آج یکم مئی ہے جسے ”یوم مزدور “ کے نام سے جا نا جا تا ہے ۔ 1886 میں اپنے حقوق حاصل کر نے کے لئے محنت کشوں نے احتجاج کیا اور اس کی پاداش میں انھیں ہزاروں جا نوں کی قربانی دینا پڑی۔ ان ہی قربانیوں کی یا دمیں ہر سال یکم مئی کو ”یوم ِمزدور “ منایا جا تا ہے ۔ اس دن سیمینار بھی کروائے جا تے ہیں اور مزدوروں سے یکجہتی کے لئے مختلف پروگرام کا انعقاد کروایا جا تا ہے ، جن میں ہمارے سیاسی رہنما، بیو رو کریٹس سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہو تے ہیں ۔ مزدوروں کے حق میں نعرے لگا ئے جا تے ہیں ، تقاریر کی جا تی ہیں ، لیکچر جھا ڑے جا تے ہیں ،مگر حقیقت یہ ہے کہ مزدور کے اوقات کس قدر تلخ ہیں ، اس بارے میں انھیں اندازہ ہی نہیں ہو تا ۔ ہمارے یہاں مزدور کے معیاری زندگی کو بہتر بنا نے کے لئے یونہی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا تے ہیں ، ہماری حکومتیں صرف اپنے ووٹ بینک کو بڑھا نے یا قائم رکھنے کے لئے محض اشتہارات چلوا نے پر اکتفا کئے ہو ئے ہیں جب کہ عملی اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہے۔ آج بھی مزدور کو کھا نے کے لئے دو وقت کا کھانا میسر ہے اور نہ پہننے کے لئے کپڑے جبکہ سرڈھا نپنے کے لئے چھت بھی میسر نہیں ۔
جو لوگ دوسروں کے آرام کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں ، وہ خود کو اور اپنے بچوں کو راحت پہنچا نے کے لئے ترستے ہو ئے اس دنیا سے کوچ کر جا تے ہیں ، جبکہ یہ صاحب شروت لوگ اپنی عیاشیوں میں اسقدر مست ہو تے ہیں کہ انھیں اور کسی کے با رے میں جا ننے کے لئے وقت ہی نہیں ہو تا ۔ ”یوم مزدور“ کو جہاں ایک طرف مزدور کی محنت کا لفظی طور پر اعتراف کیا جا تا ہے اور ان کے حقوق کی بات (چاہے صرف تقریروں کی حد تک ہو) کی جا تی ہے ، وہیں اس دن ، دن بھر کی محنت و مشقت کر کے دو وقت کی روٹی کما نے والے کی کیا حالت ہو تی ہے، یہ کوئی نہیں دیکھتا ۔ ستم کی بات تو یہ ہے کہ ان مزدوروں کا اور فائدہ امیر اُٹھا تے ہیں ، کبھی کسی این جی او یا سماجی تنظیم نے اس دن کے مو قع پر کسی مزدور کو مہمان خصو صی بلایا ہے ؟ نہیں ۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی دن کسی کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے تو پھر اس دن اُس شخصیت کو ہر جگہ اہمیت حاصل ہو تی ہے ، ہر کوئی اس کے نا زو نخرے بر داشت کر تا ہے ، مگر ادھر آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ، نام مزدوروں کا دن ہو تا ہے اور اہمیت امیروں کو دی جا تی ہے ۔ یکم مئی کو جب بڑی بڑی ہوٹلوں اور اسے ہالوں میں مزدوروں کے نام پر پروگرامز ہو رہے ہو تے ہیں تو اس پروگرامز میں غریب مزدور کو داخل بھی نہیں ہو نے دیا جا تا ۔ ہال میں وہ لوگ داخل ہو نگے جس کا اسٹیندرڈ امیروں جیسا ہو گا ۔ اگر سیمیناروں میں بیٹھنے والے مزدور ہیں تو پھر اس دن فیکڑیوں ، کارخانوں اور راج گیروں کے ساتھ مزدوری کر رہے ہیں وہ کون ہیں ؟
یکم مئی کو مزدور ہر روز کی طرح اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت کر تے ہیں ، ان کو اس دن سے کوئی سر و کار نہیں ، بس اپنے بچوں کے لئے رو زی کما نے سے غرض ہے ۔ ویسے یکم مئی کو ہر فورم پر مزدوری کی فلاح و بہبود کے لئے بڑی بڑی باتیں کی جا تی ہیں ، دعویٰ کیا جا تا ہے مگر ان پر کبھی عمل بھی ہو ا ہے ؟ ہر گز نہیں ، کیونکہ وہ با تیں صرف میڈیا کی زینت بننے کے لئے کی جا تی ہیں ، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے لئے کتنی تگ و دو کر رہی ہے ، کبھی کسی حکومت نے ایسے اقدام اُٹھا ئے ہیں کہ یکم مئی کے دن ان مزدوروں کو جو روزانہ کی بنیاد پر کام کر تے ہیں ، حکومتی سطح پر کوئی وظیفہ دیکر ان کو چھٹی دی گئی ہو ، کیونکہ یکم مئی ان کا دن ہے اور وہ اس دن اپنے فیملی کے ساتھ ہنسی خوشی گزار سکیں ؟
آخر مزدور ہم سے کیا چاہتا ہے ، صرف اپنی محنت کا منا سب اور بر وقت معاوضہ ، مزدوری کے اوقات کار کا تعین اور ستطاعت کے مطابق کام اور برابر کا سلوپک۔لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قوانین تو بنا ئے جا تے ہیں مگر ان پر صحیح معنوں میں عمل در آمد کا خواب آج تک شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہو ئے بتائیں کہ ان کے کیفے ٹیریا میں روٹی سالن اور چائے کے ایک کپ کی کیا قیمت ہے ؟ کیا ان کی قیمت ایک مزدور کی روٹی کے برابر ہے ؟ مزدوروں کی روٹی کی قیمت پانچ روپئے اور جبکہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کی روٹی کی کیا قیمت ہے یہ سب کو پتا ہے ۔ نہیں ؟ نعرے ہم مزدوروں کے حقوق کے لگا تے ہیں اور فائدہ امیروں کو پہنچا تے ہیں ۔ مزدورو ں کے فنڈ کے نام پر کروڑوں روپئے لئے جا تے ہیں اور مزدوروں پر اگر خرچ کر نے کی نو بت آجا ئے تو وہ بڑی مشکل سے ہزاروں میں ہو تی ہے ۔
ہندوستان میں بے روز گاری زیادہ ہو نے کی وجہہ سے مزدور کچھ نہ ملنے سے کچھ مل جا نا بہتر ہے کہ غر ض سے ہر جگہ ایڈ جسمینٹ کر لیتا ہے ۔ اب تو فیکڑیوں میں ٹھیکہ داری نظام چل رہا ہے جس کا فائدہ بھی امیر اُٹھا رہا ہے ۔ وہ مل سے ٹھیکہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ تنخواہ پر لیتا ہے مگر مزدوروں کو کم اجرت دیتا ہے ۔ میرے اپنے ایریا میں کئی ایسی بڑی بڑی فیکڑیاں موجود ہیں جس کا شمار نمبر ایک فیکڑیوں میں ہو تا ہے مگر اس میں ٹھیکہ داری نظام ہو نے کی وجہ سے مزدور کا استحصال ہو رہا ہے ۔ حکومت نے مزدوری کی مزدوری اگر 12000 روپئے مقرر کی ہے تو ٹھیکہ دار مزدور کو آٹھ سے نو ہزار روپئے دے رہا ہے اور غریب مزدو ر خاموشی سے اپنا اور اپنی اولاد کا پیٹ پا لنے کے لئے وہ اتنی کم تنخواہ پر کام کر رہا ہے ۔
کیا ہماری حکومت کو نہیں معلوم کہ مزدوروں کے اتنے کم وسائل میں سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں ؟ دراصل کسی کو کسی کی پرواہ نہیںہے اگر ہے تو صرف میڈیا کے سامنے دو چار لفظ بول کر اپنا نام روشن کر نے کی ۔ اس کے علاوہ آج تک مزدور کے مسائل اور ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بس سال میں ایک بار ”یوم مزدور“ منا کر ذمہ داری پوری کر دی جا تی ہے ، وہ کیسے ؟ فقط ایک دن کی چھٹی کر کے ۔ اس کا مزدور کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے ، مزدور کو اس دن کے لئے کوئی وظیفہ تو ملتا نہیں بلکہ کاروبار بند ہو نے کی وجہ سے اسے کوئی کام بھی نہیں ملتا ۔ ”یوم مزدور “ منانا اتنا ہی ضروری ہے تو ایک دن کے لئے تمام محنت کشوں کو اضافی معاوضہ دیا جا ئے اور محنت کشوں کی محنت کا پھل جس پر ان کے بچوں اور گھروالوں کا حق ہے کسی حکمراں اور سرمایہ داروں کو نہ کھا نے دیا جا ئے ، لیکن کیا کیا جا ئے ، دنیا میں بس دو ہی طبقے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ، ایک سرمایہ دار اور دوسرا مزدور ، پہلا زہر پلا نے پر بضد اور دوسرا زہر پینے پر مجبور ۔ ایک طبقہ مزدور کا ہے ، وہ خواب دیکھتا ہے ، وہ بھی اچھی زندگی کا خواب ، ایسی زندگی جس میں خوشیاں ہو ، امن ہو ، روشن مستقبل ہو ، کو ئی آزار نہ ہو ، بہار ہی بہار ہو۔ایسا خواب دنیا کا ہر انسان دیکھتا ہے ، اسے دیکھنا بھی چاہئے ، یہ اس کا حق ہے کہ وہ یہ خواب دیکھے، ایسے ہی خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے ہی دنیا کا ہر مرد و زن محنت اپنا پسینہ بہا تا ہے اور ضرورت ہو تو اپنا خون بھی ، دوسرا طبقہ جو سرمایہ دار کہلاتا ہے ، وہ مزدوروں کے خوابوں کو کچلنے کے لئے کوشاں رہتا ہے ، وہ مزدوروں کا ان کی محنت کا اجر دیتا تو ہے لیکن اتنا نہیں جتنی وہ محنت کر تے ہیں ۔
لہذا میرے مزدور ساتھیو! یوم مئی کا پیغام یہ ہے کہ بر بادی محنت کش طبقے کا مقدر نہیں ہے ، اس نظام کے جبر سے نجات اس کے خلاف لڑائی اور بغاوت سے ہی ممکن ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ محنت کشوں نے تمام حقوق لڑ کر ہی حاصل کئے ہیں ، کیونکہ مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں ۔ آج تو اس خیرات کی گنجائش بھی اس نظام میں نہیں ہے ۔ حق چھیننا پڑتا ہے ، حیثیت اور اذیت کے اس سماج میں زندہ رہنے کے لئے لڑنا پڑتا ہے ۔ ہمیں حکومت سے ، سرمایہ داروں سے اور سامراجی اداروں سے یہ سب کچھ واپس چھیننا ہے ، ہمیں نسل انسان کے مستقبل کو بچا نے کے لئے جنگ لڑ نا ہو گا اور جیتنا بھی ہو گا ۔ اور یہ سب کچھ صرف خواب نہیں ہے بلکہ عملی طور پر عین ممکن ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور تنظیموں کو مر بوط اور منظم کیا جا ئے اور مسلسل جدوجہد کر تے ہو ئے پیش قدمی کی جا ئے ۔ یہی ایک راستہ ہے جو مزدور کے حقوق کا ضامن بن سکتا ہے ۔
قیصر محمود عراقی
”مزدور ساتھیو!مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں “
آج یکم مئی ہے جسے ”یوم مزدور “ کے نام سے جا نا جا تا ہے ۔ 1886 میں اپنے حقوق حاصل کر نے کے لئے محنت کشوں نے احتجاج کیا اور اس کی پاداش میں انھیں ہزاروں جا نوں کی قربانی دینا پڑی۔ ان ہی قربانیوں کی یا دمیں ہر سال یکم مئی کو ”یوم ِمزدور “ منایا جا تا ہے ۔ اس دن سیمینار بھی کروائے جا تے ہیں اور مزدوروں سے یکجہتی کے لئے مختلف پروگرام کا انعقاد کروایا جا تا ہے ، جن میں ہمارے سیاسی رہنما، بیو رو کریٹس سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہو تے ہیں ۔ مزدوروں کے حق میں نعرے لگا ئے جا تے ہیں ، تقاریر کی جا تی ہیں ، لیکچر جھا ڑے جا تے ہیں ،مگر حقیقت یہ ہے کہ مزدور کے اوقات کس قدر تلخ ہیں ، اس بارے میں انھیں اندازہ ہی نہیں ہو تا ۔ ہمارے یہاں مزدور کے معیاری زندگی کو بہتر بنا نے کے لئے یونہی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا تے ہیں ، ہماری حکومتیں صرف اپنے ووٹ بینک کو بڑھا نے یا قائم رکھنے کے لئے محض اشتہارات چلوا نے پر اکتفا کئے ہو ئے ہیں جب کہ عملی اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہے۔ آج بھی مزدور کو کھا نے کے لئے دو وقت کا کھانا میسر ہے اور نہ پہننے کے لئے کپڑے جبکہ سرڈھا نپنے کے لئے چھت بھی میسر نہیں ۔
جو لوگ دوسروں کے آرام کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں ، وہ خود کو اور اپنے بچوں کو راحت پہنچا نے کے لئے ترستے ہو ئے اس دنیا سے کوچ کر جا تے ہیں ، جبکہ یہ صاحب شروت لوگ اپنی عیاشیوں میں اسقدر مست ہو تے ہیں کہ انھیں اور کسی کے با رے میں جا ننے کے لئے وقت ہی نہیں ہو تا ۔ ”یوم مزدور“ کو جہاں ایک طرف مزدور کی محنت کا لفظی طور پر اعتراف کیا جا تا ہے اور ان کے حقوق کی بات (چاہے صرف تقریروں کی حد تک ہو) کی جا تی ہے ، وہیں اس دن ، دن بھر کی محنت و مشقت کر کے دو وقت کی روٹی کما نے والے کی کیا حالت ہو تی ہے، یہ کوئی نہیں دیکھتا ۔ ستم کی بات تو یہ ہے کہ ان مزدوروں کا اور فائدہ امیر اُٹھا تے ہیں ، کبھی کسی این جی او یا سماجی تنظیم نے اس دن کے مو قع پر کسی مزدور کو مہمان خصو صی بلایا ہے ؟ نہیں ۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی دن کسی کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے تو پھر اس دن اُس شخصیت کو ہر جگہ اہمیت حاصل ہو تی ہے ، ہر کوئی اس کے نا زو نخرے بر داشت کر تا ہے ، مگر ادھر آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ، نام مزدوروں کا دن ہو تا ہے اور اہمیت امیروں کو دی جا تی ہے ۔ یکم مئی کو جب بڑی بڑی ہوٹلوں اور اسے ہالوں میں مزدوروں کے نام پر پروگرامز ہو رہے ہو تے ہیں تو اس پروگرامز میں غریب مزدور کو داخل بھی نہیں ہو نے دیا جا تا ۔ ہال میں وہ لوگ داخل ہو نگے جس کا اسٹیندرڈ امیروں جیسا ہو گا ۔ اگر سیمیناروں میں بیٹھنے والے مزدور ہیں تو پھر اس دن فیکڑیوں ، کارخانوں اور راج گیروں کے ساتھ مزدوری کر رہے ہیں وہ کون ہیں ؟
یکم مئی کو مزدور ہر روز کی طرح اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت کر تے ہیں ، ان کو اس دن سے کوئی سر و کار نہیں ، بس اپنے بچوں کے لئے رو زی کما نے سے غرض ہے ۔ ویسے یکم مئی کو ہر فورم پر مزدوری کی فلاح و بہبود کے لئے بڑی بڑی باتیں کی جا تی ہیں ، دعویٰ کیا جا تا ہے مگر ان پر کبھی عمل بھی ہو ا ہے ؟ ہر گز نہیں ، کیونکہ وہ با تیں صرف میڈیا کی زینت بننے کے لئے کی جا تی ہیں ، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے لئے کتنی تگ و دو کر رہی ہے ، کبھی کسی حکومت نے ایسے اقدام اُٹھا ئے ہیں کہ یکم مئی کے دن ان مزدوروں کو جو روزانہ کی بنیاد پر کام کر تے ہیں ، حکومتی سطح پر کوئی وظیفہ دیکر ان کو چھٹی دی گئی ہو ، کیونکہ یکم مئی ان کا دن ہے اور وہ اس دن اپنے فیملی کے ساتھ ہنسی خوشی گزار سکیں ؟
آخر مزدور ہم سے کیا چاہتا ہے ، صرف اپنی محنت کا منا سب اور بر وقت معاوضہ ، مزدوری کے اوقات کار کا تعین اور ستطاعت کے مطابق کام اور برابر کا سلوپک۔لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قوانین تو بنا ئے جا تے ہیں مگر ان پر صحیح معنوں میں عمل در آمد کا خواب آج تک شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہو ئے بتائیں کہ ان کے کیفے ٹیریا میں روٹی سالن اور چائے کے ایک کپ کی کیا قیمت ہے ؟ کیا ان کی قیمت ایک مزدور کی روٹی کے برابر ہے ؟ مزدوروں کی روٹی کی قیمت پانچ روپئے اور جبکہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کی روٹی کی کیا قیمت ہے یہ سب کو پتا ہے ۔ نہیں ؟ نعرے ہم مزدوروں کے حقوق کے لگا تے ہیں اور فائدہ امیروں کو پہنچا تے ہیں ۔ مزدورو ں کے فنڈ کے نام پر کروڑوں روپئے لئے جا تے ہیں اور مزدوروں پر اگر خرچ کر نے کی نو بت آجا ئے تو وہ بڑی مشکل سے ہزاروں میں ہو تی ہے ۔
ہندوستان میں بے روز گاری زیادہ ہو نے کی وجہہ سے مزدور کچھ نہ ملنے سے کچھ مل جا نا بہتر ہے کہ غر ض سے ہر جگہ ایڈ جسمینٹ کر لیتا ہے ۔ اب تو فیکڑیوں میں ٹھیکہ داری نظام چل رہا ہے جس کا فائدہ بھی امیر اُٹھا رہا ہے ۔ وہ مل سے ٹھیکہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ تنخواہ پر لیتا ہے مگر مزدوروں کو کم اجرت دیتا ہے ۔ میرے اپنے ایریا میں کئی ایسی بڑی بڑی فیکڑیاں موجود ہیں جس کا شمار نمبر ایک فیکڑیوں میں ہو تا ہے مگر اس میں ٹھیکہ داری نظام ہو نے کی وجہ سے مزدور کا استحصال ہو رہا ہے ۔ حکومت نے مزدوری کی مزدوری اگر 12000 روپئے مقرر کی ہے تو ٹھیکہ دار مزدور کو آٹھ سے نو ہزار روپئے دے رہا ہے اور غریب مزدو ر خاموشی سے اپنا اور اپنی اولاد کا پیٹ پا لنے کے لئے وہ اتنی کم تنخواہ پر کام کر رہا ہے ۔
کیا ہماری حکومت کو نہیں معلوم کہ مزدوروں کے اتنے کم وسائل میں سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں ؟ دراصل کسی کو کسی کی پرواہ نہیںہے اگر ہے تو صرف میڈیا کے سامنے دو چار لفظ بول کر اپنا نام روشن کر نے کی ۔ اس کے علاوہ آج تک مزدور کے مسائل اور ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بس سال میں ایک بار ”یوم مزدور“ منا کر ذمہ داری پوری کر دی جا تی ہے ، وہ کیسے ؟ فقط ایک دن کی چھٹی کر کے ۔ اس کا مزدور کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے ، مزدور کو اس دن کے لئے کوئی وظیفہ تو ملتا نہیں بلکہ کاروبار بند ہو نے کی وجہ سے اسے کوئی کام بھی نہیں ملتا ۔ ”یوم مزدور “ منانا اتنا ہی ضروری ہے تو ایک دن کے لئے تمام محنت کشوں کو اضافی معاوضہ دیا جا ئے اور محنت کشوں کی محنت کا پھل جس پر ان کے بچوں اور گھروالوں کا حق ہے کسی حکمراں اور سرمایہ داروں کو نہ کھا نے دیا جا ئے ، لیکن کیا کیا جا ئے ، دنیا میں بس دو ہی طبقے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ، ایک سرمایہ دار اور دوسرا مزدور ، پہلا زہر پلا نے پر بضد اور دوسرا زہر پینے پر مجبور ۔ ایک طبقہ مزدور کا ہے ، وہ خواب دیکھتا ہے ، وہ بھی اچھی زندگی کا خواب ، ایسی زندگی جس میں خوشیاں ہو ، امن ہو ، روشن مستقبل ہو ، کو ئی آزار نہ ہو ، بہار ہی بہار ہو۔ایسا خواب دنیا کا ہر انسان دیکھتا ہے ، اسے دیکھنا بھی چاہئے ، یہ اس کا حق ہے کہ وہ یہ خواب دیکھے، ایسے ہی خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے ہی دنیا کا ہر مرد و زن محنت اپنا پسینہ بہا تا ہے اور ضرورت ہو تو اپنا خون بھی ، دوسرا طبقہ جو سرمایہ دار کہلاتا ہے ، وہ مزدوروں کے خوابوں کو کچلنے کے لئے کوشاں رہتا ہے ، وہ مزدوروں کا ان کی محنت کا اجر دیتا تو ہے لیکن اتنا نہیں جتنی وہ محنت کر تے ہیں ۔
لہذا میرے مزدور ساتھیو! یوم مئی کا پیغام یہ ہے کہ بر بادی محنت کش طبقے کا مقدر نہیں ہے ، اس نظام کے جبر سے نجات اس کے خلاف لڑائی اور بغاوت سے ہی ممکن ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ محنت کشوں نے تمام حقوق لڑ کر ہی حاصل کئے ہیں ، کیونکہ مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں ۔ آج تو اس خیرات کی گنجائش بھی اس نظام میں نہیں ہے ۔ حق چھیننا پڑتا ہے ، حیثیت اور اذیت کے اس سماج میں زندہ رہنے کے لئے لڑنا پڑتا ہے ۔ ہمیں حکومت سے ، سرمایہ داروں سے اور سامراجی اداروں سے یہ سب کچھ واپس چھیننا ہے ، ہمیں نسل انسان کے مستقبل کو بچا نے کے لئے جنگ لڑ نا ہو گا اور جیتنا بھی ہو گا ۔ اور یہ سب کچھ صرف خواب نہیں ہے بلکہ عملی طور پر عین ممکن ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور تنظیموں کو مر بوط اور منظم کیا جا ئے اور مسلسل جدوجہد کر تے ہو ئے پیش قدمی کی جا ئے ۔ یہی ایک راستہ ہے جو مزدور کے حقوق کا ضامن بن سکتا ہے ۔












