نئی دہلی، خالصتان حامی مفرور امرت پال سنگھ ’وارث پنجاب دے‘ گروپ کے سربراہ جسے پولس سمیت تمام متعلقہ ایجنسیاں تلاش کر رہی ہیں۔ اور اب تک کی گئی تحقیقات میں اس تنظیم کے بینک اکاؤنٹ میں تقریبا 40 کروڑ روپئے پائے گئے ہیں۔ابھی اس کا سراغ نہیں لگا ہے کہ ان پیسوں کو کس نے ،کہاں سے اور کس کے لئے بھیجا ہے۔ ایجنسیوں سے وابستہ اہلکاروں نے ذرائع کو بتایا کہ یہ 40 کروڑ روپے پچھلے سات سالوں کے دوران پانچ لوگوں کے بینک کھاتوں میں آئے ہیں۔ جن لوگوں کے کھاتوں میں یہ آئے ہیں وہ سب وارث پنجاب دے سے وابستہ ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ رقم دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک سے جڑی ہوئی ہے۔ تحریک کے دوران اپنی جانیں گنوانے والے کچھ لوگوں کے اہل خانہ کیلئے رقم مالی مدد فراہم کرنے کیلئے بھیجی گئی تھی۔ ایک اور کیس میں یہ بھی معلوم ہوا کہ مذہبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے نام پر اکاؤنٹس میں رقم بھیجی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ امرت پال کے قریبی ساتھی دلجیت سنگھ کلسی، گرمیت سنگھ بکن والا، سکھ چین سنگھ دھالیوال عرف خالصہ، گرپریت سنگھ اور اوتار سنگھ اولکھ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے بینک کھاتوں میں یہ رقم پائی گئی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ رقم (35 کروڑ روپے سے زیادہ) صرف دلجیت سنگھ کلسی کے کھاتوں میں آئی۔دلجیت کو پولس نے گزشتہ ہفتے گرفتار کیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں امرت پال کے مالی لین دین کی بھی جانچ کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ رقم 12 مختلف ممالک سے آئی ہے۔ اس میں سے زیادہ تر نقد رقم میں جمع کرایا گیا تھا۔ IMPS اور UPI کے ذریعے اکاؤنٹس میں بھی رقم بھیجی گئی۔ تحقیقات سے وابستہ اہلکاروں کے مطابق اے ٹی ایم کے ذریعے تقریباً 4-5 کروڑ روپے نکالے بھی گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، امرت پال کے قافلے میں شامل تین گاڑیاں – مرسڈیز، اسوزو اور فورڈ اینڈیور کو پنجاب پولس نے ضبط کر لیا ہے۔ یہ تمام گاڑیاں امرت پال سنگھ کو تحفے میں دی گئیں۔ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ ان گاڑیوں کے رجسٹرڈ مالکان نے انہیں کیسے خریدا۔ اس کے علاوہ تحقیقاتی ایجنسیاں پانچ کمپنیوں کی بھی تحقیقات کر رہی ہیں جس کا ڈائریکٹر دلجیت سنگھ کلسی ہے۔ حکام کے مطابق ان میں سے تین کمپنیاں بند کر دی گئی ہیں جبکہ دو ابھی تک چل رہی ہیں۔












