احمد آباد،پریس ریلیز،ہماراسماج:گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ میں خصوصی سیشن عدالت کی جانب سے 38/ ملزمین کو پھانسی کی سزا دیئے جانے والے فیصلہ کی تصدیق کے لیئے گجرات حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل اپیل پر حتمی بحث گذشتہ پانچ ماہ سے جاری ہے۔ گجرات ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے یومیہ کی بنیاد پر حتمی سماعت کررہے ہیں، دو رکنی بینچ ملزمین کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کوچیلنج کرنے والی اپیلوں پر بھی سماعت کررہی ہے۔سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی بحث مکمل ہونے کے بعد مشہور کریمنل وکیل یوگ موہت چودھری نے سیشن عدالت سے پھانسی اور عمر قید کی سزا پانے والے عمران ابراہیم شیخ،محمد عثمان محمد انیس اگربتی والا،محمد سجا منصوری،عباس عمر سمیجا، محمد اسماعیل محمد اسحق منصوری،قیام الدین شرف الدین کپاڑیہ،احمد ابوبکر باوا، عالم زیب مشکور احمد آفریدی، رفیع الدین شرف الدین کپاڑیہ کے دفاع میں بحث کا آغاز کیا اور عدالت کو بتایاکہ نچلی عدالت نے ملزمین کو محض شک کی بنیاد پر پھانسی اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے، پھانسی کی سزا کے مقدمات لڑنے کے لیئے مشہور ایڈوکیٹ یوگ چودھری نے عدالت کو مزید بتایا کہ کسی بھی ملزم کو پھانسی کی سزا دینے سے قبل اس کے خلاف عائد الزامات کی نوعیت اور اس کے خلاف موجود ثبوت و شواہد کو دیکھاجاتاہے لیکن اس معاملے میں نچلی عدالت نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے ملزمین کو سخت سزائیں دی ہیں۔ ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی خصوصی درخواست پر سینئر ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری اپنے معاونین کے ہمراہ احمد آباد میں خیمہ زن ہیں۔ایڈوکیٹ یوگ موہت چودھری کی بحث تقریباً ایک ماہ تک چلنے کی امید ہے۔عیاں رہے کہ گجرات ہائی کورٹ 38/ ملزمین کی پھانسی اور 11/ ملزمین کو ملنے والی عمر قید کی سزاؤں پر یکجا سماعت کررہی ہے۔ابتک اس معاملے میں سینئر وکلاء نتیا راما کرشنن، تجس باروت، ہردئے بوچ، مہر دیسائی بحث مکمل کرچکے ہیں۔اس مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین کو جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے نچلی عدالت میں بھی قانونی امداد فراہم کی تھی اور ہائی کورٹ میں بھی بیشتر ملزمین کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔ملزمین اور ان کے اہل خانہ کی درخواست پر جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے ملزمین کو ہائی کورٹ میں بھی قانونی امداد فراہم کی ہے۔نچلی عدالت نے زاہد قطب الدین شیخ،عمران ابراہیم شیخ، اقبال قاسم شیخ،شمش الدین شہا ب الدین شخ، غیاث الدین عبدالسلیم انصاری، عارف بھائی اقبال کاغذی، محمد عثمان اگر بتی والا، یونس محمد منصوری، عامل پرواز، شبلی عبدالکریم، صفدر حسین ناگوری، محمد ساجد منصوری، مفتی ابوالبشر، عباس عمر سمیجا، جاوید صغیر احمد، محمد اسماعیل عبدالرازق، افضل عثمانی، محمد عارف بدرالدین، آصف بشیر الدین، محمد عارف نسیم احمد، قیام الدین کاپڑیا، محمد سیف، ذیشان احمد، ضیاء الرحمن، محمد شکیل، محمد اکبر، فضل الرحمن، احمد ابو بکر باوا، شرف الدین ای ٹی سین الدین، سیف الرحمن، شادولی اے کریم،تنویر محمد اکبر، امین ایوب، مبین شکور، عالم زیب آفریدی اور توصیف خان صغیر احمد کو پھانی کی سزا دی تھی جبکہ ملزمین عتیق الرحمن، مہدی حسن،عمران احمد،محمد صادق، رفیع الدین شرف الدین کپاڑیہ،عنیق شفیق سید، محمد نوشاد، محمد انصار،محمد شفیق، محمد ابرار اورمحمد علی محرم علی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔گجرات انڈین مجاہدین مقدمہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلے ایسا مقدمہ ہے جس میں 35/ ایف آئی آر (مقدمات) کو یکجا کرکے ایک ہی عدالت میں اس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت 1164 سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیئے گئے۔گجرات سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں 56/ لوگوں کی موت جبکہ 246/ لوگ شدید زخمی ہو ئے تھے۔کل 78/ ملزمین کے خلاف خصوصی سیشن عدالت میں مقدمہ چلا جس میں عدالت نے 29/ ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا تھا جبکہ 49/ ملزمین کو قصور وار ٹہرایا تھا۔7015/ صفحات پر مشتمل سیشن عدالت کا فیصلہ ہے جبکہ اس مقدمہ کے کل دستاویزات 788690ہے۔












