• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 21, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

”مزدور ساتھیو!مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں “

قیصر محمود عراقی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مئی 1, 2023
0 0
A A
”مزدور ساتھیو!مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں “
Share on FacebookShare on Twitter

آج یکم مئی ہے جسے ”یوم مزدور “ کے نام سے جا نا جا تا ہے ۔ 1886 میں اپنے حقوق حاصل کر نے کے لئے محنت کشوں نے احتجاج کیا اور اس کی پاداش میں انھیں ہزاروں جا نوں کی قربانی دینا پڑی۔ ان ہی قربانیوں کی یا دمیں ہر سال یکم مئی کو ”یوم ِمزدور “ منایا جا تا ہے ۔ اس دن سیمینار بھی کروائے جا تے ہیں اور مزدوروں سے یکجہتی کے لئے مختلف پروگرام کا انعقاد کروایا جا تا ہے ، جن میں ہمارے سیاسی رہنما، بیو رو کریٹس سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہو تے ہیں ۔ مزدوروں کے حق میں نعرے لگا ئے جا تے ہیں ، تقاریر کی جا تی ہیں ، لیکچر جھا ڑے جا تے ہیں ،مگر حقیقت یہ ہے کہ مزدور کے اوقات کس قدر تلخ ہیں ، اس بارے میں انھیں اندازہ ہی نہیں ہو تا ۔ ہمارے یہاں مزدور کے معیاری زندگی کو بہتر بنا نے کے لئے یونہی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا تے ہیں ، ہماری حکومتیں صرف اپنے ووٹ بینک کو بڑھا نے یا قائم رکھنے کے لئے محض اشتہارات چلوا نے پر اکتفا کئے ہو ئے ہیں جب کہ عملی اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہے۔ آج بھی مزدور کو کھا نے کے لئے دو وقت کا کھانا میسر ہے اور نہ پہننے کے لئے کپڑے جبکہ سرڈھا نپنے کے لئے چھت بھی میسر نہیں ۔
جو لوگ دوسروں کے آرام کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں ، وہ خود کو اور اپنے بچوں کو راحت پہنچا نے کے لئے ترستے ہو ئے اس دنیا سے کوچ کر جا تے ہیں ، جبکہ یہ صاحب شروت لوگ اپنی عیاشیوں میں اسقدر مست ہو تے ہیں کہ انھیں اور کسی کے با رے میں جا ننے کے لئے وقت ہی نہیں ہو تا ۔ ”یوم مزدور“ کو جہاں ایک طرف مزدور کی محنت کا لفظی طور پر اعتراف کیا جا تا ہے اور ان کے حقوق کی بات (چاہے صرف تقریروں کی حد تک ہو) کی جا تی ہے ، وہیں اس دن ، دن بھر کی محنت و مشقت کر کے دو وقت کی روٹی کما نے والے کی کیا حالت ہو تی ہے، یہ کوئی نہیں دیکھتا ۔ ستم کی بات تو یہ ہے کہ ان مزدوروں کا اور فائدہ امیر اُٹھا تے ہیں ، کبھی کسی این جی او یا سماجی تنظیم نے اس دن کے مو قع پر کسی مزدور کو مہمان خصو صی بلایا ہے ؟ نہیں ۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی دن کسی کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے تو پھر اس دن اُس شخصیت کو ہر جگہ اہمیت حاصل ہو تی ہے ، ہر کوئی اس کے نا زو نخرے بر داشت کر تا ہے ، مگر ادھر آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ، نام مزدوروں کا دن ہو تا ہے اور اہمیت امیروں کو دی جا تی ہے ۔ یکم مئی کو جب بڑی بڑی ہوٹلوں اور اسے ہالوں میں مزدوروں کے نام پر پروگرامز ہو رہے ہو تے ہیں تو اس پروگرامز میں غریب مزدور کو داخل بھی نہیں ہو نے دیا جا تا ۔ ہال میں وہ لوگ داخل ہو نگے جس کا اسٹیندرڈ امیروں جیسا ہو گا ۔ اگر سیمیناروں میں بیٹھنے والے مزدور ہیں تو پھر اس دن فیکڑیوں ، کارخانوں اور راج گیروں کے ساتھ مزدوری کر رہے ہیں وہ کون ہیں ؟
یکم مئی کو مزدور ہر روز کی طرح اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت کر تے ہیں ، ان کو اس دن سے کوئی سر و کار نہیں ، بس اپنے بچوں کے لئے رو زی کما نے سے غرض ہے ۔ ویسے یکم مئی کو ہر فورم پر مزدوری کی فلاح و بہبود کے لئے بڑی بڑی باتیں کی جا تی ہیں ، دعویٰ کیا جا تا ہے مگر ان پر کبھی عمل بھی ہو ا ہے ؟ ہر گز نہیں ، کیونکہ وہ با تیں صرف میڈیا کی زینت بننے کے لئے کی جا تی ہیں ، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے لئے کتنی تگ و دو کر رہی ہے ، کبھی کسی حکومت نے ایسے اقدام اُٹھا ئے ہیں کہ یکم مئی کے دن ان مزدوروں کو جو روزانہ کی بنیاد پر کام کر تے ہیں ، حکومتی سطح پر کوئی وظیفہ دیکر ان کو چھٹی دی گئی ہو ، کیونکہ یکم مئی ان کا دن ہے اور وہ اس دن اپنے فیملی کے ساتھ ہنسی خوشی گزار سکیں ؟
آخر مزدور ہم سے کیا چاہتا ہے ، صرف اپنی محنت کا منا سب اور بر وقت معاوضہ ، مزدوری کے اوقات کار کا تعین اور ستطاعت کے مطابق کام اور برابر کا سلوپک۔لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قوانین تو بنا ئے جا تے ہیں مگر ان پر صحیح معنوں میں عمل در آمد کا خواب آج تک شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہو ئے بتائیں کہ ان کے کیفے ٹیریا میں روٹی سالن اور چائے کے ایک کپ کی کیا قیمت ہے ؟ کیا ان کی قیمت ایک مزدور کی روٹی کے برابر ہے ؟ مزدوروں کی روٹی کی قیمت پانچ روپئے اور جبکہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کی روٹی کی کیا قیمت ہے یہ سب کو پتا ہے ۔ نہیں ؟ نعرے ہم مزدوروں کے حقوق کے لگا تے ہیں اور فائدہ امیروں کو پہنچا تے ہیں ۔ مزدورو ں کے فنڈ کے نام پر کروڑوں روپئے لئے جا تے ہیں اور مزدوروں پر اگر خرچ کر نے کی نو بت آجا ئے تو وہ بڑی مشکل سے ہزاروں میں ہو تی ہے ۔
ہندوستان میں بے روز گاری زیادہ ہو نے کی وجہہ سے مزدور کچھ نہ ملنے سے کچھ مل جا نا بہتر ہے کہ غر ض سے ہر جگہ ایڈ جسمینٹ کر لیتا ہے ۔ اب تو فیکڑیوں میں ٹھیکہ داری نظام چل رہا ہے جس کا فائدہ بھی امیر اُٹھا رہا ہے ۔ وہ مل سے ٹھیکہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ تنخواہ پر لیتا ہے مگر مزدوروں کو کم اجرت دیتا ہے ۔ میرے اپنے ایریا میں کئی ایسی بڑی بڑی فیکڑیاں موجود ہیں جس کا شمار نمبر ایک فیکڑیوں میں ہو تا ہے مگر اس میں ٹھیکہ داری نظام ہو نے کی وجہ سے مزدور کا استحصال ہو رہا ہے ۔ حکومت نے مزدوری کی مزدوری اگر 12000 روپئے مقرر کی ہے تو ٹھیکہ دار مزدور کو آٹھ سے نو ہزار روپئے دے رہا ہے اور غریب مزدو ر خاموشی سے اپنا اور اپنی اولاد کا پیٹ پا لنے کے لئے وہ اتنی کم تنخواہ پر کام کر رہا ہے ۔
کیا ہماری حکومت کو نہیں معلوم کہ مزدوروں کے اتنے کم وسائل میں سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں ؟ دراصل کسی کو کسی کی پرواہ نہیںہے اگر ہے تو صرف میڈیا کے سامنے دو چار لفظ بول کر اپنا نام روشن کر نے کی ۔ اس کے علاوہ آج تک مزدور کے مسائل اور ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بس سال میں ایک بار ”یوم مزدور“ منا کر ذمہ داری پوری کر دی جا تی ہے ، وہ کیسے ؟ فقط ایک دن کی چھٹی کر کے ۔ اس کا مزدور کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے ، مزدور کو اس دن کے لئے کوئی وظیفہ تو ملتا نہیں بلکہ کاروبار بند ہو نے کی وجہ سے اسے کوئی کام بھی نہیں ملتا ۔ ”یوم مزدور “ منانا اتنا ہی ضروری ہے تو ایک دن کے لئے تمام محنت کشوں کو اضافی معاوضہ دیا جا ئے اور محنت کشوں کی محنت کا پھل جس پر ان کے بچوں اور گھروالوں کا حق ہے کسی حکمراں اور سرمایہ داروں کو نہ کھا نے دیا جا ئے ، لیکن کیا کیا جا ئے ، دنیا میں بس دو ہی طبقے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ، ایک سرمایہ دار اور دوسرا مزدور ، پہلا زہر پلا نے پر بضد اور دوسرا زہر پینے پر مجبور ۔ ایک طبقہ مزدور کا ہے ، وہ خواب دیکھتا ہے ، وہ بھی اچھی زندگی کا خواب ، ایسی زندگی جس میں خوشیاں ہو ، امن ہو ، روشن مستقبل ہو ، کو ئی آزار نہ ہو ، بہار ہی بہار ہو۔ایسا خواب دنیا کا ہر انسان دیکھتا ہے ، اسے دیکھنا بھی چاہئے ، یہ اس کا حق ہے کہ وہ یہ خواب دیکھے، ایسے ہی خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے ہی دنیا کا ہر مرد و زن محنت اپنا پسینہ بہا تا ہے اور ضرورت ہو تو اپنا خون بھی ، دوسرا طبقہ جو سرمایہ دار کہلاتا ہے ، وہ مزدوروں کے خوابوں کو کچلنے کے لئے کوشاں رہتا ہے ، وہ مزدوروں کا ان کی محنت کا اجر دیتا تو ہے لیکن اتنا نہیں جتنی وہ محنت کر تے ہیں ۔
لہذا میرے مزدور ساتھیو! یوم مئی کا پیغام یہ ہے کہ بر بادی محنت کش طبقے کا مقدر نہیں ہے ، اس نظام کے جبر سے نجات اس کے خلاف لڑائی اور بغاوت سے ہی ممکن ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ محنت کشوں نے تمام حقوق لڑ کر ہی حاصل کئے ہیں ، کیونکہ مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں ۔ آج تو اس خیرات کی گنجائش بھی اس نظام میں نہیں ہے ۔ حق چھیننا پڑتا ہے ، حیثیت اور اذیت کے اس سماج میں زندہ رہنے کے لئے لڑنا پڑتا ہے ۔ ہمیں حکومت سے ، سرمایہ داروں سے اور سامراجی اداروں سے یہ سب کچھ واپس چھیننا ہے ، ہمیں نسل انسان کے مستقبل کو بچا نے کے لئے جنگ لڑ نا ہو گا اور جیتنا بھی ہو گا ۔ اور یہ سب کچھ صرف خواب نہیں ہے بلکہ عملی طور پر عین ممکن ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور تنظیموں کو مر بوط اور منظم کیا جا ئے اور مسلسل جدوجہد کر تے ہو ئے پیش قدمی کی جا ئے ۔ یہی ایک راستہ ہے جو مزدور کے حقوق کا ضامن بن سکتا ہے ۔

قیصر محمود عراقی

”مزدور ساتھیو!مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں “
آج یکم مئی ہے جسے ”یوم مزدور “ کے نام سے جا نا جا تا ہے ۔ 1886 میں اپنے حقوق حاصل کر نے کے لئے محنت کشوں نے احتجاج کیا اور اس کی پاداش میں انھیں ہزاروں جا نوں کی قربانی دینا پڑی۔ ان ہی قربانیوں کی یا دمیں ہر سال یکم مئی کو ”یوم ِمزدور “ منایا جا تا ہے ۔ اس دن سیمینار بھی کروائے جا تے ہیں اور مزدوروں سے یکجہتی کے لئے مختلف پروگرام کا انعقاد کروایا جا تا ہے ، جن میں ہمارے سیاسی رہنما، بیو رو کریٹس سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہو تے ہیں ۔ مزدوروں کے حق میں نعرے لگا ئے جا تے ہیں ، تقاریر کی جا تی ہیں ، لیکچر جھا ڑے جا تے ہیں ،مگر حقیقت یہ ہے کہ مزدور کے اوقات کس قدر تلخ ہیں ، اس بارے میں انھیں اندازہ ہی نہیں ہو تا ۔ ہمارے یہاں مزدور کے معیاری زندگی کو بہتر بنا نے کے لئے یونہی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جا تے ہیں ، ہماری حکومتیں صرف اپنے ووٹ بینک کو بڑھا نے یا قائم رکھنے کے لئے محض اشتہارات چلوا نے پر اکتفا کئے ہو ئے ہیں جب کہ عملی اقدامات نہ ہو نے کے برابر ہے۔ آج بھی مزدور کو کھا نے کے لئے دو وقت کا کھانا میسر ہے اور نہ پہننے کے لئے کپڑے جبکہ سرڈھا نپنے کے لئے چھت بھی میسر نہیں ۔
جو لوگ دوسروں کے آرام کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں ، وہ خود کو اور اپنے بچوں کو راحت پہنچا نے کے لئے ترستے ہو ئے اس دنیا سے کوچ کر جا تے ہیں ، جبکہ یہ صاحب شروت لوگ اپنی عیاشیوں میں اسقدر مست ہو تے ہیں کہ انھیں اور کسی کے با رے میں جا ننے کے لئے وقت ہی نہیں ہو تا ۔ ”یوم مزدور“ کو جہاں ایک طرف مزدور کی محنت کا لفظی طور پر اعتراف کیا جا تا ہے اور ان کے حقوق کی بات (چاہے صرف تقریروں کی حد تک ہو) کی جا تی ہے ، وہیں اس دن ، دن بھر کی محنت و مشقت کر کے دو وقت کی روٹی کما نے والے کی کیا حالت ہو تی ہے، یہ کوئی نہیں دیکھتا ۔ ستم کی بات تو یہ ہے کہ ان مزدوروں کا اور فائدہ امیر اُٹھا تے ہیں ، کبھی کسی این جی او یا سماجی تنظیم نے اس دن کے مو قع پر کسی مزدور کو مہمان خصو صی بلایا ہے ؟ نہیں ۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی دن کسی کے نام سے منسوب کیا جا تا ہے تو پھر اس دن اُس شخصیت کو ہر جگہ اہمیت حاصل ہو تی ہے ، ہر کوئی اس کے نا زو نخرے بر داشت کر تا ہے ، مگر ادھر آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے ، نام مزدوروں کا دن ہو تا ہے اور اہمیت امیروں کو دی جا تی ہے ۔ یکم مئی کو جب بڑی بڑی ہوٹلوں اور اسے ہالوں میں مزدوروں کے نام پر پروگرامز ہو رہے ہو تے ہیں تو اس پروگرامز میں غریب مزدور کو داخل بھی نہیں ہو نے دیا جا تا ۔ ہال میں وہ لوگ داخل ہو نگے جس کا اسٹیندرڈ امیروں جیسا ہو گا ۔ اگر سیمیناروں میں بیٹھنے والے مزدور ہیں تو پھر اس دن فیکڑیوں ، کارخانوں اور راج گیروں کے ساتھ مزدوری کر رہے ہیں وہ کون ہیں ؟
یکم مئی کو مزدور ہر روز کی طرح اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت کر تے ہیں ، ان کو اس دن سے کوئی سر و کار نہیں ، بس اپنے بچوں کے لئے رو زی کما نے سے غرض ہے ۔ ویسے یکم مئی کو ہر فورم پر مزدوری کی فلاح و بہبود کے لئے بڑی بڑی باتیں کی جا تی ہیں ، دعویٰ کیا جا تا ہے مگر ان پر کبھی عمل بھی ہو ا ہے ؟ ہر گز نہیں ، کیونکہ وہ با تیں صرف میڈیا کی زینت بننے کے لئے کی جا تی ہیں ، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے لئے کتنی تگ و دو کر رہی ہے ، کبھی کسی حکومت نے ایسے اقدام اُٹھا ئے ہیں کہ یکم مئی کے دن ان مزدوروں کو جو روزانہ کی بنیاد پر کام کر تے ہیں ، حکومتی سطح پر کوئی وظیفہ دیکر ان کو چھٹی دی گئی ہو ، کیونکہ یکم مئی ان کا دن ہے اور وہ اس دن اپنے فیملی کے ساتھ ہنسی خوشی گزار سکیں ؟
آخر مزدور ہم سے کیا چاہتا ہے ، صرف اپنی محنت کا منا سب اور بر وقت معاوضہ ، مزدوری کے اوقات کار کا تعین اور ستطاعت کے مطابق کام اور برابر کا سلوپک۔لیکن ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں قوانین تو بنا ئے جا تے ہیں مگر ان پر صحیح معنوں میں عمل در آمد کا خواب آج تک شر مندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہو ئے بتائیں کہ ان کے کیفے ٹیریا میں روٹی سالن اور چائے کے ایک کپ کی کیا قیمت ہے ؟ کیا ان کی قیمت ایک مزدور کی روٹی کے برابر ہے ؟ مزدوروں کی روٹی کی قیمت پانچ روپئے اور جبکہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کی روٹی کی کیا قیمت ہے یہ سب کو پتا ہے ۔ نہیں ؟ نعرے ہم مزدوروں کے حقوق کے لگا تے ہیں اور فائدہ امیروں کو پہنچا تے ہیں ۔ مزدورو ں کے فنڈ کے نام پر کروڑوں روپئے لئے جا تے ہیں اور مزدوروں پر اگر خرچ کر نے کی نو بت آجا ئے تو وہ بڑی مشکل سے ہزاروں میں ہو تی ہے ۔
ہندوستان میں بے روز گاری زیادہ ہو نے کی وجہہ سے مزدور کچھ نہ ملنے سے کچھ مل جا نا بہتر ہے کہ غر ض سے ہر جگہ ایڈ جسمینٹ کر لیتا ہے ۔ اب تو فیکڑیوں میں ٹھیکہ داری نظام چل رہا ہے جس کا فائدہ بھی امیر اُٹھا رہا ہے ۔ وہ مل سے ٹھیکہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ تنخواہ پر لیتا ہے مگر مزدوروں کو کم اجرت دیتا ہے ۔ میرے اپنے ایریا میں کئی ایسی بڑی بڑی فیکڑیاں موجود ہیں جس کا شمار نمبر ایک فیکڑیوں میں ہو تا ہے مگر اس میں ٹھیکہ داری نظام ہو نے کی وجہ سے مزدور کا استحصال ہو رہا ہے ۔ حکومت نے مزدوری کی مزدوری اگر 12000 روپئے مقرر کی ہے تو ٹھیکہ دار مزدور کو آٹھ سے نو ہزار روپئے دے رہا ہے اور غریب مزدو ر خاموشی سے اپنا اور اپنی اولاد کا پیٹ پا لنے کے لئے وہ اتنی کم تنخواہ پر کام کر رہا ہے ۔
کیا ہماری حکومت کو نہیں معلوم کہ مزدوروں کے اتنے کم وسائل میں سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں ؟ دراصل کسی کو کسی کی پرواہ نہیںہے اگر ہے تو صرف میڈیا کے سامنے دو چار لفظ بول کر اپنا نام روشن کر نے کی ۔ اس کے علاوہ آج تک مزدور کے مسائل اور ان کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بس سال میں ایک بار ”یوم مزدور“ منا کر ذمہ داری پوری کر دی جا تی ہے ، وہ کیسے ؟ فقط ایک دن کی چھٹی کر کے ۔ اس کا مزدور کو کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے ، مزدور کو اس دن کے لئے کوئی وظیفہ تو ملتا نہیں بلکہ کاروبار بند ہو نے کی وجہ سے اسے کوئی کام بھی نہیں ملتا ۔ ”یوم مزدور “ منانا اتنا ہی ضروری ہے تو ایک دن کے لئے تمام محنت کشوں کو اضافی معاوضہ دیا جا ئے اور محنت کشوں کی محنت کا پھل جس پر ان کے بچوں اور گھروالوں کا حق ہے کسی حکمراں اور سرمایہ داروں کو نہ کھا نے دیا جا ئے ، لیکن کیا کیا جا ئے ، دنیا میں بس دو ہی طبقے ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم ، ایک سرمایہ دار اور دوسرا مزدور ، پہلا زہر پلا نے پر بضد اور دوسرا زہر پینے پر مجبور ۔ ایک طبقہ مزدور کا ہے ، وہ خواب دیکھتا ہے ، وہ بھی اچھی زندگی کا خواب ، ایسی زندگی جس میں خوشیاں ہو ، امن ہو ، روشن مستقبل ہو ، کو ئی آزار نہ ہو ، بہار ہی بہار ہو۔ایسا خواب دنیا کا ہر انسان دیکھتا ہے ، اسے دیکھنا بھی چاہئے ، یہ اس کا حق ہے کہ وہ یہ خواب دیکھے، ایسے ہی خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے ہی دنیا کا ہر مرد و زن محنت اپنا پسینہ بہا تا ہے اور ضرورت ہو تو اپنا خون بھی ، دوسرا طبقہ جو سرمایہ دار کہلاتا ہے ، وہ مزدوروں کے خوابوں کو کچلنے کے لئے کوشاں رہتا ہے ، وہ مزدوروں کا ان کی محنت کا اجر دیتا تو ہے لیکن اتنا نہیں جتنی وہ محنت کر تے ہیں ۔
لہذا میرے مزدور ساتھیو! یوم مئی کا پیغام یہ ہے کہ بر بادی محنت کش طبقے کا مقدر نہیں ہے ، اس نظام کے جبر سے نجات اس کے خلاف لڑائی اور بغاوت سے ہی ممکن ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ محنت کشوں نے تمام حقوق لڑ کر ہی حاصل کئے ہیں ، کیونکہ مصلحت اور دعاؤں سے خیرات ملتی ہے حق نہیں ۔ آج تو اس خیرات کی گنجائش بھی اس نظام میں نہیں ہے ۔ حق چھیننا پڑتا ہے ، حیثیت اور اذیت کے اس سماج میں زندہ رہنے کے لئے لڑنا پڑتا ہے ۔ ہمیں حکومت سے ، سرمایہ داروں سے اور سامراجی اداروں سے یہ سب کچھ واپس چھیننا ہے ، ہمیں نسل انسان کے مستقبل کو بچا نے کے لئے جنگ لڑ نا ہو گا اور جیتنا بھی ہو گا ۔ اور یہ سب کچھ صرف خواب نہیں ہے بلکہ عملی طور پر عین ممکن ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور تنظیموں کو مر بوط اور منظم کیا جا ئے اور مسلسل جدوجہد کر تے ہو ئے پیش قدمی کی جا ئے ۔ یہی ایک راستہ ہے جو مزدور کے حقوق کا ضامن بن سکتا ہے ۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist