انقرہ، (یو این آئی) ترکی میں داعش کے خلاف ملگ گیر آپریشن کے تحت منگل کے روز 357 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ملک کے وزیر داخلہ نے منگل کے روز بتایا کہ دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف آپریشن کے ضمن میں ترکی کے 21 صوبوں میں سکیورٹی فورسز کے بیک وقت چھاپے کے دوران کل 357 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ترک سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوشل پر ایک پوسٹ میں وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا کہ 21 صوبوں میں بیک وقت انسداد دہشت گردی آپریشن کے نتیجے میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں صوبائی پولس محکمہ نے چیف پبلک پراسکیوٹر کے دفاتر اور انٹیلی جنس محکموں کے ساتھ مل کر انجام دی ہیں۔ قبل ازیں استنبول کے چیف پبلک پراسکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دار الحکومت سمیت تین شہروں میں 110 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے 41 کا تعلق یالووا صوبے میں پیر کے روز ہونے والی دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث دہشت گردوں سے تھا اور وہ نئے سال کی تقریبات کے دوران استنبول میں اسی طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انقرہ کے چیف پبلک پراسکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں یہ بھی بتایا کہ اس نے داعش کے 17 دہشت گردوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں جن میں 11 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمال مغربی ترکی میں مسلح تصادم میں تین پولس افسران اور چھ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے ایک دن بعد، ترک پولس نے منگل کے روز داعش کے خلاف آپریشن میں 110 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ استنبول کے چیف پراسکیوٹر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملگ گیر کارروائی میں، پولیس نے استنبول اور دیگر دو صوبوں میں 114 ٹھکانوں پر چھاپے مارے، جس میں کل 115 مشتبہ افراد میں سے 110 کو گرفتار کر لیا گيا۔ چھاپے کے دوران مختلف ڈیجیٹل مواد اور دستاویزات ضبط کیے گئے ہیں۔ عالمی سطح پر داعش کے دوبارہ سرگرم ہونے کے پیش نظر ترکی نے رواں سال داعش کے مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔












