آپ اکثر یہ جملہ سنتے ہیں کہ” سیاست بہت گندی چیز ہے“۔یہ جملہ اس کثرت سے بولا گیا کہ شریف لوگ سیاست سے دور رہنے لگے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج سیاسی رہنماؤں کی نوے فیصد تعداد بدعنوان ہے ۔ہر ریاستی اسمبلی میں قابل ذکر تعداد ان نمائندوں کی ہے جن پر مقدمات ہیں ۔وزرائے اعلیٰ تک پر سنگین الزامات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ملک کا پارلیمان جسے جمہوریت کا مندر کہا جاتا ہے اس میں کتنے ہی لوگ براجمان ہیں جن پر ناقابل بیان الزامات ہیں۔یہ میدان اس غلاظت سے اس قدر آلودہ ہوا کہ نامی گرامی بدمعاشوں نے خود کو سزاؤں سے محفوظ رکھنے کے لیے سفید لباس پہن لیے ۔وہ لوگ جنھوں نے عوام کو کبھی اپنی بندوق کے زور پر لوٹا تھا نیتا بن کر سرکار اور عوام دونوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے ۔سیاسی پارٹیاں ان کی طاقت اور پیسے سے مستفید ہونے لگیں ۔الیکشن کمیشن کی لاکھ کوششوں کے باوجود انتخابات میں دولت کا استعمال مسلسل بڑھتا رہا ۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ گاؤں کی پردھانی کے الیکشن میں بھی بیس تیس لاکھ روپے سے لے کر پچاس لاکھ روپے تک خرچ ہونے لگے ۔بلدیاتی الیکشن میں چیرمین شپ کا خرچ کروڑ کے ہندسے کو چھونے لگا ۔’سبھاسد‘جیسا معمولی الیکشن وہی لڑ سکتا ہے جس کے پاس چار پانچ لاکھ روپے برباد کرنے کے لیے ہوں ۔دہلی ایم سی ڈی چناؤ میں حصہ لینے والے بھی پچاس لاکھ روپے کا ہندسہ پار کرگئے ۔گویا اب سیاست کرنے کے لیے بازوؤں کی طاقت کے ساتھ پیسہ کی طاقت بھی درکار ہے ۔
اترپردیش میں اس وقت بلدیاتی الیکشن ہورہے ہیں ۔میں یوپی کے ایک چھوٹے سے شہر میں رہتا ہوں ۔مجھے اس وقت حیرت ہوتی ہے جب یہ سنتا ہوں کہ فلاں امیدوار نے دو کروڑ روپے خرچ کردیے ہیں یا فلاں امید وار پانچ کروڑ بھی خرچ کرسکتا ہے ۔چیرمین سے لے کرمحلہ کی وارڈ ممبری کے امیدواران کے دفتروں پر چائے ،پکوڑی ،مرغا چل رہا ہے ۔شراب پینے والے مفت میں پی پی کر مست ہورہے ہیں ۔کسی امیدوارنے ہوٹل طے کردیے ہیں تو کسی نے شراب خانے ۔امیدوار کی پرچی دکھاؤاور اپنی بھوک اورتشنگی مٹاؤ ۔کوئی گھر گھر مرغ تقسیم کررہا ہے ،کوئی مٹھائی کاڈبہ پہنچا رہا ہے ۔ہر امید وار عوامی خدمت کے لیے اتاؤلا ہوا جارہا ہے ۔اسٹیج سے چینخ چینخ کر کہہ رہا ہے کہ مجھے ووٹ دیجیے میں شہر کا وکاس کروں گا ۔ حالانکہ دیش کی جنتا کا 2014کے بعد سے وکاس لفظ پر سے ہی اعتماد اٹھ گیا ہے ۔سوچتا ہوں کہ اس لفظ کو جس کا وجود ہی نہیں ڈکشنری سے نکال دینا چاہئے ۔ ایک آدرش وادی پارٹی وکاس کے بلند بانگ دعوؤں اور اچھے دن کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی اور عوام کے ایسے دن آگئے کہ وہ اپنے برے دنوں کو یاد کرکے خوش ہونے لگے ۔
میں پوچھتا ہوں کہ کیا عوام کی خدمت صرف چیرمین اور میئر بن کر ہی کی جاسکتی ہے ۔اگر ایسا ہی ہے تو اب تک جو لوگ چیر مین رہے انھوں نے کون سی خدمت انجام دی ؟یا جو یہ دعوے کررہے ہیں انھوں نے اب تک عوامی فلاح و بہبود کا کونسا قابل ذکر کارنامہ انجام دیا ہے ۔کچھ شہروں میں گزشتہ بیس تیس سال سے ایک ہی شخص چیر مین ہے ،لیکن وہاں کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے ۔نہ کوئی تعلیمی ادارہ ،نہ کوئی اسپتال ،نہ کوئی لائبریری،نہ روزگار کے مواقع،نہ صاف ستھری سڑکیں ،ذرا سی بارش ہوجائے تو سڑکیں تالاب بن جائیں ۔یہ کسی ایک شہر کا حال نہیں ہے بلکہ نوے فیصد شہروں میں یہی صورت حال ہے ۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک طرف مرکزی و ریاستی حکومتیں عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں کا اعلان کرتے نہیں تھکتیں ،دوسری طرف ہرسال کے بجٹ میں اربوں روپے ان اسکیموں میں مختص کیے جارہے ہیں ،پھر بھی وکاس نام کا کوئی پرندہ نظر نہیں آتا ۔آخر پانچ سال اور کروڑوں اربوںروپے کہا جارہے ہیں ؟عوام کہتی ہے کہ نیتا اپنے گھر بھر رہے ہیں۔اپنی جائدادیں بنا رہے ہیں ۔ الیکشن میں جو پیسہ خرچ کیا تھا اسے حاصل کرنے اور آنے والے الیکشن کو جیتنے کے لیے پیسہ جمع کرنے میں پانچ سال نکال رہے ہیں ۔
کیایہ منظر نامہ کبھی بدل سکتا ہے ؟کیا وہ دور آئے گا جب اچھے لوگ عوام کی نمائندگی کریں گے اور ملک و قوم کی خوش حالی اور خیرخواہی کے لیے کام کریں گے ؟ ہمارے ایک دوست نے اک بار سبھا سد کا الیکشن لڑا ۔وہ ہار گیا ۔جب کہ وہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ تھا ،شریف النفس تھا ۔اس کے محلہ کے لوگ اس کی شرافت کی گواہی تو دیتے رہے لیکن اسے ووٹ نہیں دیا ۔وہ تیسرے نمبر پر رہا ۔اس وارڈ میں کل 550ووٹ تھے ، 360 ووٹ ڈالے گئے ،جیتنے والے کو 150 ووٹ ملے ،دوسرے نمبر رہنے والے کو 125ووٹ ملے ،ہمارے شریف دوست کو 85ووٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔اس بار اس نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا ۔ اس کا کہنا کہ لوگ اچھے کردار کے نام پر نہیں بلکہ پیسے لے کر کرپٹ لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں یا ذات برادری میں تقسیم ہوجاتے ہیں ۔ان کی یہ مایوسی کیا ہمارے سماج کے لیے سود مند ہے؟
ایسا نہیں ہے کہ سماج میں نیک اور شریف لوگوں کی تعداد کم ہے ۔لیکن زیادہ تر شریف لوگ اپنی شرافت کے جبہ میں قید ہیں،وہ سیاست کو گندہ کہہ کر پیچھے رہتے ہیں ۔ حالانکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان شریفوں کو ہی ہوتا ہے ۔اگر وہ متحد ہوکر حرکت میں آجائیں تو غیر شریف لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں ۔اس لیے کہ نیکی میں بدی سے زیادہ طاقت ہوتی ہے ۔نیکی کو خدا کی حمایت حاصل ہوتی ہے ۔لیکن بدی اس لیے جیت جاتی ہے کہ نیکی گوشہ عافیت میں بیٹھی تماشہ دیکھتی رہتی ہے جب کہ بدی اپنے تمام وسائل کے ساتھ میدان میں دندناتی پھرتی ہے ۔
سیاست میں گندگی کے در آنے کا ایک سبب یہ نقطہ نظر بھی ہے کہ سیاست کا دین و مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ،اس عمل میں کوئی ثواب نہیں ہے ،سیاست کرنے سے خدا خوش نہیں ہوتا ،سیاست کرنے سے جنت نہیں ملے گی ۔اس نقطہ نظر نے مسلم امت کو اقتدار سے محروم کرنے میں برا رول ادا کیا ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ خاص پولنگ کے دن بھی ایک بڑی تعداد ’اللہ کی راہ ‘میں نکلی ہوئی ہوتی ہے اور اپنے ووٹ کا استعمال تک نہیں کرتی ۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ نظریہ قرآن و حدیث کی کس نص سے اخذ کیا گیا ہے ۔میں تو اتنا جانتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ موجودہ سیاسی نظام کو اسلامی نظام سے بدل دیں ۔اسی کو قرآن کی زبان میں ” لیظہرہ علی الدین کلہ“(تاکہ وہ تمام ادیان پر اس کو یعنی اللہ کے دین کوغالب کردے )کہا گیا ہے۔خلفائے راشدین کے سیاسی نظام کو آئیڈیل ماننے والے اورحضرت عمرؓ جیسی خلافت و حکومت کی توقع کرنے والے سیاست کو غلیظ سمجھ کر خود بھی کنارہ کشی کے ہوئے ہیں اور دوسروں کی بھی ہمتیں پست کررہے ہیں ،آپ یہ بات کیوں نہیںسمجھتے کہ اس عمل سے شیطانی قوتوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور وہ طاقت میں آکرحجرے،مسجدیں ،مدرسے اور خانقاہیں بھی آپ پر تنگ کررہے ہیں ۔ جب تک شرافت گوشہ نشینی اور تماش بینی کرتی رہے گی اور عوام پیسہ لے کر یادعوتیں اڑاکر ووٹ دیتی رہے گی اس وقت تک نہ کوئی صالح انقلاب آئے گا اور نہ کوئی منظر بدلے گا ۔
میری رائے ہے کہ سب سے پہلے تو امت مسلمہ کے مذہبی قائدین اس غلط نقطہ نظر کی اصلاح فرمائیں جس کا ذکر میں نے اوپر کیا ہے ۔انھیں ہر منبر و محراب سے یہ بات کہنی چاہئے کہ موجودہ سیاسی نظام میں حصہ لےنا اور حکومت و اقتدار میں شریک ہونا عین تقاضائے دین ہے ۔اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرکے صالح افراد کو کامیاب کرنا ملک کے تابناک مستقبل کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بعد علماءکا ایک گروہ خود عملی سیاست میں حصہ لے کر اپنے اس قول کی عملی گواہی دے کہ سیاست دین کا حصہ ہے ۔اس کو بھی اخلاقی اصولوں پر انجام دینے والے کو اجرو ثواب ملتا ہے ۔آخر جو شخص قاضی شہر ہوسکتا ہے ۔جو ہماری آخرت کے لیے رہنمائی کرسکتا ہے وہ ہماری دنیوی زندگی کا رہنما کیوں نہیں ہوسکتا ؟ کیایہ ائمہ و علماءیا دھرم گرو صرف دعا و آشیرواد کے لیے ہی ہیں ؟شیطان نے دنیا کو خدا سے دور کرنے اور زمین کو فتنہ و فساد سے بھرنے کے لیے یہ چال چلی ہے کہ دین و سیاست کو الگ الگ کردیا اور دنیا کی ساری باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر دینی پیشواؤں کو ذکر اللہ ہو میں مست کردیا ۔ ساری دنیا میں شیطانی نظام اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ کہیں نیک ،ایماندار ،شریف اور مذہبی لوگ حکومت و اقتدار میں آکر اس کی محنت پر پانی نہ پھیردیں۔اس لیے ابلیس نے اپنے کارکنوں کو علامہ اقبال کے الفاظ میں یہ مشورہ دیا ہے۔
مست رکھو ذکر و فکر و صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے












