینے کی پر زور کوشش کریں اور پھر نتائج کے بعد اپنے اپنے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں کہ وزیر اعظم کون ہوگا۔نتیش کمار کی اب تک کی تمام سرگرمی کو دیکھ کر بھی یہی لگتا ہے کہ وہ شرد پوار کے فارمولے کو مناسب سمجھتے ہیں اور 2024کے عام انتخاب سے قبل اپوزیشن کے لیڈر کے انتخاب کے حق میں نہیں ہیں اور وہ ابھی صرف اس کوشش میں ہیں کہ بی جے پی کے سیٹوں کی تعداد کو کم کریں۔












