بے حسی کی کوئی تعریف نہیں ہوتی اور نہ اس کی کوئی حد مقرر ہے۔بے حسی بس نظر آنے والی چیز ہے جو قوموں کے زوال ،اس کی نسلوں کی بے راہ روی ،انسانی اقدار کے زوال ،مظلوموں کی چیخ ،مذہبی جغادریوں کے بڑھتے تن و توش اور سکڑتی ذہنیت ،بے دلیل مباحث،افسروں کی ناز برداری ،حاکم وقت کی چاپلوسی ،مذہب اور دین کے نام پر سر دھننے اور اس کے احکام سے رو گردانی جیسے افعال میں صاف طور پر نظر آتی ہے۔ملک میں سیاسی بساط بچھی ہوئی ہے ،لیکن اس بساط پر بچھے مہروں میں قوم مسلم کی حیثیت نہ بادشاہ کی ہے نہ وزیر کی ،نہ گھوڑے کی اور نہ کشتی کی۔بس پیادے ہیں جو ایک قدم چلنے کے پابند ہیں۔
اور کمال یہ ہے کہ ان پیادوں کو اپنی حالت پر کوئی افسوس بھی نہیں ہے۔وہ خوش ہیں اور ڈینگیں ہانک رہے ہیں۔ان دنوں ہر چہار جانب یہ چرچہ ہے کہ کرناٹک اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کامیاب ہوگی ،دیو گوڑا کی جے ڈی ایس یا کانگریس۔ایک مخصوص طبقہ مسلسل یہ گردان کررہا ہے کہ بی جے پی کا ہارنا طئے ہے۔اور پھر کرناٹک سے بی جے پی کی شکست کا سلسلہ شروع ہوگا وہ اسے مختلف اسمبلی الیکشن میں اور پھر 2024میں ہونے والے عام انتخاب میں اقتدار سے باہر کر دیگا۔بی جے پی کی شکست کا خواب دیکھنے والوں کا یہ وہ طبقہ ہے جو خود کو سیکولر کہتے ہیں ،آئین بچانا ان کا فرض ہے ،اور وہ امبیڈکر کا قصیدہ پڑھتے رہتے ہیں جنہوں نے سوشل انجینئرنگ کا فارمولہ آئین کی شقوں میں شامل کر دیا تھا۔لیکن ان کی گھگھی اس وقت بندھ جاتی ہے جب ملک میں موجود آئینی حکومت کے سائے میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دینے والوں اور پھر عید ملن کا جشن منانے والوں سے یہ پوچھنے والا کوئی نہیں کہ اسی عید کے پہلے نجی گھروں میں تراویح کی نماز پڑھنے والوں پر کیس درج کرنے پر وہ کیوں خاموش تھے۔عید کے پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں شری رام کی یوم پیدائش پر رام بھکتوں کا جلوس جب مساجد و مدارس پر چڑھکر ان کے گنبد ومینار کو توڑ رہا تھا تب ان کی آواز کیوں نہیں نکلی ،خواتین ریسلر پر جنسی زیادتی کرنے والوں کے خلاف جنتر منتر پر دھرنا دینے والوں کی حمایت کرنے کے نام پر دوڑ دوڑ کر جانے والوں کو گجرات کی وہ مسلم عورت کیوں یاد نہیں آئی جس کی عصمت دری کرنے والے سزا یافتہ درندوں کو گجرات سرکار نے ان کے اچھے چال چلن اور برہمن ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔پورے ملک میں چن چن کر مسلمانوں کی ماب لنچنگ پر خاموش رہنے اور سڑکوں پر نہ نکلنے والوں کی اس پر اسرار خاموشی کو ہی بے حسی کہتے ہیں۔اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ایسے بے حس لوگوں کے سروں پر مودی جیسے حکمراں مسلط نہ ہوں۔مودی کی بے لگام حکومت کو لگام دینے سے قبل ان سیکولر لوگوں کو اپنے اعمال اور افعال پر نگاہ ڈالنی ہوگی۔
ملک کے ان مسلم سیاسی قائدین کو بھی اب تھوڑی دیر رک کر یہ سوچنا ہوگا کہ کہ مسلمانوں کی نمائندگی کے نام پر وہ اقتدار کے سپاہیوں میں شامل تو ہوگئے ہیں لیکن کیا ان کی کارکردگی ایسی ہے جس سے مسلمانوں کے مفاد وابستہ ہوں۔کیا وہ تمام سیاسی جماعتوں میں موجود مسلم قائدین کے رابطے میں ہیں۔کیاکبھی ان کے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ مسلمانوں کے نام پر ان کو جس عہدے سے سرفراز کیا گیا ہے وہاں وہ مسلمانوں کے حال اور مستقبل کے لئے بھی کچھ سوچیں۔
کہیں سے کسی امید کی کرن کا گذر نہیں۔سب کے سب بے حسی کے چادر میں لپٹے کھلی آنکھوں سے اس سیاسی کھیل کو دیکھ رہے ہیں جس میں مٹھی بھر لوگ جو چاہیں وہی ہوتا ہے۔نہ ان کے آڑے قانون آتا ہے نہ آئین اور نہ ملک کا مفاد۔ایسے میں ملک میں کسی بڑی تبدیلی کا خواب دیکھنا چہ معنی دارد۔












