یہ ایک عجیب دور ہے جس سے ہم گذر رہے ہیں لیکن اس سے بھی عجیب یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر کو یہ پتہ ہیں نہیں ہے ہمارے اور پورے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ٹھیک اسی طرح جیسے ہمارے جسم کا بیشتر حصہ سن ہو گیا ہو ،اور ہم یہ سمجھ رہے ہوں کہ جسم کے کس حصہ میں پھوڑا ہے اور کس حصے کی سڑاندھ سے پورا گھر بدبو سے بھر چکا ہے اور گھر والوں کا سانس لینا محال ہو رہا ہے۔
اس اکیسویں صدی کا کمال یہ ہے کہ پورا معاشرہ سیاست کے پنجے میں جکڑا جا چکا ہے ،اب نہ تو سماجیات کا اپنا کوئی وجود ہے اور نہ مذہب کا ،حد تو یہ ہے کہ سائنس و ٹکنا لوجی کو بھی سیاست اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔بازار اور بازار کے تاجر بھی سیاست کے اشارے پر ناچنے کے عادی ہو چکے ہیں۔اسکول کالج یونیورسٹیاں جہاں کبھی علوم تقسیم کئے جاتے تھے اب مخصوص نظریات کے ڈسٹری بیوشن سنٹر بن چکے ہیں۔پوری دنیا میں یہ شور ہے کہ یہ دور اطلاعات و ٹکنا لوجی کا دور ہے لیکن ہمارے ملک میں اقتدار میں بیٹھے سیاسی بازیگر کے اشارے پر خبریں چلائی جاتی ہیں اور خبریں چھپائی جاتی ہیں۔
ابھی کی تازہ خبر یہ ہے کہ بدسر اقتدار جماعت کے ای سابق گورنر نے 2019میں جب وہ کشمیر کا گورنر تھا ،یہ انکشاف کیا کہ پلوامہ بم دھماکہ سرکار کی نا اہلی سے وقوع پذیر ہوا۔لیکن نیشنل میڈیا نے اس خبر پر کوئی توجہ نہیں دی۔دہلی میں جنتر منتر پر ان دنوں ملک کی نامور خواتین پہلوانوں کا ایک ایک جتھا دھرنے پر بیٹھا ہے ،اور ان کا کہنا ہے کہ کشتی سنگھ کا صدر جو بی جے پی کا ممبر آف پارلیامنٹ ہے اس نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے گذشتہ برسوں میں سیکڑوں پہلوان لڑکیوں کی عصمت دری کی ہے ،اور ان میں سے سات لڑکیاں جن میں ایک نابالغ لڑکی بھی ہے کی شکایت درج کرنے کے لئے پولیس راضی نہیں ہے کیونکہ وہ ایم پی وزیر اعظم کا منظور نظر ہے۔لیکن ملک کی میڈیا کے سامنے یہ خبر ایسی نہیں ہے جس کو چلایا جائے اور سرکار سے پوچھا جائے کہ ایسا بدکار ایم پی اپنے عہدے پر کیوں ہے اور اس کا استعفی لے کر اس کو سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ڈالا جا رہا ہے۔
ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ایک ایسا خودسر وزیر اعلی ہے جو کھلے عام قانون کو ہاتھ میں لے کر ایک خاص مذہب کے لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلا رہا ہے۔قیدیوں کو پولیس کی نگرانی میں گولی مارا جارہا ہے۔لیکن میڈیا میں اسپر کوئی خبر نہیں ہے کہ آیا اتر پردیش میں قانون کا راج ہے یا اس بھگوادھاری وزیر اعلی کا جس پر وصیر اعلی بننے سے پہلے سو سے زیادہ سنگین جرائم کے کیس تھے اور وزیر اعلی بنتے ہی اس نے خود ہی اپنے سارے کیس ختم کروا دئے۔
کمال تو یہ ہے کہ ملک کے وہ تمام ادارے اور ایجنسیاں جو مفاد عامہ کے لئے وقف تھیں اور آئینی طور پر آزاد و خود مختار تھیں اب مرکزی سرکار کے سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہیں لیکن کہیں سے کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی ہے۔ملک کی تمام حزب اختلاف کی جماعت کو ملک دشمن قرار دے دیا گیا ہے اور ان کی جانب سے پوچھے جانے والے ہر سوال کو ملک دشمنی پر مبنی سوال قرار دیا جا رہا ہے لیکن بے حس معاشرے پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔اور عام تاثر یہ ہے کہ سب کچھ ایسے ہی چلیگا کوئی کچھ کر بھی کیا سکتا ہے۔منہگائی اور بیروزگاری کی مار سے ادھ مرا ہو چکا معاشرہ اب پوری طرح ٹوٹ چکا ہے لیکن اسے مذہب کا افیون کھلا کھلا کر دکھایا جا رہا ہے کہ یہ زندہ لوگوں کا معاشرہ ہے۔جبکہ سچ یہ ہے کہ پورا معاشرہ بے حس ہو چکا ہے۔عوام کو خود اپنے مفاد کا بھی علم نہیں تو وہ بھلا ملک اور قوم کی فکر کیا کرے۔
قوموں پر ایسے برے دن آتے رہے ہیں ،لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ان ادوار میں مٹھی بھر لوگ ہی سہی سر سے کفن باندھ کر کھڑے بھی ہوتے رہے ہیں۔لیکن آج جو صورت حال ہے اس میں سوائے سیاسی چپقلش کے اور کسی سرگرمی کی کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے۔ایک خاص قسم کے عفریت نے ہمارے ملک میں اپنا قد حاصل کر لیا ہے اور وہ ہے مسلم دشمن عفریت۔جو پورے ملک میں اینڈتا پھر رہا ہے۔وہ اپنے جلسے منعقد کر رہا ہے۔اور ان جلسوں میں مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا حلف اٹھایا جا رہا ہے۔مسلم لڑکیوں کو دھوکہ دے کر ان کی زندگی تباہ کرنے کے طریقہ بتائے جا رہے ہیں۔اور یہ اتنے موثر طریقے ہیں کہ اس سے مسلم لڑکیاں بہت تیزی کے ساتھ برباد ہو رہی ہیں لیکن نہ تو قانون کو اس کی خبر ہے اور نہ ہی خود ملی اداروں کو کی طرف سے کسی پیش قدمی کی خبر ہے۔یعنی بے حسی نے ہر چہار طرف سے پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ملک کے عام لوگ ایک کے بعد ایک انتخاب میں ووٹ دئے جا رہے ہیں۔ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ ان کے ذریعہ دئے جانے والے ووٹ سے کامیاب ہونے والے امیدوار اپنی توانائی کہاں خرچ کر رہے ہیں۔اور جن سے وہ ووٹ لے رہے ہیں ان کی زندگی پر اس کا کوئی خاطر خواہ اثر کیوں نہیں پڑ رہا ہے۔












