انقرہ :ترکیہ میں ایک مشہور سکی ریزورٹ کے ہوٹل میں آتشزدگی کے نتیجے میں 76 افراد کی ہلاکت کے بعد قومی یومِ سوگ کا اعلان کر دیا گیا۔
شمالی ترکیہ میں کارتالکایا کے ریزورٹ میں واقع 12 منزلہ گرینڈ کارٹل ہوٹل کے ایک ریستوران کی چوتھی منزل پر صبح ساڑھے تین بجے کے قریب آتش زدگی سے کم از کم 51 افراد زخمی ہو گئے۔ سرکاری انادولو ایجنسی (اے اے) نے صوبائی گورنر کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ آگ نے جلد ہی باقی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے اندر 234 افراد موجود تھے۔
اے اے نے مزید کہا کہ آگ پر قابو پانے میں تقریباً 10 گھنٹے لگے۔ ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ ہوٹل کے ایک سیدھی ڈھلوان کی چوٹی پر واقع ہونے کی وجہ سے اسے بجھانا مشکل ہو گیا۔وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے کہا کہ آتشزدگی کے سلسلے میں نو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وزیرِ انصاف یلماز ٹنک نے پہلے ایکس پر کہا تھا کہ ہوٹل کا مالک ان میں شامل تھا۔ حکام واقعے کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ترکیہ میں جنوری میں سکیئنگ کا سیزن زوروں پر ہوتا ہے اور استنبول اور دارالحکومت انقرہ کے درمیان واقع کارتالکایا ملک کی مقبول ترین سیرگاہوں میں سے ایک ہے۔ سکول کی چھٹیوں کی وجہ سے سال کے اس وقت ہوٹل خاص طور پر بھرے ہوتے ہیں۔وزیرِ سیاحت مہمت نوری ایرسوئے نے کہا کہ ہوٹل کے پاس فائر بریگیڈ کا جاری کردہ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ تھا اور حکومت کو اس سلسلے میں ضوابط کی عدم تعمیل کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔
یونین آف چیمبرز آف ٹرکش انجینئرز اینڈ آرکیٹیکٹس نے ایک بیان میں کہا، ہلاکتوں کی تعداد سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ آگ سے بچاؤ کے اقدامات مناسب طریقے سے نہیں کیے گئے تھے۔”
ہوٹل کے ایک مہمان اتاکان یلکووان نے آئی ایچ اے نیوز ایجنسی کو بتایا، "بالائی منازل پر لوگ چیخ رہے تھے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے الارم نہیں سنا اور کہا کہ آگ بجھانے والے کارکنان کو پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔صدر رجب طیب ایردوآن نے امدادی امور کی نگرانی کے لیے پارٹی کانگریس میں اپنی تقریر مختصر کر دی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کا احتساب ہو گا۔












