سال 2025 بھارت کے لیے محض ایک عددی سال نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسا دور ثابت ہوا جس نے ملک کے جمہوری، سماجی، معاشی اور اخلاقی تشخص کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا۔ ایک طرف ترقی، عالمی طاقت اور اقتصادی نمو کے دعوے کیے گئے، تو دوسری جانب اقلیتوں، دلتوں، آدی واسیوں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے عدم تحفظ، ناانصافی اور بے یقینی کی فضا مزید گہری ہوئی۔ 2025 میں بھارت کو جہاں کچھ حاصل ہوا، وہیں اس سے کہیں زیادہ تلخ سوالات اور تشویشناک حقیقتیں چھوڑ گیا۔ 2025ء میں بھارتی سیاست شدید پولرائزیشن کا شکار رہی۔ اختلافِ رائے کو اکثر قوم دشمنی یا ریاست مخالف سرگرمی سے تعبیر کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں مباحث کا معیار گرا، اپوزیشن کی آواز کمزور ہوئی اور آئینی اداروں کی خودمختاری پر بار بار سوالات اٹھے۔ طاقت کے ارتکاز نے بظاہر سیاسی استحکام تو دیا، مگر جمہوری شمولیت، مکالمے اور احتساب کا عمل کمزور ہوا۔
معاشی میدان میں حکومت نے 2025ءکو ترقی کا سال قرار دیا، مگر بے روزگاری کے اعداد و شمار ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔پی ایل ایف ایس کی رپورٹ کے مطابق مجموعی بے روزگاری کی شرح 7تا8 فیصد رہی ۔ جبکہ 18 تا 29 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 15 تا 18فیصد تک ریکارڈ کی گئی ۔بعض ریاستوں کے شہری تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح 20 فیصد سے زائد رہی ۔ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت تو بڑھی ، مگر زیادہ تر روزگار غیر منظم، غیر محفوظ اور کم اجرتی رہا ۔یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت روزگار پر مبنی ترقی (Job-led Growth) حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کا براہِ راست اثر سماجی بے چینی اور مایوسی کی صورت میں سامنے آیا۔
کمزور طبقات اور دیہی بھارت کے لیے منریگا(مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون ) ایک حفاظتی ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم مگر 2025 میں اس قانون کے نفاذ،بجٹ میں کمی، ادائیگی میں تاخیر اور قواعد میں تبدیلیوں نےدیہی مزدوروں اور غریب خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ۔ اس کے نتیجہ میں کئی ریاستوں میں دیہی مزدوروں کو بروقت کام اور اجرت نہ ملنے کی شکایات سامنے آئیں ۔ منریگا کی کمزور ہوتی عملداری نے کسانوں ،دلتوں ، آدی واسیوں ، بے زمین کسانوں اور دیہی خواتین کو سب سے زیادہ متاثر کیا ، جو اس قانون پر روزی روٹی کے لیے انحصار کرتے ہیں ۔ یہ تبدیلیاں اس امر کی علامت بنیں کہ فلاحی ریاست کا تصور ہوتا جا رہا ہے ۔ اب حکومت منریگا کی جگہ وی بی جی رام جی (وکست بھارت روزگار و اجیویکا گارنٹی مشن ۔گرامین) یوجنا لائی ہے ۔ اس کے تحت سو کی جگہ ایک سو پچیس دن کام دینے کی بات کہی گئی ہے ۔ اس اسکیم میں مرکزی حکومت 60 جبکہ 40 فیصد حصہ ریاست کو دینا ہوگا ۔ پہاڑی ریاستوں میں یہ شرح 10:90 کی ہوگی ۔ اس تبدیلی سے کیرالہ ، بہار جیسی ریاستوں پراقتصادی بوجھ بڑھے گا ۔ سوال یہ ہے کہ جب منریگا میں حکومت وقت پر کام اور ادائیگی نہیں کر پا رہی تھی تو جی رام جی میں کیسے کرے گی ؟
2025میں سماج کے کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔مذہبی اقلیتیں ، خصوصاً مسلمان اور عیسائی عدم تحفظ کے احساس سے دوچار رہیں ۔ بعض ریاستوں میں فرقہ وارانہ تشدد ، نفرت انگیز تقاریر، مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک ، سماجی و اقتصادی بائیکاٹ ، مساجد کے سامنے ہنومان چالیسا کا پاٹھ، بھگوا جھنڈا لگانے کی کوشش، مزاروں کو مسمار کرنا اور ریل گاڑیوں میں مسلمانو ں کو نشانہ بنانا ، دلتوں کے خلاف تشدد اور انصاف میں تاخیر کے واقعات نے آئینی وعدۂ مساوات پر سوال کھڑے کئے ۔ حالانکہ قوانیں موجود ہیں لیکن ان پر موثر عمل درآمد کی کمی نے ان طبقات کے اعتماد کو مجروح کیا ہے ۔
نارتھ ایسٹ کی ریاستوں کو مجموعی طور پر امتیازی سلوک، ترقیاتی عدم مساوات اور نسلی تعصبات کا سامنا رہا۔ انہیں اکثر صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھا گیا، جبکہ سماجی و معاشی مسائل پس منظر میں چلے گئے۔ اس کی وجہ سے شمال مشرقی ریاستیں بھی غیر مطمئین ہیں ۔ اینجل چکما کی موت اس کی تازہ مثال ہے ۔ ترپورہ کے ایم بی اے طالب علم کو دہرادون میں پولس کی موجودگی میں چینی بتا کراتنا مارا پیٹا گیا کہ علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی ۔ اس معاملہ میں پولس کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ رہا ۔یہ واقع ریاستی و سماجی بے حسی کی ایک دردناک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔آدی واسی برادریوں کو بھی ترقیاتی منصوبوں، کان کنی اور صنعتی توسیع کے نام پر زمینوں سے بے دخلی اور ثقافتی شناخت کے بحران کا سامنا رہا۔
2025 میں ہجومی تشدد (Mob Lynching) بھارت کے لیے ایک سنگین اخلاقی اور قانونی چیلنج بنا رہا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق2015 کے بعد سے 120 سے زائد ہجومی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ متاثرین میں 70 فیصد سے زیادہ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ بیشتر واقعات گئو رکشا، مذہبی شناخت، افواہوں کی بنیاد پر پیش آئے ۔ ان واقعات میں انصاف کی تاخیر اور بعض اوقات ملزمان کی سرپرستی نے ریاست کی قانونی عملداری پر سوالیہ نشان لگا یا۔
2025 میں آسام میں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے، بے دخلی مہمات اور حراستی کارروائیوں نے شدید تشویش پیدا کی۔ شہریت، زمین اور شناخت کے مسائل نے مسلمانوں کو مستقل خوف کی فضا میں دھکیل دیا ہے۔ 2025-24کے دوران عیسائی برادری پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔عیسائی تنظیموں کے مطابق اس دوران 700سے زائد حملوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جن میں چرچوں پر حملے، عبادت کے دوران ہنگامہ آرائی پادریوں اور مذہبی کارکنوں کو ہراساں کرنا تھا ۔ تازہ واقعات کرسمس کے موقع پر سامنے آئے ، جب بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر حملے ہوئے ۔ جن کی وزیراعظم سمیت حکومت کے کسی بھی ذمی دار نے مزمت نہیں کی ۔یہ صورتحال آئین کے آرٹیکل 25 (مذہبی آزادی) کے عملی نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
خواتین کے خلاف مظالم کے پیش نظر 2025 کا تذکرہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے خلاف جرائم کے 4 لاکھ سے زائد مقدمات درج ہوئے۔ روزانہ اوسطاً 90 عصمت دری اور 400 سے زائد گھریلو تشدد کے واقعات درج ہوئے ۔متاثرہ خواتین میں بڑی تعداد دلت، آدی واسی اور غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اناؤ ریپ کیس آج بھی انصاف کے نظام پر ایک سیاہ دھبہ ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔برسر اقتدار جماعت کے ذریعہ مجرموں کو بچانے کی کوشش اس کا شرمناک پہلو ہے ۔ کٹھوا، ہاتھرس سے اناؤ تک اس کا کھلا مظاہرہ ہوا ہے ۔
جل ، جنگل ، زمین اور ملک کے وسائل پر تو حکومت کی نظر تھی لیکن 2025میں اراولی پہاڑی سلسلے کو کمزور یا ختم کرنے کے منصوبوں نے ماحولیاتی ماہرین اور مقامی آبادی کو شدید تشویش میں مبتلا کیا۔ اراولی نہ صرف ماحولیاتی توازن بلکہ پانی، ہوا اور مقامی آبادی کی زندگی کا ضامن ہے۔یہ پہاڑی سلسلہ گجرات، راجستھان ، ہریانہ ، دہلی سے لے کر اترپردیش کے متھرا تک تقریباً 700 کلومیٹر لمبا ہے ۔ اراولی صرف تھار کے ریت کو دہلی تک آنے سے نہیں روکتا بلکہ ہوؤں کو کنٹرول کرتا اور زمیں دوز پانی کو ری چارج کرنے میں معاون ہے ۔ یہ پہاڑ ہزاروں قسم کے چرند و پرندوں کا گھر اور جڑی بوٹیوں کا خزانہ ہے ۔ اس قدرتی ورثے کو قربان کرنا آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
عالمی سطح پر بھارت نے اپنی موجودگی مضبوط کی ہے ۔ لیکن انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے مسائل پر عالمی تنقید بھی بڑھی ہے ۔ عالمی طاقت بننے کی خواہش داخلی انصاف کے بغیر ادھوری محسوس ہوئی۔عالمی انڈیکس میں بھارت ہر معاملہ میں روز بروز نیچے کھسکتا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکمراں طبقہ اپنے ایجنڈے کو ہر حال میں لاگو کرنا چاہتا ہے بھلے ہی دنیا کچھ بھی کہے ۔ اسے ملک کی ساکھ کے گرنے کی بھی پرواہ نہیں ہے ۔
نیا سال بھارت کے لئے ایک فیصلہ کن موقع ہے۔ اگر وہ بے روزگاری کم کرنے،منریگا کو مضبوط بنانے،ہجومی تشدد پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے ،خواتین، اقلیتوں، دلتوں اور آدی واسیوں کو تحفظ فرہم کرے اورپائیدار ترقی کے منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ کو ترجیح دے تو بھارت زیادہ منصفانہ اور ہم آہنگ سماج کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
2025بھارت کے لیے ایک سخت مگر ضروری سبق تھا۔ بھارت نے عالمی طاقت کا درجہ حاصل کیا، مگر داخلی سطح پر انصاف، اعتماد اور انسانی وقار کے کئی قیمتی اصول کھو دئیے۔نیا سال خود احتسابی، اصلاح اور آئینی اقدار کی واپسی کا موقع ہے۔ اگر بھارت واقعی ایک عظیم قوم بننا چاہتا ہے تو اسے ترقی کے اعداد سے آگے بڑھ کر انسان، انصاف اور وقار کو مرکز میں رکھنا ہوگاکیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتی ہیں ۔












