یہ واقعہ ہے کہ بھارت کے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہت زیادہ خوشگوار کبھی نہیں رہے۔پاکستان اور چین سے دشمنی تو جگ ظاہر ہے اور ان ممالک سے بھارت نے جنگیں بھی لڑی ہیں لیکن بنگلہ دیش ہو یا شری لنکا ،نیپال ہو یا میانمار یہ سارے ممالک بھارت کے ان پڑوسیوں میں شمار ہوتے ہیں جو کبھی چین کی طرف ملتفت ہوتے ہیں اور کبھی ضرورت کے تحت بھارت سے بھی تعلقات استوار کر لیتے ہیں۔میانمار ایک ایسا ہی ملک ہے جو بھارت اور چین کے درمیان پینڈولم کی طرح جھولتا رہتا ہے۔اور کئی موقعوں پر اس کے رہنماؤ ں نے یہ کہا بھی ہے کہ چین کے مقابلے میں بھارت سے اسے کیا ملنے والا ہے۔میانمار کے تعلقات چین کے علاوہ روس سے بھی خوشگوار ہی رہتے ہیں کیونکہ ڈیفینس ایکوپمنٹ کی سپلائی کے لئے میانمار روس کا محتاج ہے۔
سال 2005 میں اس وقت کے نیوی چیف آف انڈیا ایڈمرل ارون پرکاش نے جزائر انڈمان اور نکوبار کے دورے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میانمار حکومت کے مطابق کوکو جزائر میں چینیوں کی کوئی موجودگی نہیں ہے اور ہم اس پر یقین رکھتے ہیں“اپنے سرکاری دورے سے چند ماہ قبل میانمار کے بحریہ کے سربراہ سو تھین دہلی آئے تھے اور ایڈمرل پرکاش کے ساتھ طویل بات چیت بھی کی تھی۔لیکن میانمار کے کوکو جزیرے پر چین کے اثر ورسوخ کے تمام شواہد سے انہوں نے انکار کر دیاتھا۔دراصل فی الوقت بھارت کو کوکو جزیرے پر چین کی بالادستی سے ہی تشویش ہے۔واضح ہو کہ دوسری جنگ عظیم سے میانمار کی آزادی 1948 تک جاپانی فوج نے کوکو جزیرے کو اپنے بحری اڈے کے طور پر استعمال کیا۔ میانمار کا حصہ بننے کے بعد 20ویں صدی کے آخر تک یہاں ایک ریڈار اسٹیشن ہوا کرتا تھا۔خاص بات یہ ہے کہ ‘گریٹ کوکو آئی لینڈ ہندوستان کے انڈمان نکوبار سے صرف 55 کلومیٹر دور شمال میں واقع ہے۔برطانیہ کے معروف پالیسی انسٹی ٹیوٹ چیتھم ہاؤ س کی نئی رپورٹ کے بعد جزیرہ کوکو ایک بار پھر بین الاقوامی مسئلہ بننے کے دہانے پر ہے۔
اس تحقیق کے مطابق، "تازہ ترین اور قابل اعتماد سیٹلائٹ تصاویر جزیرے پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو کہ ہندوستان کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔”تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ میانمار بہت جلد اس جزیرے سے انٹیلی جنس میری ٹائم نگرانی شروع کر سکتا ہے۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ میانمار کا مضبوط ہمسایہ چین اس جزیرے میں اپنے لیے ایک اسٹریٹجک اقتصادی امید دیکھ رہا ہے۔دراصل کئی مہینوں کی تحقیق کے بعد یہ تصاویر سیٹلائٹ امیجری میں دنیا میں سرفہرست سمجھی جانے والی ’میکسار ٹیکنالوجیز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کوکو آئی لینڈ میں تعمیراتی کام جاری ہے۔ ڈیمین سائمن اور جان پولاک کی طرف سے تیار کردہ چیتھم ہاؤ س کی تحقیق کے مطابق، "دو ہینگرز، رہنے والے کوارٹرز اور موجودہ 1,300 میٹر لمبی فضائی پٹی کو تقریباً 2,300 میٹر تک بڑھا دیا گیا ہے۔”مشہور دفاعی میگزین ‘جینز ڈیفنس ویکلی کے مطابق، "لڑاکا طیاروں اور بڑے کارگو فوجی طیاروں کو لینڈنگ اور ٹیک آف کرنے کے لیے 1,800 میٹر سے لے کر 2,400 میٹر تک کے لمبے رن وے کی ضرورت ہوتی ہے”۔ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے حال ہی میں اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان ایسی تمام سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، جن کا تعلق ملک کی سلامتی سے ہے”۔
دوسری جانب میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان میجر جنرل زاو من تون نے ایسے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”میانمار کسی بھی غیر ملکی حکومت کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا، ہندوستانی حکومت جانتی ہے کہ وہاں اس جزیرے پر صرف میانمار کی سیکیورٹی فورسز ہیں جو اپنے ملک کی حفاظت کرتی ہیں۔لیکن ایسی باتیں تو میانمار کی حکومت تو پہلے بھی کرتی رہی ہے۔میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے ملک میں غیر ملکی مداخلت میں اضافے کی خبریں آتی رہی ہیں۔ اسے میانمار میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔کئی دہائیوں سے چین آبنائے ملاکا پر نظریں جمائے ہوئے ہے تاکہ سمندری تجارت کے ذریعے اپنی درآمدات برآمدات اور توانائی کی ضروریات پوری کر سکے۔تقریباً 800 کلومیٹر طویل یہ سمندری راستہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان آتا ہے جس کے ذریعے چینی بحری جہاز بحر ہند اور خلیج بنگال کے راستے مغربی دنیا تک پہنچتے ہیں۔اقتصادی پابندیوں اور اندرونی سیاسی بحران کا شکار میانمار چین کے لیے موزوں اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ چین میانمار کا اہم دفاعی سپلائر ہے اور دوسرا بڑا غیر ملکی سرمایہ کار بھی ہے۔اسٹریٹجک امور کے ماہر پروفیسر برہما چیلانی کی رائے ہے، ”پچھلی چند دہائیوں میں جس طرح مغربی طاقتوں نے میانمار کا محاصرہ کیا ہے اور اس کے ساتھ سختی سے نمٹا ہے، اس سے میانمار اور چین قریب تر ہوتے چلے گئے۔ کیونکہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔
جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے، یہ اس کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بھی ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے تقریباً تمام ممالک – کمبوڈیا، لاؤ س، میانمار، تھائی لینڈ اور ویتنام میں آمرانہ حکومتیں ہیں۔ان میں سے کمبوڈیا جیسے ممالک خود کو مختلف قسم کی اقتصادی پابندیوں یا بین الاقوامی تنہائی سے پریشان بتاتے رہے ہیں۔مثال کے طور پر، 2021 میں، ایشیا کے مستقبل کے بارے میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن سین نے کہا، "اگر میں چین پر بھروسہ نہیں کرتا، تو میں کس پر بھروسہ کروں؟ اگر میں چین پر بھروسہ نہیں کرتا تو کس پر بھروسہ کروں؟”ماہرین کو اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ میانمار کی فوجی حکومت کی طرف سے اگر ایک بار پھر ایسے ہی بیانات آنا شروع ہو جائیں تو یہ بری خبر ہو سکتی ہے۔ میانمار کی سرحد ایک طرف ہندوستان کے ساتھ ملتی ہے تو دوسری طرف اس کی سرحد تھائی لینڈ کے ساتھ ہے۔ میانمار میں آباد ہونے والی ذاتیں ہندوستان کے شمال مشرقی علاقوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔لیکن بھارت کے لئے تشویشناک بات یہ ہے کہ میانمار میں فوجی حکومت ہے۔میانمار کے بارے میں بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا بھی یہی کہنا ہے کہ اگر فوج انتخابات بھی کراتی ہے تو بھی اسے بیرونی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی اس میں اسے چین اور روس سے مدد مل سکتی ہے۔ اسے ہتھیار فراہم کرنے کے علاوہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس کی مدد کرتے ہیں۔
دوسری طرف بھارت کی جو تشویش ہے وہ بھی غیر فطری نہیں کیونکہ میانمار میں فوجی اثر و رسوخ اور انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مقابلہ کرنا ضروری ہے۔کوکو آئی لینڈ کے حوالے سے بھی یہی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ وہاں پر نظر آنے والی سرگرمیوں کے پیچھے چین کا ہاتھ ہے؟کہا جا رہا ہے کہ چین مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے دور سے اپنے ‘دوست کی مدد کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ خلیج بنگال میں فوجی نگرانی کے لئے میانمار سےبدوستی ناگزیر ہے اور چین میانمار کا استعمال کر بھی رہا ہے۔میانمار کی یونیورسٹی آف ینگون میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر سون ون کے مطابق، ”خارجہ پالیسی ہو یا ملکی پالیسی، ہر ملک کو اپنے مفادات کے لیے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ میانمار کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔”بقول اْن کے، "میانمار کی جغرافیائی پوزیشن دلچسپ رہی ہے۔ اگر شمال اور مغرب میں چین اور بھارت جیسی بڑی طاقتیں ہیں، تو جنوب اور مشرق میں یہ ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میانمار کے بازار اور ہمسایہ ممالک معیشت میں حصہ داری کے معاملے میں بھی مقابلہ کر رہے ہیں اور بہت جلد کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں لیکن بھارت کو ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھنی ہونگی۔












